1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’لائف نیٹ ‘ ملیریا کے خلاف ایک موثر ہتیھار

23 اپریل 2013

مچھروں کی کچھ ایسی اقسام بھی ہیں، جن پرعام مچھر دانیاں اثر انداز نہیں ہوتیں اور وہ کسی نہ کسی طرح مچھر دانی میں داخل ہو ہی جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک خاص موسکیٹو نیٹ متعارف کرایا گیا ہے اس پر حشرات مار دوا لگائی گئی ہے۔

https://p.dw.com/p/18LMN
تصویر: Bayer CropScience

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ایک ملین افراد ملیریا کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس میں نوے فیصد ہلاکتیں براعظم افریقہ میں ہوتی ہیں۔ ملیریا کے زیادہ تر شکار بچے ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے ہر دوسرے کی عمر پانچ سال سے کم ہوتی ہے۔ اس عمر میں زیادہ تر بچے اندھیرا ہوتے ہی سونے چلے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر یورگن مے کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے مچھروں سے بچاؤ کی جالیوں کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔’یہ ابھی بھی مچھروں سے بچاؤ کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ ملیریا پھیلانے کا سبب بنے والے Anopheles مچھر رات کے وقت ہی فعال ہوتے ہیں‘۔ ڈاکٹر مے کے بقول اس صورتحال میں ضروری ہے کہ مچھر دانیوں کو بھی روزانہ اسی طرح سے صاف کیا جائے، جیسا کہ دانتوں کو کیا جاتا ہے۔

Tigermücke
تصویر: picture-alliance/dpa

اگر صفائی کو اپنے روز مرہ کا معمول نہیں بنایا گیا تو مچھر اس نیٹ میں داخل ہونے کا راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ’ بستر پر لگے نیٹ کو صحیح استعمال کرتے ہوئے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر اس پر کیڑے مکوڑوں سے بچاؤ کی دوا چھڑکی جائے اور اگر اسے سوراخ ہونے سے بچایا جائے‘۔

عام طور پر استعمال کی جانے والی مچھر دانیاں دیرپا نہیں ہوتیں۔ نرم دھاگے سے بنائی گئی مچھر دانیوں کو دھونا تو آسان ہوتا ہے لیکن یہ بہت جلد ہی پھٹ جاتی ہیں۔ مضبوط اور سخت دھاگے والی دیرپا تو ہوتی ہیں لیکن ان کی صفائی دشوار ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ان پر کیڑے مار دوا بھی بار بار لگانی پڑتی ہے۔

ڈاکٹر فریڈرش باؤر کہتے ہیں کہ اس صورتحال میں ایک ایسی مچھر دانی تیار کرنے کے بارے میں سوچ و بچار کی گئی جو ہر لحاظ سے فائدہ مند ہو۔ ان کے بقول’ ہمارے لیے چیلنج تھا کہ تمام پہلوؤں کا خیال رکھتے ہوئے ایک ایسی مچھر دانی تیار کی جائے جسے آسانی سے استعمال کیا جاسکے۔ ہم نے ایک ایسا نیٹ تیار کیا جسے صاف ستھرا کرنا آسان تھا اور جس کے دھاگوں میں مچھر مار دوا پہلے ہی شامل کر دی گئی تھی‘۔

اس خاص مچھر دانی کی تیاری میں polyproylen دھاگہ استعمال کیا گیا۔ اس میں کیڑے مار دوا شامل کرنا آسان نہیں تھا اور ساتھ ہی اس امر کا بھی خیال رکھنا ضرری تھا کہ مختلف ملکوں میں مختلف درجہ حرارت پر یہ کارآمد ثابت ہو۔ آخر کار کوششیں رنگ لائیں اور ایسی مچھر دانی تیار کر لی گئی جو ہر معیار پر پوری اترتی تھی۔ کیڑے ماردوا والی اس مچھر دانی کو لائف نیٹ کا نام دیا گیا ہے۔ جرمن کمپنی بائر نے اس قسم کی کئی لاکھ مچھر دانیاں تیار کی ہیں اور دن بہ دن اس کی مانگ میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

F.Schmidt / ai / km