’لو جہاد‘ حقیقت ہے یا مفروضہ؟ | دستک | DW | 08.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

’لو جہاد‘ حقیقت ہے یا مفروضہ؟

’لو جہاد‘ کے خلاف مہم کا ایک ہی مقصد سمجھ میں آتا ہے کہ ہندو اکثریتی آبادی کو خوف میں مبتلا کر کے مسلمانوں کے ساتھ ان کے سماجی روابط ختم کرائیں جائیں۔ کیا نفرت کی آگ تیار کر کے آپ ہی ایک تندور میں رہ سکتے ہیں؟

کچھ عرصہ قبل پاکستان کے دورے سے واپسی پر جب میں نے ایک معتبر انگریزی اخبار میں اپنے تاثرات قلم بند کيے، تو کئی افراد نے مجھے طعنے ديے کہ میں 'لو جہاد‘ کا شکار ہو گئی ہوں۔ ايک شخص نے اپنے خيالات کا اظہار کرتے وقت لکھا کہ ميں نے 'کسی مسلمان کے بہکاوے میں آ کر پاکستان کی مثبت تصویر کشی کی‘ ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک بھارت میں بین مذہبی شادی کرنا رواداری اور کثیر الجہتی کلچر کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ گوکہ یہ اکثر ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلیم یافتہ اور آزاد خيال طبقو ں تک ہی محدود تھا۔ حکومتیں بھی اس کی حوصلہ افزائی ہی کرتی تھیں۔ میرے ایسے کئی خاندانوں کے ساتھ مراسم ہیں، جن ميں کوئی مسلم بہو اپنے ہندو شوہر، ساس، سسر کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔  ميں ايسے خاندانوں کو بھی میں جانتی ہوں، جہاں ہندو لڑکی مسلم خاندان کا حصہ بنی۔ ان خاندانوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں دیوالی، ہولی کے ساتھ ساتھ مسلم تہوار مثلاً عید وغيرہ بھی منائے جاتے ہیں۔

مگر نہ جانے بھارت کو کس کی نظر لگ گئی ہے کہ اس طرح کی شادیوں کو اب 'لو جہاد‘ کا نام دے کر مطعون کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اگر شوہر مسلمان ہو۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے، ایک کے بعد ایک صوبے ميں ايسی شادیوں کو روکنے کے ليے قانون سازی کی جا رہی ہے۔ اتر پردیش کی حکومت نے گزشتہ ہفتے ہی ایک آرڈیننس منظور کیا اور آئندہ اڑتاليس گھنٹوں کے اندر ہی ایک ایسی شادی رکوا دی گئی اور ایک مسلم نوجوان کو جیل بھیج دیا گيا۔

قانون میں ایسی شقيں شامل کی گئی ہیں کہ کوئی جوڑا، ازدواجی بندھن میں بندھ ہی نہیں پائے گا۔ بھارت میں جہاں 966 ملین ہندو اور صرف 172ملین مسلمان مقيم ہيں، اس طرح کی شادیوں سے خوف زدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر کل ہی سے سبھی مسلمان مرد ہندو لڑکیوں کو اپنانا شروع کر  ديتے ہیں، تب بھی ہندو آبادی کے تناسب کے بگڑنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ سن 2011 کی مردم شماری کے مطابق تو ہندوؤں میں صنفی تناسب کی صورتحال يہ ہے کہ ہر ايک ہزار مردوں کے مقابلے ميں عورتيں 939 ہيں۔ مسلمانوں میں یہ نسبتاً بہتر یعنی 951 ہے۔

افواہیں تو چھوڑ دیجيے، حکومت کی طرف سے اس کو روکنے کے نام پر جو وجوہات بيان کی جا رہی ہیں و ہ کسی مزاحیہ افسانے سے کم نہیں۔ لگتا ہے پطرس بخاری، شوکت تھانوی یا کنہیا لال کپور کی روح بی جے پی اور دیگر ہندو قوم پرست لیڈروں کے اندر حلول کر گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلمان لڑکے ہندوؤں کے بھیس میں دیہاتوں اور قصبوں میں گھومتے رہتے ہیں اور ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنساتے ہیں۔ یہ لڑکے ہندو رسوم و رواج کے اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ وہ پتا ہی نہیں چلنے دیتے ہیں کہ وہ ہندو نہيں ہیں۔ پھر ان بھولی بھالی معصوم لڑکیوں کے ساتھ ازدواجی بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ شادی کے بعد جب پتا چلتا ہے کہ لڑکا مسلمان ہے، تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور پھر لڑکی کا زبردستی مذہب تبدیل کرايا جاتا ہے۔

بتائيے کون سا خاندان بغیر جانچے پرکھے اس طرح اپنی لڑکی کو کسی ایسے غیر لڑکے کے حوالے کرے گا، جس کا کوئی اتہ پتہ ہی نہ ہو۔ بھارت میں شادی سے قبل لڑکے یا لڑکی کی ذات، قبیلہ، آبا و اجداد تک کو ایسا کھنگالا جاتا ہے کہ کوئی ماہر بشریات یا انتھراپولوجسٹ بھی نہیں کر پائے گا۔ اہم بات تو یہ ہے کہ حکومت کے پاس جبراً تبدیلی مذہب کی دلیل کو سہارا دینے کے ليے کوئی اعداد و شمار بھی نہیں ہیں۔ ایک سال قبل ہی وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کے پاس اس طرح کے واقعات کی تفصیلات نہیں ہيں، مگر دوسری طرف بی جے پی کی زیر قیادت صوبائی حکومتیں اس مسئلے کو لے کر قانون سازی کر رہی ہیں۔

بھارت: ’لو جہاد‘ اب غیر ضمانتی جرم ہوگا

بھارت: ’لوجہاد‘ کا ثبوت نہیں مگر اس کے خلاف قانون سازی کا منصوبہ

بھارت: ’لَو جہاد‘ پر نیا سیاسی تنازعہ

حکمران جماعت کے لیڈران دلیل دے رہے ہیں کہ مسلم نوجوانوں کی طرف سے منظم 'لو جہاد‘ ایک طرح سے ہندو آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور بھارت کو مسلم اکثریتی ملک بنانے کے منصوبہ کا حصہ ہے۔ مگر دوسری طرف حیرت ہوتی ہے کہ بی جے پی کے اپنے چوٹی کے مسلمان لیڈران مرکزی وزیر مختار عباس نقوی اور پارٹی کے نائب صدر شاہ نواز حسین نے ہندو خاندانوں میں شادیاں کی ہیں۔ اس قبل بی جے پی کے ایک اور قد آور لیڈر مرحوم سکندر بخت کی بیوی بھی ہندو تھيں۔ اس پورے پراپيگنڈا کے نقیب اور ہندو فرقہ پرستوں کے چہیتے ممبر پارلیمان سبرامنیم سوامی نے خود ایک پارسی خاندان میں شادی کی ہے اور ان کی بیٹی، جو ایک نامور صحافی بھی ہيں، نے ایک مسلمان کے ساتھ شادی کی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نئی دہلی کے نظام الدین ایسٹ علاقے میں دونوں خاندان ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے رہائش پذیر ہیں اور سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ سینئر کشمیری رہنما فاروق عبد اللہ کی بیٹی سارہ کانگریسی لیڈر سچن پائلٹ کے ساتھ ازدواجی بندھن باندھ چکی ہيں۔

حقیقت میں اگر واقعی کسی کام کو کرنے کی ضرورت ہے، تو وہ يہ ہے کہ سن 1954 کے اسپشل میریج ایکٹ میں ترمیم کی جائے اور اسے سہل بنانا جائے، جس کی مدد سے بین المذہبی شادیاں رجسٹر کی جاتی ہیں۔ یہ ایکٹ شادی شدہ جوڑے کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن یہ شوہر کی جائيداد میں بیوی کو وراثت کا حق نہیں دیتا۔ دلیل ہے کہ وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ شاید یہ دفعہ اس ليے رکھی گئی تھی کہ لڑکیاں معاشی سہولیات کی خاطر کسی دولت مند لڑکے سے شادی نہ کریں۔

بین المذہب شادی کرنے والی لڑکی کو شوہر کی وراثت میں اسی طرح کا حق ملنا چاہيے، جس طرح کسی اور خاتون کو ملتا ہے۔ یہ شق اس ليے بھی غلط ہے کہ اگر لڑکے، لڑکی نے والدین کی مرضی کے بغیر شادی کی ہو اور اگر شوہر انتقال کر جاتا ہے، تو لڑکی بے سہارا ہوکر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ قانون میں ترمیم کر کے لڑکی کو وراثت کا حق دلانے کے ليے مہم چلانے کی ضرورت ہے نہ کہ ووٹ بٹورنے کے ليے فرضی 'لو جہاد‘ کا ہوا کھڑا کر کے ملک کو مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جائے۔

اس مہم کا ایک ہی مقصد سمجھ میں آتا ہے کہ ہندو اکثریتی آبادی کو خوف و دہشت میں مبتلا کر کے مسلمانوں کے ساتھ ان کے سماجی روابط ختم کرائیں جائیں۔ کیا ایک دوسرے کے تئیں نفرت کی آگ تیار کر کے آپ ایک تندور میں رہ سکتے ہیں؟ میرا سوال ان سب کے ليے ہے، جو بھارت کو امن اور بھائی چارے کی آماج گاہ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کے لیڈران سے بھی سوال ہے کہ کسی آبادی کو خوف و دہشت میں مبتلا رکھ کر اور دوسری بڑی آبادی کو سماجی طور پر الگ تھلگ رکھ کر کیا بھارت پانچ ٹریلین ڈالر کا اقتصادی ہدف حاصل کرنے اور سپر پاور بننے کا خواب پورا کر سکے گا؟ جواب کا انتظار ہے۔