لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران دو امریکی صحافیوں کا قتل | حالات حاضرہ | DW | 26.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران دو امریکی صحافیوں کا قتل

امریکی ٹیلی وژن ادارے سی بی ایس سے وابستہ دو مقامی صحافیوں کو اس چینل کی لائیو نشریات کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ صحافی کیمرہ مین ایڈم وارڈ اور رپورٹر ایلیسن پارکر تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 24 سالہ ایلیسن پارکر اور 27 سالہ ایڈم وارڈ کو بہت قریب سے فائر کر کے اس وقت قتل کیا گیا، جب اس ٹی وی پر ایک انٹرویو براہ راست نشر کیا جا رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق فائرنگ کے موقع پر پارکر جس خاتون کا انٹرویو لے رہی تھی، وہ بھی اس فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گئی۔ اس دوران اس ٹیلی وژن چینل کی صبح کی نشریات میں سیاحت کے فروغ کے موضوع پر بات چیت کی جا رہی تھی۔

ایک کیمرے میں ریکارڈ کی جانے والی فوٹیج کے مطابق حملہ آور سیاہ لباس پہنے ہوئے تھا اور اس دوران کئی مرتبہ فائر ہوئے اور چیخیں بھی بلند ہوئیں۔ تاہم اس واقعے کے رونما ہونے کے ساتھ ہی اس ٹیلی وژن نے فوری طور پر اسٹوڈیو میں بیٹھے ہوئے مہمانوں کو دکھانا شروع کر دیا۔

حملہ آور بدستور مفرور ہے تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس کی شناخت کر لی گئی ہے۔ امریکی ریاست ورجینیا میں ٹیلی وژن نیٹ ورک WDBJ کے مقامی اسٹیشن مینیجر جیفری مارکس نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس واردات کے پس پردہ محرکات کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ اس ٹیلی وژن چینل کا مرکزی دفتر جنوبی ورجینیا میں واقع ہے۔ جیفری کے مطابق، ’’پارکر اور وارڈ کی ٹیم تمام لوگوں کے ساتھ انتہائی محبت کرتی تھی۔‘‘

WDBJ کے ایک اینکر کرس ہرسٹ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ وہ اور ایلیسن پارکر ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار تھے۔ ’’ایڈم اور وہ ایک ٹیم تھے اور روزانہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے تھے۔ میری منگیتر کے قتل نے میرا دل توڑ دیا ہے۔‘‘ ورجینیا کے گورنر نے اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قاتل کی تلاش جاری ہے۔

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار