لداخ میں ایل اے سی پر کشیدگی کے درمیان بھارت اور چین میں زبانی جنگ | حالات حاضرہ | DW | 02.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

لداخ میں ایل اے سی پر کشیدگی کے درمیان بھارت اور چین میں زبانی جنگ

لداخ میں لائن آف ایکچوول کنٹرول (ایل اے سی) پر جاری کشیدگی کے درمیان چین نے بھارت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی جانب سے جہاں پر دراندازی ہوئی ہے وہاں سے وہ اپنے فوجیوں کو فوری طور پر واپس بلا لے۔

چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعے کے حوالے سے کشیدگی میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بھارتی فوجیوں کی دراندازی سے متعلق چین نے بھارت سے سخت احتجاج کرتے ہوئے ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت کو اشتعال انگیزی سے باز رہنا چاہیے۔ تاہم بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے تازہ بیان میں چین کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے چین پر خود اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا ہے۔ 

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستوا نے چینی بیان کے رد عمل میں کہا کہ 31 اگست کو جب فریقین کے فوجی کمانڈر کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کر رہے تھے، '' اس دوران بھی چینی فوج نے دوبار اشتعال انگیز فوجی کارروائی کی۔ لیکن مناسب وقت پر دفاعی کارروائی کی وجہ سے یکطرفہ طور پر ایل اے سی کو بدلنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا۔''

اس سے پہلے چینی سفارت خانے کی ایک ترجمان جی رونگ نے اپنے ایک بیان میں ایل اے سی پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے لیے بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا گیا ہے۔  ترجمان کا کہنا تھا کہ 31 اگست کو جن امور پر اتفاق ہوا تھا، بھارتی فوجیوں نے، اس کی صریحا ًخلاف ورزی کی ہے۔ ''انہوں نے پیونگانگ سو جھیل کے جنوبی علاقے اور مغربی علاقے میں لائن آف کنٹرول کو پار کیا اور ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں کیں، جس سے سرحدی  علاقے میں دوبارہ حالات کشیدہ ہوگئے۔''

محترمہ جی رونگ کا کہنا تھا کہ سرحد پر کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے جو کوششیں ہوتی رہیں،  بھارت کے اقدامات اس کے بالکل منافی ہیں اور چین اس کا سخت مخالف ہے۔ ان کا کہنا تھا، ''بھارت اپنے سرحدی فوجیوں کو قابو میں رکھے، ایل اے سی پر اشتعال انگیزی اور خلاف ورزیوں سے باز آجائے اور ان علاقوں سے اپنے فوجیوں کو فوری طور پر واپس بلالے جہاں انھوں نے دراندازی کی ہے۔انہیں ایسی کسی بھی حرکت سے باز رہنا چاہیے جس سے حالات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہو۔''

واضح رہے کہ پیر 31 اگست کو  بھارت نے دعوی کیا تھا کہ چینی فوج نے لداخ کی معروف جھیل پیونگاگ سو کے جنوبی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی جسے بھارتی فوج نے وقت پر کارروائی کر کے ناکام بنا دیا۔ حالانکہ بھارت نے اس فوجی کارروائی کی کوئی تفصیل نہیں بتائی تھیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:07

بھارتی زير انتظام کشمير سے لداخ کی طرف فوجی ساز و سامان کی منتقلی

لیکن لداخ میں چینی فوج کے ایک افسر کی نے اس کے رد عمل میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی فوج نے ایل اے سی کو عبور کر کے چینی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور اس حرکت پر ''چینی فوج جوابی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔''

چینی وزارت خارجہ نے بھی اس معاملے پر ایک سخت بیان میں کہا تھا کہ بھارت سرحد سے متعلق باہمی مفاہمت پر عمل کرے۔ ''وہ تمام طرح کے اشتعال انگیز اقدامات سے باز رہے اور غیر قانونی طور پر ایل اے سی عبور کرنے والے فوجیوں کو فوری طور پر واپس بلالے۔ بھارت ایسا کوئی بھی قدم نہ اٹھائے جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہو اور صورتحال مزید پیچیدہ ہوجائے۔''

دونوں ملکوں کے مابین اس طرح کی کشیدگی کے درمیان بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوال، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور فوجی سربراہ جنرل منوج مکند نروانے سے ملاقات کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس میٹنگ میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ بھارتی فوج کی اس وقت پوزیشن کن مقامات پر زیادہ مستحکم ہے اور کہاں اسے بالادستی حاصل ہے۔

بھارت میں ایک دفاعی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اس وقت لداخ میں ایل اے سی کے بعض مقامات پر حالات کچھ زیادہ ہی کشیدہ ہیں۔ ان کے مطابق چوشلو کے علاقے میں  چینی فوج کا رخ کچھ زیادہ ہی جارحانہ ہے اور بھارتی فوجیوں کو پیچھے دھکیلنے کے مقصد سے چین نے وہاں بھاری بھرکم جنگی ہتھیار نصب کیے ہیں۔

اس دوران بھارت نے فوج کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے سرینگر سے لیہ اور لداخ کی جانب آنے والی قومی شاہر کو عوام کے لیے بند کر دیا ہے جس پر دن اور رات  بھارتی فوجیوں کی گاڑیوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت نے بھی ایل اے سی پر اپنی خصوصی فرنٹیئر فورسز کو تعینات کیا ہے اور لائن آف ایکچوؤل کنٹرول کے پاس ہی بڑی تعداد میں بھاری اسلحے پہنچا دیے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایل اے سی پر حالات بہت کشیدہ ہیں اور اس وقت دونوں ملکوں کی فوجیں تقریباً برابر کی تعداد میں اپنی اپنی پوزیشن کا دفاع کر رہی ہیں۔

لداخ میں اس وقت بھارت اور چین کے کئی ہزار فوجی لائن آف ایکچوؤل کنٹرول کے دونوں جانب تعینات ہیں اور گزشتہ چار ماہ سے حالات کشیدہ ہیں تاہم ان تازہ واقعات کے بعد سے خطے میں فوجی نقل و حرکت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے دونوں کے درمیان فوجی اور سفارتی سطح کی کئی دور کی بات چیت ہوچکی ہے تاہم اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

 بھارت کا موقف ہے کہ ایل اے سی پر رواں برس اپریل تک جو پوزیشن تھی اس کو بحال کیا جائے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دونوں ملکوں کی فوجوں کو پہلے کی پوزیشن پر واپس چلے جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں بعض مقامات پر کچھ پیش رفت بھی ہوئی تھی اور دونوں جانب کی فوجیں کچھ حد تک پیچھے ہٹ گئی تھیں تاہم بیشتر متنازعہ علاقوں میں صورتحال کافی کشیدہ ہے۔

ویڈیو دیکھیے 11:10

چین کے سرحدی تنازعات کے پیچھے کیا وجہ ہے؟

DW.COM