لاہور ادبی میلہ: بچوں میں کتابیں پڑھنے کا شوق کیسے پیدا کیا جائے؟ | فن و ثقافت | DW | 23.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

لاہور ادبی میلہ: بچوں میں کتابیں پڑھنے کا شوق کیسے پیدا کیا جائے؟

لاہور میں ہونے والے ادبی میلے میں سویڈش ایمبیسی اور یونیسکو کے تعاون سے ایک خصوصی سیشن منعقد ہوا جس میں ماہرین تعلیم نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی آج کے دور میں بچوں کو کتب بینی کی طرف کیسے راغب کیا جائے۔

اپنی نوعیت کے اس منفرد سیشن سے خطاب کرنے والوں میں LUMS یونیورسٹی اور علی انسٹی ٹیوٹ جیسے تعلیمی ادارے قائم کرنے والے ملک کے ممتاز بزنس مین سید بابر علی بھی شامل تھے۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کو پڑھانے کی اجازت صرف ان شخصیات کو ہی ملنی چاہیے جو حقیقی طور پر بچوں سے محبت کرتی ہوں۔ ایسی شخصیات کی بچوں کو انسپائر کر کے ان کی زندگیوں کو مثبت راستوں کی طرف کامیابی سے گامزن کر سکتی ہیں۔

سید بابر علی کا کہنا تھا کہ بچوں کی کامیابی کے لئے ان میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ ان کے بقول ان کے لیے یہ بات خوشی کا باعث ہے کہ کئی سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں میں کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

سید بابر علی کے بقول، '' بچے اتنا وقت اپنے والدین کے ساتھ نہیں گزارتے جتنا وقت اپنے اساتذہ کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اس لیے بچوں کی تعلیم و تربیت کی بہتری کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ بچوں سے بھی کہیں زیادہ بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ کو بہتر بنایا جائے اور ان کے علم کو اپ ڈیٹ کیا جائے۔‘‘ ان کے خیال میں بچوں کے استاد کو بچوں کا حقیقی معنوں میں رہنمائی کرنے والا ہونا چاہیے۔

سید بابر علی نے اپنی یادیں بانٹنے ہوئے کہا کہ انہوں نے تقسیم ہند سے پہلے 1945ء میں گریجویشن کی تھی: ''ان دنوں کتابیں پڑھنے کا شوق موجود تھا۔ امتیاز علی تاج کا ادارہ دارالاشاعت کتابیں اور رسائل شائع کرتا تھا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کئی دیہات میں لوگوں کے پاس لائبریریاں ہوا کرتی تھیں پھر آہستہ آہستہ یہ روایتیں ختم ہوتی گئیں۔‘‘

Pakistan Literaturfestival 2020 in Lahore

لاہور کے لٹریچر فیسٹیول میں پاکستان میں سویڈن کی سفیر انگرڈ جوہانسن نے بچوں کے ادب کی معروف سویڈش مصنفہ ایسٹرڈ لنڈگرن کے تخلیق کردہ کریکٹر پیپی لانگ سٹاکنگ کی تخلیق کے 75 سال مکمل ہونے پر کیک کاٹا۔

سید بابر علی نے علاقائی زبانوں کو نظرانداز نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنی لوک کہانیوں، مقامی تاریخ اور علاقائی ثقافتوں پر مبنی کتابیں مادری زبانوں میں شائع کر کے بچوں کومطالعے کے لیے دینا چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھے کاموں کے لیے ہمیشہ حکومت کی طرف دیکھنا مناسب نہیں معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس سے قبل اس سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں سویڈن کی سفیر انگرڈ جوہانسن کا کہنا تھا پیپی لونگ سٹاکنگ نامی کریکٹر کی خالق سویڈش مصنفہ بچوں کے حقوق کی داعی تھیں اور انہوں نے اپنے اس کردار کے ذریعے مختلف عمروں کے بچوں کو امن کا پیغام دیا۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی اعانت سے پیپی لوند سٹاکنگ کی کہانیوں کا اردو ترجمہ بھی اسی سال شائع کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول یہ امر تشویش کا باعث ہونا چاہیے کہ پاکستان میں خواندگی کی شرح میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور بچوں کی بہت بڑی تعداد سکولوں سے باہر ہے۔

گلگت بلتستان کے ایک سرکاری سکول میں پڑھانے والی ایک معلمہ مہر زیدی رحمان کا کہنا تھا کہ امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کا دباؤ طلبہ و طالبات کو درسی کتابوں تک محدود کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے سیشن کے حاضرین کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ ان کے سکول میں کوئی لائبریری نہیں ہے۔

جنوبی پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ سے آئی ہوئی ایک معلمہ نادیہ پروین نے بتایا کہ کتابیں پڑھنا تو دور کی بات، ان کے علاقے میں بچوں کو سکول لانا ہی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس علاقے کے عوام مزدوری کے لیے دوسرے علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور بچوں کی اخلاقی تربیت، نصابی ترقی اور کتب بینی کی طرف بچوں کی رغبت سمیت یہ سارے کام اکیلے ٹیچر کو ہی کرنا پڑتے ہیں: ''ایک مرتبہ پانچویں کے امتحان میں ایک مضمون آیا کہ میں صبح آئینہ دیکھ کر کیسا محسوس کرتا ہوں۔ بچوں نے رٹے لگا کر روایتی مضمون یاد کیے ہوئے تھے۔ جب انہیں کہا گیا کہ وہ گرائمر اور سپیلنگز کی غلطیوں کی پرواہ کیے بغیر اپنی مرضی کی زبان میں صرف دل کی بات لکھیں تو ہم بچوں کے خیالات جان کر دنگ رہ گئے۔ ایک بچے نے لکھا کہ مجھے یوں لگتا ہے کہ میں بہت ہی خوبصورت ہوں اور مجھے اعتماد ملتا ہے۔‘‘

Pakistan Literaturfestival 2020 in Lahore

ایک سٹال پر پاکستانی بچیوں کے لیے پیپی کا روپ دھار کر تصویر بنوانے، ریڈنگ سیششنز میں حصہ لینے، فیس پینٹنگز کروانے اور آرٹ ورک کرنے کی سہولیات فراہم کی گئیں۔

علی انسٹی ٹیوٹ کی مہ جبیں آغا نے بتایا کہ دنیا بھر میں بچوں کی سوچ، کلاس روم کا ماحول اور روزگار کی منڈی کے تقاضے بدل رہے ہیں اس لیے ان باتوں کو پیش نظر رکھ کر ہی بچوں کے لیے کتابوں کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔

ماہر تعلیم آمنہ خالد کا کہنا تھا کہ بچوں میں بک ریڈنگ کے مقابلے کروا کر ان میں کتابوں کی محبت پیدا کرنے کی ضرورت ہے نا کہ انہیں زبردستی پڑھنے پر مجبور کیا جائے۔ ان کے بقول بچوں کو کتابیں پڑھ کر لکھنے کے لیے بھی کہا جائے اور ان کی تحریروں کو ایڈٹ کر کے کہیں چھپوانے کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ مقررین کے مطابق بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو تلفظ کی غلطیوں کی مسلسل ڈانٹ ڈپٹ برباد کر سکتی ہے، اس لیے اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔

اس موقعے پر سویڈن سے بچوں کے ادب کی معروف مصنفہ ایسٹرڈ لنڈگرن کے تخلیق کردہ کریکٹر پیپی لانگ سٹاکنگ کی پچھترویں سالگرہ منائی گئی۔ یہ ایک فرضی کردار ہے جسے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سویڈن کی مصنفہ نے ایک سرخ بالوں والی مضبوط لڑکی کے روپ میں تخلیق کیا تھا۔ لاہور کے لٹریچر فیسٹیول میں پاکستان میں سویڈن کی سفیر انگرڈ جوہانسن نے اس کردار کی تخلیق کے 75 سال مکمل ہونے پر کیک کاٹا۔ اس حوالے سے لگائے گئے ایک سٹال پر پاکستانی بچیوں کے لیے پیپی کا روپ دھار کر تصویر بنوانے، ریڈنگ سیششنز میں حصہ لینے، فیس پینٹنگز کروانے اور آرٹ ورک کرنے کی سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔

DW.COM