لیبیا میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملے | حالات حاضرہ | DW | 02.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملے

پینٹا گون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے لیبیا کے شہر سیرت میں اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ پینٹا گون کے مطابق سیرت میں امریکی حملے جاری رہیں گے۔

Luftangriffe der USA gegen IS

پینٹا گون کے مطابق لیبیا کے شہرسیرت میں امریکی حملے جاری رہیں گے

پینٹاگون کے ایک ترجمان پیٹر کُک کے مطابق لیبیا کی حکومت نے امریکا سے سیرت میں فضائی حملوں کی درخواست کی تھی اور ان حملوں کی اجازت صدر باراک اوباما کی طرف سے دی گئی ہے۔ ان فضائی حملوں کے بعد لیبیا کےوزیر اعظم فیاض سراج نے سرکاری ٹی وی پر دیےگئے ایک بیان میں کہا کہ،’’حملوں سے دشمن کی صفوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔‘‘ لیبیا کی متحدہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے پہلی مرتبہ سیرت کے شہر میں جہادی گروپ داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ سیرت کا شہر لیبیا میں اسلامک سٹیٹ یا داعش کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

اس طرح داعش کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا گیا ہے۔ لیبیا کی موجودہ حکومت کو مغربی دنیا کی حمایت حاصل ہے۔ مغرب کی حمایت یافتہ حکومت اس علاقے میں گزشتہ دو ماہ سے داعش کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے تھی۔ امریکی خفیہ ادارے کے مطابق اس ملک میں داعش کے تقریبا چھ ہزار جنگجو موجود ہیں۔ اس سے قبل امریکا نے فروری کے مہینے میں طرابلس کے مضافات میں سبراتھا کے دیہی مقام پر داعش کے ایک تربیتی کیمپ کو نشانہ بنایا تھا۔ اور ایسی ہی ایک کارروائی گزشتہ برس نومبر میں بھی کی گئی تھی۔

Libyen Regierung Konflikte Fayez al-Sarraj

لیبیا کےوزیر اعظم فیاض سراج نے کہا ہے کہ حملوں سے دشمن کی صفو‌ں کو نقصان پہنچا ہے

پینٹا گون کے ترجمان پیٹر کک کے مطابق پیر کے روز کی جانے والی ایک فضائی کارروائی میں اسلامک سٹیٹ کے ایک ٹینک کو تباہ کر دیا گیا جو شہریوں کونشانہ بنایا کرتا تھا جبکہ ایک دوسری کارروائی میں داعش کی دو مزید گاڑ‌یوں کو نشانہ بنایا گیا جو مقامی فورسز کے لیے خطرہ تھیں۔

کُک نے کسی وضاحت کے بغیر مزید کہا،’’ سیرت میں امریکی حملے جاری رہیں گے۔‘‘ پیٹر کُک کا کہنا تھا کہ امریکا لیبیا میں سلامتی اور استحکام چاہتا ہے اور لیبیا کی حکومت کی حمایت میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ کھڑا ہے۔

DW.COM