قربانی کے جانور اور ’توہین اسلام‘: مصری مصنفہ کو سزائے قید | حالات حاضرہ | DW | 26.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

قربانی کے جانور اور ’توہین اسلام‘: مصری مصنفہ کو سزائے قید

ایک مصری مصنفہ کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربان کیے جانے والے جانوروں سے متعلق متنازعہ بیان دینے پر توہین اسلام کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے قید سنا دی گئی ہے۔ اس مسلم خاتون نے عید پر قربانی کو ’قتل عام‘ قرار دیا تھا۔

Fatima Naoot

فاطمہ ناعوت کے سوشل میڈیا پیغام کے بعد مصر میں سماجی سطح پر ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا

قاہرہ سے منگل 26 جنوری کے روز موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس مصری خاتون نے، جو ایک مصنفہ ہے اور جس کا نام فاطمہ ناعوت ہے، اکتوبر 2014 میں مسلمانوں کے مذہبی تہوار عیدالاضحیٰ کے موقع پر کی جانے والی جانوروں کی قربانی کی مناسبت سے اپنے فیس بک پیج پر ایک پیغام میں لکھا تھا: ’’قتل عام مبارک۔‘‘

فاطمہ ناعوت کے اس سوشل میڈیا پیغام کے بعد مصر میں سماجی سطح پر ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا۔ پھر ناعوت کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا اور گزشتہ برس اس کے خلاف اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت بھی شروع ہو گئی تھی۔

اب کئی مہینوں کی سماعت کے بعد عدالت نے اس مقدمے میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ مصری دارالحکومت میں ایک عدالتی اہلکار نے بتایا کہ فاطمہ ناعوت کو آج قاہرہ کی ایک عدالت نے ’توہین مذہب‘ کا قصور وار قرار دے دیا اور اسے تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس مصنفہ کو دو ہزار مصری پاؤنڈ یا قریب ڈھائی سو امریکی ڈالر کے برابر جرمانے کا حکم بھی سنایا گیا ہے۔

اپنے خلاف عدالتی فیصلے کے بعد فاطمہ ناعوت نے اے ایف پی کے بتایا، ’’مجھے اپنے خلاف سزائے قید کے عدالتی فیصلے پر کوئی دکھ نہیں ہوا۔ اس لیے کہ مجھے اپنے جیل بھیجے جانے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میں تو اس لیے اداس ہوں کہ اصلاحات پسندوں کی کوششیں رائیگاں گئیں۔‘‘

فاطمہ ناعوت کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ اپنی مؤکلہ کو سنائی گئی سزائے قید کے خلاف اپیل کریں گے۔

Twitter Seite Ägypten von Fatma Naoot

فاطمہ ناعوت نے اپنی اسی سوچ کا اظہار ٹوئٹر بھی کیا تھا

دنیا بھر کے مسلمان ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر ’سنت ابراہیمی‘ کہلانے والی اسلامی مذہبی روایت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے فاطمہ ناعوت کا جو اقدام عدالت نے ان کا جرم ٹھہرایا اور انہیں ’توہین اسلام‘ کا مرتکب قرار دیا، وہ ان کی ایک فیس بک پوسٹ تھی۔

اس پوسٹ میں فاطمہ ناعوت نے، جو مسلمان ہیں اور خود کو اصلاحات پسند قرار دیتی ہیں، لکھا تھا: ’’ہر سال جانوروں کا یہ قتل عام اس لیے کیا جاتا ہے کہ ایک (نبی نے) اپنے بیٹے کے بارے میں ایک ڈراؤنا خواب دیکھا تھا۔ اگرچہ اس نبی اور ان کے بیٹے کے لیے تو یہ ڈراؤنا خواب کب کا ختم ہو چکا، لیکن اس ’مقدس ڈراؤنے خواب‘ کی قیمت ہر سال بیچارے (قربانی کے) جانوروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ چکانا پڑتی ہے۔‘‘ فاطمہ ناعوت نے فیس بک پر اپنا یہ پیغام عربی زبان میں لکھا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق مصر میں موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کئی بار یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ مذہب کی روایتی تشریحات میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔