قندھار ایئر پورٹ پر تمام رات لڑائی، کم از کم 37 ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 09.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قندھار ایئر پورٹ پر تمام رات لڑائی، کم از کم 37 ہلاک

گزشتہ شام طالبان نے افغانستان کے جنوبی شہر قندھار کے اہم ہوائی اڈے پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا، جب علاقائی رہنما اسلام آباد میں بیٹھے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات پر سوچ وبچار کر رہے ہیں۔

گزشتہ شام افغان طالبان نے اچانک جنوبی شہر قندھار کے ہوائی اڈے پر حملہ کر دیا۔ طالبان جنگجوؤں کی حکومتی سکیورٹی فورسز سے گزشتہ رات سے لڑائی جاری ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 37 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ افغان حکام کے مطابق طالبان نے کم از کم چھ افراد کو یرغمال بھی بنا رکھا ہے۔ آزاد ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں فی الحال یقین سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ بتایا گیا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز ممکنہ طور پر پانچ طالبان حملہ آوروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں جو لڑائی میں ابھی تک محفوظ رہے ہیں۔

جنوبی افغانستان میں 205 اٹل فوجی کور کے کمانڈر داؤد شاہ وفادار کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’آپریشن سست رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ طالبان نے کم از کم چھ افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے، جن میں دو خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔‘‘ ان کا تصدیق کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ابھی تک اس لڑائی میں کم از کم37 سکیورٹی اہلکار اور عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 35 ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک چودہ طالبان حملہ آوروں میں سے نو کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کم از کم 150 فوجیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ یہ واضح رہے کہ طالبان کی طرف سے ماضی میں بھی ہلاکتوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا رہا ہے جبکہ دوسری طرف حکومتی سکیورٹی فورسز ہلاکتوں کی تعداد کم سے کم ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

دریں اثناء نیٹو مشن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایئر بیس پر موجود سینکڑوں بین الاقوامی فوجیوں میں سے کسی کی بھی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے جبکہ انہوں نے کسی بھی قسم کی مزید معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔

طالبان کا یہ حملہ اسلام آباد میں جاری ’ہارٹ آف ایشیا سکیورٹی کانفرنس‘ کو بھی متاثر کر سکتا ہے، جہاں افغان صدر اشرف غنی نے عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے مزید علاقائی حمایت کی اپیل کی ہے۔

طالبان کی طرف سے ستمبر میں قندوز پر مختصر قبضے کے بعد ملک کی انتہائی محفوظ تصور کی جانے والی ایئر بیس پر حملے نے ایک مرتبہ پھر افغانستان کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

قندھار کا یہ ایئر پورٹ اہم فوجی اڈے سے بھی ملحق ہے۔ نیٹو ملٹری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سویلین کنٹریکٹرز اور افغان فوجی اہلکاروں کے گھر بھی اسی علاقے میں ہیں۔ طالبان کے مطابق ان کے خودکش حملہ آور ہلکے اور بھاری دونوں ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

اشتہار