ليبيا کو شام بننے سے بچانے کے ليے جرمنی ميں سمٹ | حالات حاضرہ | DW | 19.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ليبيا کو شام بننے سے بچانے کے ليے جرمنی ميں سمٹ

جرمنی اور اقوام متحدہ کی ميزبانی ميں ايک روزہ سمٹ برلن میں جاری ہے جس ميں گيارہ ممالک کے نمائندگان اور ديگر اعلٰی اہلکار شريک ہيں۔ بين الاقوامی برادری کی کوشش ہے کہ ليبيا ميں شام جيسے حالات پيدا نہ ہوں۔

سياسی عدم استحکام و افراتفری کے شکار ملک ليبيا ميں قيام امن کے ليے آج اتوار 19 جنوری کو جرمن دارالحکومت برلن ميں ايک سمٹ جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے زير انتظام اس کانفرنس کی ميزبانی جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کر رہی ہيں جبکہ ديگر اہم ترين شرکاء ميں روسی صدر ولاديمير پوٹن، ترک صدر رجب طيب ايردوآن اور ان کے فرانسيسی ہم منصب ايمانویل ماکروں شامل ہيں۔ اس کانفرنس کا بنيادی مقصد يہ ہے کہ ليبيا ميں بيرونی قوتوں کی مداخلت روکی جائے خواہ وہ کسی بھی فريق کو اسلحے کی فراہمی کی صورت ميں ہو، مالی امداد کی شکل ميں يا افواج کی تربيت کے ذريعے۔ بين الاقوامی برادری کو خدشہ ہے کہ ليبيا کا انجام شام ہی کی طرح کا نہ ہو۔

کانفرنس کے آغاز پر فرانس کے صدر نے اپنے خطاب ميں ترک حمايت يافتہ شامی جنگجوؤں کی ليبيا ميں تعيناتی کے منصوبے کی مذمت کی اور اسے روکنے کا مطالبہ کيا۔ ان کے بقول بيرونی افواج کی ليبيا ميں تعيناتی سے مسلح تنازعے ميں مزيد شدت آ سکتی ہے۔ ترکی اقوام متحدہ کی حمايت يافتہ حکومت کے سربراہ فائض السراج کی معاونت کے ليے سينکڑوں شامی جنگجوؤں کو ليبيا بھيج رہا ہے۔ دوسری جانب اطلاع ہے کہ مخالف فريق خليفہ ہفتر کی مدد کے ليے ماسکو حکومت جنگجو روانہ کر رہی ہے۔

اتوار کی شام سے شروع ہونے والے اس سربراہی اجلاس ميں گيارہ ممالک کی اعلٰی قيادت شريک ہے۔ ديگر اہم مہمانوں ميں برطانوی وزير اعظم بورس جانسن، اطالوی وزير اعظم يوزيپے کونٹے اور امريکی وزير خارجہ مائيک پومپيو بھی شامل ہيں۔ اہم بات يہ ہے کہ ليبيا کے مسلح تنازعے کے مرکزی فریق وزير اعظم فائض سراج اور جنرل خليفہ حفتر بھی برلن ميں موجود ہيں اور سمٹ کے افتتاح سے قبل چانسلر ميرکل اور جرمن وزير خارجہ نے ان سے ملاقات بھی کی۔
خبر رساں اداروں پر اتوار کی شام آنے والی چند رپورٹوں ميں شرکاء کے حوالے سے ايسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہيں کہ وہ کسی سمجھوتے کے قريب ہيں۔ مذاکراتی عمل کے ايک قريبی ذریعے نے روئٹرز کو بتايا کہ تنازعے پر ايک مشترکہ بيانيے پر اتفاق ممکن ہے۔
دريں اثناء ايک مختلف پيش رفت ميں ليبيا کے مشرقی حصوں پر قابض خليفہ حفتر کی وفادار افواج نے تيل کی اہم فيلڈز پر پیداوار روک دی ہے۔ اس پيش رفت سے نہ صرف ليبيا کی اقتصاديات شديد مشکل ميں پڑ سکتی ہيں بلکہ برلن ميں جاری سمٹ پر بھی اس کا منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ حفتر نے اگرچہ پچھلے ہفتے طے پانے والے ايک معاہدے پر مخالفت کے تناظر ميں اس بات چيت ميں شرکت نہ کرنے کا کہا تھا تاہم وہ برلن ميں موجود ہيں۔

ع س / ا ب ا، نيوز ايجنسياں