قطر ایران سے دوری اختیار کرے، بحرین کا مطالبہ | حالات حاضرہ | DW | 08.06.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قطر ایران سے دوری اختیار کرے، بحرین کا مطالبہ

بحرین کے وزیر خارجہ نے آج جمعرات کے روز اپنا یہ مطالبہ دہرایا کہ دوحہ حکومت ایران سے دوری اختیار کرے اور ’دہشت گرد تنظیموں‘ سے تعاون کا سلسلہ ختم کرے۔ بحرین سعودی عرب کا قریبی حلیف ہے۔

سعودی عرب، بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ کئی دیگر ملکوں نے پیر پانچ جون کو یہ الزام عائد کرتے ہوئے قطر کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے کہ دوحہ حکومت مذہبی عسکریت پسندوں اور ان کے دیرینہ حریف ایران کی مدد کر رہی ہے۔ قطر حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس خلیجی عرب ریاست کی ہمسایہ اقوام نے قطر کے ساتھ تمام زمینی، سمندری  اور فضائی رابطے بھی منقطع کر لیے ہیں۔

سعودی ملکیتی اخبار ’الشرق الاوسط‘ میں چپھنے والے انٹرویو میں شیخ خالد بن احمد الخلیفہ نے کہا کہ اس بحران کے حل کے لیے چار ممالک کی طرف سے جو شرائط پیش کی گئی ہیں وہ ’بالکل واضح‘ ہیں۔ بحرین کے وزیر خارجہ کے مطابق، ’’قطر کو اپنا راستہ درست کرنا ہو گا اور گزشتہ تمام وعدوں پر عمل کرنا ہو گا، اسے میڈیا مہم روکنا ہو گی اور اسے ہمارے نمبر ایک دشمن ایران سے فاصلہ اختیار کرنا ہو گا۔‘‘

الشرق الاوسط نامی اخبار میں چھپنے والے اپنے انٹرویو میں شیخ خالد بن احمد الخلیفہ کا مزید کہنا تھا، ’’اسے (قطر کو) یہ سمجھنا ہو گا کہ اس کے مفادات ہمارے ساتھ ہیں، نہ کہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ جو ہمارے خلاف سازشیں کرتا ہے اور ہم پر غلبہ حاصل کرنا اور ہمیں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ اسے دہشت گرد تنظیموں کی مدد ختم کرنا ہو گی، سُنی ہوں یا شیعہ، اور اس کی پالیسیاں اس کے اپنے لوگوں کے لیے فائدہ مند ہونی چاہییں۔‘‘

اس سے قبل سعودی اخبار ’مکہ‘ میں چپھنے والے انٹرویو میں شیخ حماد نے کہا کہ وہ بحران کے حل کے لیے کویتی کوششوں کی قدر کرتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو دوحہ سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ راستے کھلے ہیں۔

کویت کے حکمران شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح اس بحران کو حل کرانے کی کوششوں کے سلسلے میں منگل کے روز سعودی عرب گئے تھے جس کے بعد وہ متحدہ عرب امارات گئے اور وہاں سے بدھ سات جون کو وہ  قطر گئے تھے۔

اشتہار