فیکٹ چیک: لاکھوں امریکی شہریوں نے کورونا ویکسین کی دوسری ڈوز کیوں نہیں لی؟ | صحت | DW | 01.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

فیکٹ چیک: لاکھوں امریکی شہریوں نے کورونا ویکسین کی دوسری ڈوز کیوں نہیں لی؟

کورونا وائرس کے انسداد کے لیے ویکسین کی دو خوراکیں درکار ہوتی ہیں، مگر امریکا میں لاکھوں افراد دوسری خوراک لینے واپس ہی نہیں آئے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکا میں بہت سے افراد کی جانب سے دوسری خوراک نا لینے کی وجہ یا تو ضمنی اثرات کا خوف بنا یا یہ غلط فہمی کہ کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے ویکسین کی ایک ہی خوراک کافی ہوتی ہے۔ بعض افراد کو کسی مجبوری کی بنا پر دوسری خوراک کے لیے اپنی اپائنٹمنٹ منسوخ کروانا پڑی۔ بعض صورتوں میں ویکسین کا وہ مخصوص برانڈ موجود نا ہونے کی وجہ سے بھی دوسری ڈوز لگنے سے رہ گئی۔

کورونا: جرمنی میں کرفیو پر غور، ہالینڈ میں اٹھانے کا فیصلہ

کئی ہفتوں کے انتظار کے بعد جرمن چانسلر کو ویکسین لگا دی گئی

وائرالوجسٹ ڈاکٹر انجیلا راسموسن امریکا کی ویکسین اور متعدی بیماریوں سے متعلق تنظیم VIDO سے منسلک ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ''میرا خیال ہے کہ یہ اعداد و شمار خاصے حوصلہ افزا ہیں، تاہم آٹھ فیصد پھر بھی کئی ملین افراد بنتے ہیں۔ اس کے باوجود دیگر بیماریوں کی ویکسین کے اعتبار سے یہ نہایت خوش آئند بات ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد دوسری خوراک کے لیے واپس آ رہی ہے۔‘‘

تاہم انہوں نے دو خوراکوں کے مسئلے سے خود بھی دوچار ہونے کا بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امریکی ریاست واشنگٹن میں بائیو این ٹیک فائزر کی ویکسین لگائی جانا تھی، تاہم دوسری خوراک کی تاریخ سے قبل انہیں ایک نئی ملازمت کے لیے کینیڈا منتقل ہونا تھا، جس کی بنا پر وہ دوسری خوراک رہ جاتی۔ اسی تناظر میں انہوں نے فائزر کی ویکسین (جس کی دو خوراکیں درکار ہوتی ہیں) کے بجائے جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین لگوائی کیوں کہ اس کی فقط ایک خوراک ہی درکار ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا، ''اگر یہ مجھ جیسی وائرالوجسٹ کے لیے دشوار ہے، تو میں سمجھ سکتی ہوں کہ دوسرے افراد کے لیے یہ معاملہ کتنا دشوار ہو گا۔ خصوصاﹰ ایسے افراد کے لیے جن کی کسی ذاتی ٹرانسپورٹ تک رسائی بھی نا ہو۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 04:01

کورونا ویکسین لگوائیں یا نہیں، پاکستانی عوام کی سوچ منقسم

ماہرین کا تاہم یہ بھی خیال ہے کہ لوگ افواہوں پر یقین کر کے ویکسین کی دوسری خوراک نہیں لے رہے۔ ویکسین کے حوالے سے پھیلائی گئی مختلف افواہوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس ویکسین کی ایک ہی خوراک کافی ہوتی ہے۔ تاہم راسموسن نے ان خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے 'سکیورٹی کا غلط احساس پیدا ہوتا ہے‘ اور یہ زیادہ خطرناک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض افراد کو پہلی خوراک کے مقابلے میں دوسری خوراک کی وجہ سے زیادہ ناخوشگوار ضمنی اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی بنا پر بہت سے افراد دوسری خوراک کے تجربے سے خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایسی ویکسین جس کی دو خوراکیں درکار ہوتی ہیں، ان کی فقط ایک خوراک لینے سے وائرس کے خلاف کافی مدافعت پیدا نہیں ہوتی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے افراد کورونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ع ت، م م (میشائلہ کاوناغ، روب مج)