فیس بک ڈیٹا: عدالتی فیصلہ امریکی جاسوسی کوششوں کے لیے دھچکا | حالات حاضرہ | DW | 06.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فیس بک ڈیٹا: عدالتی فیصلہ امریکی جاسوسی کوششوں کے لیے دھچکا

یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت نے آسٹریا کے اس اسٹوڈنٹ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، جس نے دعویٰ کر رکھا تھا کہ امریکا اور یورپی یونین کے مابین آن لائن ڈیٹا کے تبادلے کا معاہدہ صارفین کے مفادات کے منافی ہے۔

آج منگل چھ اکتوبر کو سنایا جانے والا یہ عدالتی فیصلہ یورپ میں کاروبار کرنے والی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اور انٹرنیٹ کمپنیوں کی کارکردگی پر دور رس نتائج مرتب کر سکتا ہے۔ دو سال پہلے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے ایک طالب علم میکس شرَیمز اس وقت یہ کیس عدالت میں لے کر گئے تھے، جب امریکا کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن نے یہ انکشاف کیا تھا کہ امریکا یورپ میں جاسوسی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس طالب علم کا کہنا تھا کہ اگر یورپی یونین کے شہریوں سے متعلق ڈیٹا امریکا میں جمع کیا جائے گا تو یہ محفوظ نہیں ہوگا۔ اس اسٹوڈنٹ کا کہنا تھا کہ فیس بک جیسی امریکی کمپنیوں اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کو سخت پیغام دیا جانا چاہیے کہ وہ یورپی شہریوں کا ڈیٹا امریکا میں جمع نہیں کر سکتیں۔

Luxemburg Maximillian Schrems vor dem Europäischen Gerichtshof

مدعی شرَیمز کا کہنا ہے کہ آج کا یورپی عدالتی فیصلہ آن لائن پرائیویسی کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوگا

ذاتی ڈیٹا کی رازداری کے لیے کام کرنے والے آسٹریا کے اس طالب علم نے آج کہا، ’’یہ فیصلہ امریکا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پرائیویٹ پارٹنرز کی مدد سے دنیا بھر میں جاسوسی جاری رکھے ہوئے ہے۔‘‘ میکس شرَیمز نے مزید کہا، ’’آج کا فیصلہ یہ واضح کرتا ہے کہ امریکی کاروباری ادارے امریکا کی طرف سے جاسوسی میں اس کو مدد فراہم اور یورپی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔‘‘

میکس شرَیمز کے مطابق یہ فیصلہ ان یورپی ممالک کے لیے بھی ایک آئینی چیلنج ثابت ہوگا، جو اپنے ہاں جاسوسی کے پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس طالب علم نے سب سے پہلے آئرلینڈ میں ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر سے شکایت کی تھی کہ سوشل میڈیا کمپنیاں اپنا ڈیٹا امریکا کو فراہم کرتی ہیں اور امریکا میں ان معلومات کی مناسب حفاظت ممکن نہیں۔ فیس بک کا یورپی ڈیٹا ہیڈ کوارٹر بھی آئرلینڈ میں ہے، جہاں سے یہ معلومات یورپی یونین اور امریکا کے مابین ’ٹرانس اٹلانٹک ڈیٹا پروٹیکشن‘ معاہدے کے تحت امریکا کو فراہم کی جاتی ہیں۔ ابتدائی طور پر آئرش حکام نے اس اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔ آئرش حکام کا امریکا کے ساتھ طے شدہ ’سیف ہاربر‘ نامی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکا انہیں ’ڈیٹا تحفظ‘ کا یقین دلا چکا ہے۔ اس معاہدے کے تحت یورپی کمپنیاں اپنا ڈیٹا براہ راست امریکا کو فراہم کر سکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آج کے اس فیصلے کے بعد امریکا اور یورپی یونین کے مابین انٹرنیٹ ڈیٹا کا تبادلہ انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ فیس بک نے فی الحال اس فیصلے سے متعلق کوئی بھی بیان جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن مدعی شرَیمز کا کہنا ہے کہ آج کا یورپی عدالتی فیصلہ آن لائن پرائیویسی کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔