قائم مقام امریکی وزیر دفاع افغانستان ميں، امن کوششیں جاری | حالات حاضرہ | DW | 11.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

قائم مقام امریکی وزیر دفاع افغانستان ميں، امن کوششیں جاری

امريکی محکمہ دفاع کے سربراہ افغانستان کے ایک مختصر دورے پر ہيں، جہاں وہ ملکی صدر اشرف غنی اور وہاں تعينات امريکی اور نيٹو افواج کے سربراہ سے ملاقاتيں کريں گے۔ افغانستان ميں قيام امن کے ليے کوششيں ان دنوں زوروں پر ہيں۔

قائم مقام امریکی وزیر دفاع پيٹرک شيناہن افغانستان کے غير اعلانيہ دورے پر ہيں۔ شيناہن پير کی صبح دارالحکومت کابل پہنچے، جہاں وہ صدر اشرف غنی سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس دورے سے قبل دوران پرواز انہوں نے صحافیوں سے بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے جاری امن عمل اور مذاکرات ميں کابل حکومت کا شامل کيا جانا لازمی ہے۔

افغانستان ميں سالہا سال سے جاری جنگ کے خاتمے اور قيام امن کے ليے امريکا اور طالبان کے مابين مذاکراتی عمل جاری ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ ميں پچھلے ماہ اور روسی دارالحکومت ماسکو ميں پچھلے ہفتے منعقدہ مذاکرات ميں پيش رفت ديکھی گئی تھی۔ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان ميں امريکی فوج کے کردار کو محدود کرنا چاہتے ہيں جس سے ايسے خدشات بھی بڑھ گئے ہيں کہ امريکا کہیں کابل حکومت اور طالبان کے مابين کوئی امن معاہدہ طے کرائے بغير ہی افغانستان سے اپنی افواج کے مکمل انخلاء کا فيصلہ نہ کر لے۔ افغانستان ميں اس وقت تقريباً چودہ ہزار امريکی فوجی تعينات ہيں۔

پينٹاگون کے قائم مقام سربراہ شيناہن افغانستان ميں نيٹو اور امريکا کے اعلیٰ ترين فوجی کمانڈر، جنرل اسکاٹ مِلر سے بھی آج پير کو ملاقات کريں گے۔ شيناہن نے کابل پہنچنے سے قبل البتہ واضح کر ديا تھا کہ امریکی فوج کا انخلاء شروع کرنے کے لیے فی الحال ان کے پاس کوئی احکامات نہيں ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’افغانستان ميں ہماری افواج کی تعيناتی امريکا ميں سلامتی اور خطے ميں استحکام کا سبب ہے۔‘‘

يہ امر اہم ہے کہ افغانستان ميں قيام امن کے ليے جاری عمل ميں فی الحال کابل حکومت شامل نہيں۔ طالبان کابل حکومت کے نمائندوں سے بات چيت پر رضامند بھی نہيں۔ يہی وجہ ہے کہ دوحہ ميں طالبان کے امريکيوں کے ساتھ  مذاکرات اور پھر ماسکو ميں افغان اپوزيشن رہنماؤں اور قبائلی عمائدین کے ساتھ بات چيت ميں بھی کابل حکومت کا کوئی نمائندہ شريک نہیں تھا۔  اس پر شیناہن کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے جاری امن عمل اور مذاکرات ميں کابل حکومت کا شامل کيا جانا لازمی ہے۔ پينٹاگون کے قائم مقام سربراہ کے مطابق، ’’مستقبل کا افغانستان کيسا ہو گا، اس بارے ميں فيصلہ افغان شہريوں نے ہی کرنا ہے۔‘‘ ان کے بقول امريکا نے افغانستان ميں سلامتی کی صورتحال ميں بہتری کے ليے بے انتہا وسائل خرچ کيے ہيں تاہم اپنے مستقبل کے بارے ميں فيصلہ تو افغان شہريوں کو ہی کرنا ہے۔

ع س / م م، نيوز ايجنسياں

DW.COM