قطر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آگاہی کا انوکھا انداز | کھیل | DW | 07.12.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

قطر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آگاہی کا انوکھا انداز

ناروے کے ایک فٹ بال کلب نے ایسی جرسیاں بنائی ہیں جن میں کیو آر کوڈ ہے۔ اس کوڈ کے ذریعے قطر میں  پیش آنے والی انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

ٹروموسو آئی ایل نامی ناروے کے اس فٹ بال کلب کے مطابق انہوں نے دنیا میں پہلی مرتبہ کیو آر کوڈ کے ساتھ فٹ بال جرسیاں  بنائی ہیں۔ یہ جرسیاں اگلے سال قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ سے قبل وہاں پیش آنے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہی پھیلائیں گی۔

قطر پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ تارکین وطن کارکنوں کے خلاف بدسلوکی پر خاموشی اختیار کرتا ہے۔ ان میں سے کئی تارکین وطن افراد ورلڈ کپ کے اسٹیڈیم اور  اس کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا کام کر تے رہے ہیں۔

جرسی  کا مقصد کیا ہے؟

ٹیم نے یہ جرسی ایمنسٹی انٹرنیشنل اورقطر میں کام کرنے والے ایک سابقہ  تارکین وطن کے ساتھ مل کر تیار کی ہے۔ اس میں ایک کیو آر کوڈ ہے جو موبائل فون سے اسکین کرنے پر صارفین کو 2022 ورلڈ کپ کے میزبان ملک قطر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بارے میں معلومات والی ویب سائٹ پر لے جاتا ہے۔

یہ ویب سائٹ بنگلہ دیش، فلپائن، بھارت اور نیپال سمیت دیگر ممالک کے  مزدوروں کی حالت زار پر روشنی ڈالتی ہے جو کام کی تلاش میں اس ملک آئے ہیں۔ یہ افراد اسٹیڈیم، سب ویز، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا کام کررہے ہیں۔

قطر  کی تقریباً نوے فیصد آبادی تارکین وطن افراد پر مشتمل ہے جن کے پاس اس ملک کی شہریت نہیں ہے۔ یہ افراد ٹیکسی ڈرائیور، سکیورٹی گارڈز کے طور پر کام کرنے کے علاوہ دیگر  سروس انڈسٹری میں بھی کام کرتے ہیں۔

ٹروموسو کلب کے تعلقات عامہ کے سربراہ ٹام ہوگلی جو اس کلب کے سابقہ کھلاڑی بھی ہیں، کا کہنا ہے ، ''ایسا کرنے سے، ہم امید کرتے ہیں کہ مزید بحث ہو گی مزید بات چیت ہو گی۔ ہم مزید کارروائی دیکھنا چاہتے ہیں۔''

ایمنسٹی کو سب سے زیادہ تحفظات 'کفالہ سسٹم' پر ہیں۔ اس سسٹم کے ذریعے تارکین وطن ملازمین اپنے مالک سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پاتے۔ وہ نوکریاں آسانی سے نہیں تبدیل کر سکتے ہیں اور ان کی نقل و حرکت بھی محدود ہوتی ہے۔ ان کی تنخواہوں کو روکا جا سکتا ہے اور ان افراد کی رہائش کی جگہیں بہت برے حالات میں ہوتی ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق یہ سسٹم ان بین الاقوامی انسانی حقوق کے مخالف ہے جن پر عمل درآمد قطر کی ذمہ داری ہے۔

ٹیم یہ جرسیاں اگلے اتوار کو ایک لیگ گیم کے دوران دے گی۔ کلب کا کہنا ہے،''ہم فٹ بال اور سیاست کو علیحدہ نہیں کر سکتے اور ہمیں تب تو اپنی نظریں بالکل نہیں پھیرنی چاہییں جب کوئی ہمارے گیم کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کرے۔'' یہ کلب قطر کو 'اسپورٹس واشنگ' کا مرتکب ٹہراتا ہے۔ اس اصطلاح کا مطلب اہم اسپورٹس کے ایونٹ کو اہم اپنا تاثر بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا  ہے۔ کلب کے مطابق،''ہم متحد ہو کر تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اسپورٹس واشنگ بند کی جائے گیم کو صاف رکھا جائے۔''

قومی بائیکاٹ کی کال مسترد

قطر نے کسی بھی قسم کی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اس ملک کے مطابق اس نے  لیبر قوانین میں اصلاحات کی ہیں اور کم از کم اجرت متعارف کرائی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس تنظیم  نے قطر کے ان اقدامات کو تسلیم تو کیا ہے لیکن اب بھی زیادتیاں کی جا رہی ہیں۔

ٹروموسو کلب نے ناروے سے اس کی قومی ٹیم کے فائنل میں پہنچ جانے پرعالمی کپ کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن ناروے کی فیڈیریشن نے اس آئیڈیا کو مسترد کر دیا تھا لیکن اس ملک کی ٹیم فٹ بال ورلڈ کپ میں پہنچنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

اس جرسی کو کینیا کے ایک سابقہ تارکین وطن کی حالت زار سے متاثر ہو کر بنایا گیا۔ قطر انتظامیہ نے مالکوم بیدالی کو فیک نیوز شیئر کرنے پر جیل بھیج دیا تھا۔ تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے چھ ہزار آٹھ سو ڈالر کی رقم کی ادائیگی کر کے اسے کئی ماہ بعد رہا کروایا تھا۔ 

ب ج، ک م (اے ایف پی، اے پی)