لیبیا میں جمعے کی نماز کے دوران مسجد میں دو بم دھماکے | حالات حاضرہ | DW | 09.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

لیبیا میں جمعے کی نماز کے دوران مسجد میں دو بم دھماکے

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں نو فروری کے روز جمعے کی نماز کے دوران نمازیوں سے بھری ایک مقامی مسجد میں دو بم دھماکے کیے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور چالیس کے قریب زخمی ہو گئے۔

دو ہفتے پہلے بھی بن غازی ہی میں ایک مسجد پر دوہرے کار بم حملے میں کم از کم پینتیس افراد مارے گئے تھے

دو ہفتے پہلے بھی بن غازی ہی میں ایک مسجد پر دوہرے کار بم حملے میں کم از کم پینتیس افراد مارے گئے تھے

بن غازی سے جمعے کی سہ پہر موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ دوہرا بم حملہ بن غازی شہر کے مرکزی علاقے الماجوری میں نمازیوں سے بھری ایک مسجد میں جمعے کی نماز کے دوران کیا گیا، جس میں فوری طور پر ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد کم از کم بھی 37 ہے۔ یہ بم دھماکے ایک موبائل فون کو ریموٹ کنٹرول کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کیے گئے۔

لیبیا سے زیادہ تر پاکستانی ہی کیوں یورپ کا رخ کر رہے ہیں؟

لیبیا کے حراستی کیمپوں سے مہاجرین کے پہلے جہاز کی اٹلی آمد

طبی ذرائع کے مطابق ان درجنوں زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے اور اسی لیے خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔ لیبیا کے اسی شہر میں ابھی صرف دو ہفتے قبل بھی دو ایسے بڑے کار بم دھماکے ہوئے تھے، جن میں کم از کم 35 افراد مارے گئے تھے اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ جنوری کے آخری عشرے میں یہ دھماکے بھی بن غازی کے وسطی علاقے میں ایک مسجد کے عین سامنے کیے گئے تھے۔

Libyen Bengasi Libyan National Army LNA Soldaten

مشرقی لیبیا کے بندرگاہی شہر بن غازی کو گزشتہ برس خلیفہ حفتر کی لیبیائی نیشنل آرمی نے اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا

بن غازی شہر کی لیبیا میں سیاسی اور سماجی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 2011ء میں عشروں تک اقتدار میں رہنے والے رہنما معمر قذافی کے خلاف عوامی مظاہروں کا آغاز اسی شہر سے ہوا تھا۔ پھر یہ مظاہرے پھیل کر خانہ جنگی کی شکل اختیا رکر گئے تھے اور بن غازی کی طرح پورا لیبیا بھی شدید انتشار کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔

لیبیا میں مہاجرین پر ’دل دہلا دینے والا تشدد‘، اقوام متحدہ

فرانسیسی وزیر خارجہ لیبیا میں، امن ڈیل کو وسعت دینے کا امکان

قذافی کے دور اقتدار کے بعد کچھ عرصے تک اس شمالی افریقی ملک کا زیادہ تر حصہ مختلف شدت پسند، اسلام پسند مسلح گروپوں کے اتحاد کے کنٹرول میں بھی رہا تھا۔ گزشتہ برس بن غازی شہر کا انتظام مشرقی لیبیا کے وسیع تر علاقوں پر کنٹرول کے حامل فوجی رہنما خلیفہ حفتر کے دستوں نے سنبھال لیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 02:54

لیبیا کے عوام معمول کی زندگی کے خواہاں

بن غازی لیبیا کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے، جس پر فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیائی نیشنل آرمی یا ایل این اے کو کنٹرول تو حاصل ہے لیکن وہاں ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش اور القاعدہ سے منسلک کئی فعال شدت پسند مسلم گروہ ابھی تک موجود ہیں، جن کے خلاف نیشنل آرمی کے دستے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق بن غازی میں یہ بم حملے زیادہ تر انہی شدت پسند گروہوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔

انسانی اسمگلنگ کے خلاف لیبیا اور یورپ متحرک

لیبیا کے صحرا میں انیس تارکین وطن بھوک اور گرمی سے ہلاک

خلیفہ حفتر کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ وہ ان قومی انتخابات کے نتیجے میں اعلیٰ ترین ریاستی یا حکومتی عہدے کے لیے امیدوار ہو سکتے ہیں، جو ممکنہ طور پر اسی سال کے اواخر تک کرائے جائیں گے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic