لیبیا کی خانہ جنگی میں فرانس کیا کر رہا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 11.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

لیبیا کی خانہ جنگی میں فرانس کیا کر رہا ہے؟

جنگجو ٹھکانے سے فرانسیسی فوج کے میزائلوں کی برآمدگی سے اس الزام کو تقویت مل سکتی ہے کہ فرانس لیبیا کی خانہ جنگی کوفروغ دینے میں ملوث ہے۔

فرانس نے تصدیق کی ہے کہ لیبیا کے جنگجو رہنما جنرل خلیفہ ہفتر کے ایک ٹھکانے سے برآمد ہونے والے میزائل فرانسیسی افواج کے ہیں، لیکن یہ میزائل فوج سے گم ہوگئے تھے۔

فرانس پرالزام ہے کہ وہ جنگجو رہنما خلیفہ حفتر کی لیبین نیشنل آرمی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ فرانس ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔

جنرل ہفتر کی ملیشیا دارالحکومت طرابلس میں برسرپیکار ہے۔ اس کے حملوں میں ہزار سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔

 خلیفہ حفتر کے معاملے پر فرانس اور یورپی یونین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

Emmanuel Macron, Fayez al-Sarraj und Khalifa Haftar (picture-alliance/C. Liewig)

خلیفہ حفتر اور ایمانوئل ماکروں مصافحہ کرتے ہوئے

لیبین ملیشیا کے پاس فرانسیسی فوج کے میزائل کی موجودگی کا انکشاف امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکی ایک تازہ رپورٹ میں سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے دستوں نے جون کے مہینے میں جنرل ہفتر کے کیمپ سے امریکی ساخت کے چار 'جیویلین میزائل' برآمد کیے۔

 فرانسیسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ میزائل پیرس حکومت نے ہی یقینی طور پر خریدے تھے۔ حکام کے مطابق انہوں نے کوئی بین القوامی قانون نہیں توڑا اور نہ یہ میزائل لبیا کی کسی ملیشیا کو منتقل کیے گئے تھے۔

پیرس سے جاری ہونے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ میزائل ناقابلِ استعمال ہو جانے کی وجہ سے ایک گودام میں ذخیرہ کیے گئے تھے اوران کو تلف کیا جانا تھا لیکن یہ گم ہو گئے۔ اس بیان میں فرانسیسی حکومت نے یہ کی وضاحت نہیں کہ ذخیرہ کیے گئے ناکارہ میزائل کیسے اورکب لاپتہ ہوگئے تھے۔

شامل شمس (عابد حسین)

DW.COM