فوکس ویگن کا جرمنی میں 50 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ
28 مارچ 2026
جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت بھی ہے اور اس کا شمار دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں بھی ہوتا ہے۔ جرمن معیشت میں آٹوموبائل انڈسٹری یا کار سازی کی صنعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس جرمن صنعتی شعبے میں فوکس ویگن ایک ایسا عظیم الجثہ ادارہ ہے، جس کی ایک کاروباری گروپ کے طور پر اپنی یا اس کے ذیلی اداروں کی تیار کردہ گاڑیوں کے برانڈز کی تعداد 10 بنتی ہے، لیکن اس گروپ کو اس وقت کئی طرح کے کاروباری مسائل کا سامنا ہے۔
جرمن کارساز ادارے فوکس واگن کے ورکرز کا ہڑتال کا اعلان
ان بڑے مسائل میں الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت کے شعبے میں چین کی طرف سے سخت کاروباری مقابلہ، امریکہ میں ٹرمپ انتطامیہ کی طرف سے عائد کردہ ٹیرفس اور خود جرمنی میں اس کی پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ سب سے نمایاں ہیں۔
یورپی کار ساز ادارے چین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور
یہی وجہ ہے کہ فوکس ویگن گروپ کو اس وقت اپنے کاروباری منافع میں اتنی بڑی کمی کا سامنا ہے کہ وہ گزشتہ تقریباﹰ ایک دہائی کی اپنی نچلی ترین سطح تک پہنچ گیا ہے۔
ہر سال 15 بلین یورو کی بچت کا ہدف
جرمن شہر وولفسبرگ میں اس ادارے کے ہیڈ کوارٹرز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق فوکس ویگن گروپ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اولیور بلُومے نے ادارے کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں شامل کردہ اور شیئر ہولڈرز کے نام لکھے گئے ایک خط میں کہا، ''مجموعی طور پر 2030ء تک جرمنی میں پورے فوکس ویگن گروپ میں روزگار کے مواقع کی تعداد میں تقریباﹰ 50 ہزار کی کمی کر دی جائے گی۔‘‘
اس جرمن کار ساز ادارے نے 2024ء کے آخری ہفتوں میں اپنے کارکنوں کی ٹریڈ یونینوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت 2030ء تک اس گروپ میں آسامیوں کی تعداد میں 35 ہزار کی کمی کی جانا ہے۔
یہ کمی اس گروپ کی گاڑیوں کے سب سے بڑے بڑانڈ یعنی فوکس ویگن کے ملازمین کی تعداد میں کی جائے گی، جو اس وسیع تر مالیاتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت فوکس ویگن گروپ مجموعی طور پر سالانہ 15 بلین یورو کی بچت کرنا چاہتا ہے۔
مستقبل کے سائبر ٹرک کی جرمنی میں نمائش، امریکی کار ساز کمپنی ٹیسلا کی پیشکش
اس پس منظر میں گروپ چیف اولیور بلُومے نے شیئر ہولڈرز کو بتایا کہ 50 ہزار میں سے طے شدہ 35 ہزار آسامیوں کے علاوہ باقی ماندہ 15 ہزار ملازمتیں اس گروپ کے دیگر ذیلی اداروں میں ختم کی جائیں گی۔
مالی بچت اور کٹوتیوں کے یہ اقدامات اس گروپ کے جن دیگر پیداواری اور کاروباری اداروں کو متاثر کریں گے، ان میں مہنگے اور پریمیئم برانڈز کے طور پر مسلمہ ذیلی کمپنیاں آؤڈی (Audi) اور پورشے (Porsche) بھی شامل ہیں، اور اس گروپ کی ملکیت سافٹ ویئر کمپنی کارییاڈ (Cariad) بھی۔
کاروباری منافع میں واضح کمی
فوکس ویگن گروپ کے مطابق اسے گزشتہ برس ٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد جو خالص کاروباری منافع ہوا تھا، اس کی مالیت 6.9 بلین یورو رہی تھی، جو اس سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں 44 فیصد کم تھی۔
چینی کار ساز کمپنیوں کا جرمن مارکیٹ میں مشروط خیر مقدم
یہ اعداد و شمار انتظامیہ کے لیے اس وجہ سے بھی پریشان کن ہیں کہ فوکس ویگن گروپ کو پچھلے سال ہونے والا یہ منافع 2016ء کے بعد سے آج تک کا کم ترین منافع تھا۔
اس پس منظر میں گروپ سی ای او بلُومے نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ فوکس ویگن گروپ کو دوبارہ صحیح راستے پر لانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی میں کار سازی کی صنعت کسی مشکل لیکن محدود عرصے سے نہیں گزر رہی، بلکہ اسے مستقبل کے حوالے سے ایک فیصلہ کن مرحلے کا سامنا ہے۔
جرمنی میں الیکٹرک کاروں کی سولر پاور سے چارجنگ، نئی فنڈنگ
اولیور بلُومے کے الفاظ میں، ''وہ بزنس ماڈل جو عشروں تک فوکس ویگن کے لیے مؤثر ثابت ہوا، وہ وہی ماڈل ہے جو پوری جرمن کار انڈسٹری اور جرمن معیشت کے لیے بھی دیرپا بنیادوں پر سود مند رہا ہے، لیکن اپنی موجودہ شکل میں یہ ماڈل کام نہیں کر رہا اور نہ آئندہ کرے گا۔ اس لیے ہمیں اپنے حریف اداروں کے ساتھ اپنا موازنہ کرنا ہو گا اور مستقبل میں بھی کامیابی کے لیے جدت پسندی کے ساتھ کاروباری جدوجہد جاری رکھنا ہو گی۔‘‘
ادارت: جاوید اختر