1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تصویر: picture-alliance/Rainer Hackenberg

قابل تجدید توانائی، افریقہ کے لیے ترقی کا پیغام

21 مارچ 2013

ایک حالیہ جائزے کے مطابق افریقی ممالک قابل تجدید توانائیوں سے استفادے کو توسیع دیتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی قومی معیشتوں کی حالت کو بھی فیصلہ کن انداز میں بہتر بنا سکتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/180ZL

155 صفحات پر مشتمل یہ جائزہ ورلڈ فیوچر کونسل اور جرمنی کی ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ اِس جائزے کے مرتبین اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ براعظم افریقہ میں بھی توانائی کے شعبے میں کی جانے والی وہ قانون سازی قابل تجدید توانائیوں کے فروغ کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے، جس میں جرمنی کی مثال کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ جائزے کے مطابق افریقہ میں بھی قابل تجدید توانائیوں کو پہلے سے متعین کردہ ایک مخصوص قیمت پر خریدنے کی ضمانت دیتے ہوئے توانائی کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

اس جائزے کے لیے تیرہ افریقی ممالک میں قابل تجدید توانائیوں کے فروغ کے لیے پہلے سے موجود یا مجوزہ قوانین کے مفصل مطالعے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ یہ تیرہ ممالک ہیں، الجزائر، مصر، ایتھوپیا، بوتسوانہ، گھانا، کینیا، ماریشیس، نمیبیا، نائجیریا، روانڈا، جنوبی افریقہ، تنزانیہ اور یوگنڈا۔

افریقی ملک سینیگال میں ایک گھر کی چھت پر شمسی پینلز نصب ہیں
افریقی ملک سینیگال میں ایک گھر کی چھت پر شمسی پینلز نصب ہیںتصویر: KfW-Bildarchiv/Bernhard Schurian

اِس جائزے میں فرداً فرداً مختلف ممالک کے حالات کو جانچا گیا ہے اور معاشرے اور معیشت پر ان قوانین کے اثرات اور ان قوانین کے کامیاب نفاذ کے لیے ضروری بنیادی شرائط بیان کی گئی ہیں۔

اِس جائزے میں کہا گیا ہے کہ مقامی ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کی جانے والی قانون سازی سے نہ صرف توانائی کی پیداوار بڑھے گی بلکہ مقامی انتظامیہ کا کنٹرول مستحکم ہو سکے گا اور جمہوری عمل میں بھی مدد مل سکے گی۔

ورلڈ فیوچر کونسل کی افریقہ شاخ کے سربراہ اَنسگار کِینے (Ansgar Kiene) نے اِس جائزے کے اجراء کے موقع پر کہا:’’چند ایک افریقی ملکوں نے اپنی بجلی کی منڈی کو پہلے سے ہی قابل تجدید توانائی پیدا کرنے والے اداروں کے لیے کھول دیا ہے، جس کا مثبت رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ مؤثر اور شفاف انتظامی ڈھانچے متعارف کرواتے ہوئے مقامی معاشی ترقی کو اور بھی زیادہ مستحکم بنیادوں پر اُستوار کیا جا سکتا ہے۔

ایک افریقی خاتون بائیو گیس کی مدد سے کھانا پکا رہی ہے
ایک افریقی خاتون بائیو گیس کی مدد سے کھانا پکا رہی ہےتصویر: DW

آج کل براعظم افریقہ کو توانائی کا ایک سنگین بحران درپیش ہے کیونکہ پہلے سے موجود پیداواری گنجائش توانائی کی مسلسل بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ توانائی کی یہ قلت اِس خطّے کی اقتصادی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے اور شہروں اور دیہات میں غربت میں بھی اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق صحارا سے جنوب کی جانب واقع ملکوں میں بجلی تک رسائی رکھنے والے گھرانوں کی شرح 25 فیصد سے بھی کم ہے۔

صنعتی ممالک اور بالخصوص یورپ میں مناسب قانون سازی کرتے ہوئے توانائی کے قابل تجدید ذرائع کو کامیاب کے ساتھ فروغ دیا جا رہا ہے۔ افریقہ میں بھی ان متبادل توانائوں سے استفادے کے وسیع تر امکانات موجود ہیں تاہم اُن سے اب تک تقریباً کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے۔

(aa/zb(dpa

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

’تین مجرم‘ مجھے پھر نشانہ بنانے کی تاک میں ہیں، عمران خان

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں