لیبیا، تارکین وطن کی بند گلی | مہاجرین کا بحران | DW | 11.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

لیبیا، تارکین وطن کی بند گلی

لیبیا میں اطلاعات کے مطابق انسانی اسمگلر اقوام متحدہ کے عملے کا بھیس بدل کر یورپ پہنچنے کے خواہشمند مہاجرین کو ہدف بنا رہے ہیں۔ یو این ایچ سی آر اس معاملے کی تحقیق کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے لیے ادارے یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ اسے معتبر ذرائع سے ایسی رپورٹیں ملی ہیں کہ لیبیا میں انسانی اسمگلر اس عالمی ادارے کے کسی رکن کا روپ دھار کر ان مقامات پر دیکھے گئے ہیں، جہاں پر مہاجرین کو جہازوں سے اتارا جاتا ہے۔

انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث یہ افراد تارکین وطن کو یورپ لے جانے کا جھانسہ دیتے ہیں۔

مہاجرین کے حوالے سے خبریں فراہم کرنے والے یورپی ادارے انفو مائیگرنٹس نے کہا ہے کہ یو این ایچ سی آر کے مطابق اُسے یہ رپورٹ ایسے مہاجرین سے ملی ہے، جنہیں مبینہ طور پر لیبیا میں اسمگلروں کے ہاتھوں فروخت کر کے تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

عالمی ادارہ مہاجرت کے ترجمان بابر بلوچ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اقوام متحدہ کا جعلی نمائندہ بننے والے اسمگلرز، مہاجرین کو جھانسہ دینے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔ بابر بلوچ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے چھان بین کی جا رہی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ لیبیا میں ’عرب اسپرنگ‘ اور آمر معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد سے یہ ملک شورش کا شکار ہے۔ اس سیاسی خلا کے باعث وہاں موجود متحارب گروپ بھی اس شمالی افریقی ملک پر اقتدار کے لیے بر سر پیکار ہیں۔

سن 2011ء میں نیٹو کی سربراہی میں لیبیا میں عسکری مداخلت شروع کی گئی تھی، جس کی وجہ سے معمر قذافی کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ تاہم قذافی کے قتل کے بعد اس ملک میں خانہ جنگی شروع ہو گئی اور متحارب قبائلی گروہ ایک دوسرے کے مد مقابل آ گئے۔

طرابلس میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے لیے ملک میں لاقانونیت اور داخلی خانہ جنگی سے نمٹنے کی کوششوں میں ہے جبکہ اس کے لیے ایک بڑا مسئلہ سب صحارا سے آنے والے مہاجرین اور انہیں یورپ پہنچانے کا جھانسہ دینے والے انسانی اسمگلر بھی ہیں۔

عالمی ادارہ مہاجرت کا کہنا ہے کہ اسے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ان مہاجرین پر شدید مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ اس سے قبل بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں رپورٹ کرتی رہی ہیں کہ لیبیا میں انسانی اسمگلر مہاجرین کو حراستی جیلوں میں رکھتے ہیں جہاں اُنہیں جسمانی و ذہنی اذیت کا نشانہ بنا کر اُ ن کے خاندانوں سے تاوان کے پیسے طلب کیے جاتے ہیں۔‘‘

ص ح / ع ا

DW.COM