لیبیا کے جنوبی علاقے، داعش کا نیا ممکنہ محاذ | حالات حاضرہ | DW | 21.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا کے جنوبی علاقے، داعش کا نیا ممکنہ محاذ

دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے لیبیا کے شمالی ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم بنا لی ہے اور ماہرین یہ خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ اب یہ تنظیم ملک کے جنوب مغربی صحرائی علاقے فیضان میں بھی قدم جمانے کی کوشش کرے گی۔

Libyen Kämpfe gegen IS in Sirke

سرت کو آج کل لیبیا میں داعش کے ایک مضبوط ہیڈکوارٹر کی سی حیثیت حاصل ہے

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق الجزائر، نائجر اور چاڈ کے سنگم پر واقع فیضان کا علاقہ اسمگلنگ کے ذریعے پیسہ کمانے کی ایک پُر کشش جگہ ہے اور پہلے سے ’القاعدہ اِن اسلامک مغرب‘ (AQMI) اور دیگر ’جہادی‘ گروپوں کے ارکان کے چھپنے کی جگہ بنا ہوا ہے۔

فیضان کا رُوٹ ویسے بھی بہت مصروف ہے۔ افریقہ کے زیریں صحارا کے علاقے کے جو لوگ ترک وطن کر کے یورپ پہنچنا چاہتے ہیں، وہ بھی یہیں سے ہو کر گزرتے ہیں۔ جو عسکریت پسند کرائے کے سپاہی بننے کے لیے ’اسلامک اسٹیٹ‘ میں شامل ہونا چاہتےہیں، وہ بھی شمالی لیبیا میں واقع شہر سرت تک پہنچنے کے لیے یہیں سے گزر کر آگے جاتے ہیں۔ سرت کو آج کل لیبیا میں داعش کے ایک مضبوط ہیڈکوارٹر کی سی حیثیت حاصل ہے۔

اگر ’اسلامک اسٹیٹ‘ فیضان میں اپنے قدم مضبوط کرنے میں کامیاب ہو گئی تو وہ بڑی آسانی سے نائیجیریا کی شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے ساتھ اپنے روابط اُستوار کر سکے گی۔ دوسری طرف فیضان وہ علاقہ ہے، جہاں تک انٹیلیجنس ایجنسیوں کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ پتہ چلانا آسان نہیں ہے کہ اس صحرائی علاقے میں داعش کا اثر و نفوذ کس حد تک بڑھ چکا ہے۔

’سمال آرمز سروے‘ نامی ایک تھنک ٹینک سے وابستہ محقق جیروم توبیانا نے اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تو اس دہشت گرد تنظیم کی اولین ترجیح یہ ہے کہ وہ لیبیا میں اپنے زیرِ قبضہ شمالی علاقوں میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم بنائے: ’’لیکن دوسری طرف آئی ایس (داعش) کے لیے نائجر کی جانب رُخ کرنا، مغربی افریقہ میں اپنے عسکری بازو بوکوحرام کے ساتھ روابط اُستوار کرنا اور القاعدہ ان اسلامک مغرب کے ساتھ مقابلے پر آنا بھی بہت پُر کشش ہے۔‘‘

مختلف شدت پسند گروہ لیبیا کے جنوبی صحرائی علاقوں میں قدم جمانے کے لیے وہاں آباد قبائل کے درمیان پہلے سے پائے جانے والے تنازعات سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 2011ء کے انقلاب اور معمر القذافی کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے فیضان میں طوارق اور توبو قبائل کے درمیان شدید تنازعہ پایا جاتا ہے۔ دیگر قبائل بھی آپس میں برسرِپیکار ہیں۔ ابھی گزشتہ مہینے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’فیضان میں فوجی اختیارات زیادہ تر قبائلی، جرائم پیشہ اور انتہا پسند گروپوں کے پاس ہیں‘۔

Infografik Stammesgebiete in Libyen (Tribal areas in Libya)

2011ء کے انقلاب اور معمر القذافی کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے لیبیا کے جنوبی علاقوں میں مختلف قبائل آپس میں برسرِپیکار ہیں

چونکہ طوارق نے قذافی کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اس لیے سرِدست فیضان کے علاقے میں اُن کا اثر و رسوخ زیادہ ہے اور علاقے کے وسائل بھی اُنہی کی دسترس میں ہیں۔ ان وسائل میں لیبیا، چاڈ اور نائجر کے سنگم پر واقع سونے کی وہ کانیں بھی شامل ہیں، جو حال ہی میں دریافت ہوئی ہیں۔

طوارق کے حریف قبیلے توبو کو لیبیا کی اُس حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے، جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شُدہ ہے اور جس کا ہیڈکوارٹر طبروق میں ہے۔ طوارق اور دیگر عرب قبائل کو اُس اسلامی اتحاد کی پشت پناہی حاصل ہے، جو آج کل طرابلس سے حکومت کر رہا ہے۔

اشتہار