لبنان انتخابات: حزب اللہ کا سیاسی اتحاد مزید طاقتور | حالات حاضرہ | DW | 07.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

لبنان انتخابات: حزب اللہ کا سیاسی اتحاد مزید طاقتور

غیر سرکاری اور غیر حتمی ابتدائی نتائج کے مطابق لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ اور ان کی سیاسی اتحادی جماعتوں نے ایک سو اٹھائیس رکنی پارلیمان میں نصف سے زائد نشستیں حاصل کر لی ہیں۔

حتمی نتائج اگر ایسے ہی رہتے ہیں تو اس ملک میں حزب اللہ کا اتحاد پارلیمان میں سادہ اکثریت  حاصل کرتے ہوئے مزید طاقتور ہو جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حزب اللہ کی اس واضح کامیابی سے ایران کے علاقائی اثر ورسوخ میں مزید اضافہ ہوگا، جو عراق اور شام کے علاوہ لبنان میں بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق سعودی اور مغربی حمایت یافتہ سعد الحریری بھی سب سے بڑا پارلیمانی بلاک  بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ متعدد سیٹوں میں کمی کے باوجود وہ آئندہ حکومت سازی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس عرب ملک میں گزشتہ روز ووٹنگ ہوئی تھی۔ لبنان میں آخری مرتبہ انتخابات کا انعقاد سن دو ہزار نو میں ہوا تھا۔

لبنان کے الیکشن میں اہم طاقتیں کون سی ہیں؟

ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم سے بچنے کے لیے رائج نظام کے تحت وزیراعظم کا سنی ہونا ضروری ہے۔  غیر حتمی نتائج کے مطابق حیران کن طور پر حزب اللہ مخالف ایک مسیحی پارٹی کو ماضی کے مقابلے میں دو گنا ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ اس پارٹی کی سیٹیں آٹھ سے بڑھ کر اب پندرہ ہو گئی ہیں۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق حزب اللہ اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر تقریبا 67 سیٹیں حاصل کر چکی ہے۔ حزب اللہ کے اتحادیوں میں شیعہ عمل گروپ اور کرسچئین فری پیٹریاٹک موومنٹ (آزاد حب الوطن تحریک) جیسی دیگر جماعتیں شامل ہیں، جو ہتھیاروں کو لبنان کا اثاثہ قرار دیتی ہیں۔

 ان سنی گروپوں نے بھی اچھی کارگردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جنہیں حزب اللہ کی حمایت حاصل تھی۔ حزب اللہ کے حمایت یافتہ یہ گروپ بیروت، طرابلس او سیدا جیسے ان علاقوں میں کامیاب رہے ہیں، جنہیں الحریری کی فیوچر موومنٹ (تحریک برائے آزادی) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

بشار الاسد کی مدد ہم پر فرض ہے، حزب اللہ

حزب اللہ کے حامی اخبار نے ان نتائج کو ’الحریری کے منہ پر تھپڑ‘ قرار دیا ہے۔ حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ آج کسی بھی وقت ان انتخابی نتجائج کے حوالے سے اپنے حامیوں سے خطاب کر سکتے ہیں۔

ا ا / ش ح

DW.COM