فوج بمقابلہ کرد جنگجو: شامی خانہ جنگی میں ایک نیا محاذ | حالات حاضرہ | DW | 20.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوج بمقابلہ کرد جنگجو: شامی خانہ جنگی میں ایک نیا محاذ

شامی خانہ جنگی میں نئے محاذ کھُلتے نظر آ رہے ہیں۔ اب تک شامی فوج اور کُرد جنگجو ایک دوسرے سے لڑنے سے کترا رہے تھے تاہم اب ان کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ یُوں شام میں حالات اور بھی پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

Archivbild Kämpfer der Syrischen Demokratischen Streitkräfte in Hasakeh

امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے دستے الحسکہ کے قریب برسرِپیکار ہیں

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق شام کی سرکاری فوج اور کُرد فورسز کے مابین لڑائی جمعے اور پھر ہفتے کو مزید شدت اختیار کر گئی۔ اب تک کی پانچ سالہ خانہ جنگی میں یہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف لڑنے سے زیادہ تر کتراتی رہی تھیں۔ سرکاری شامی فوج کی توجہ اب تک مغربی شام میں سرگرم سنّی عرب باغیوں پر تھی جب کہ کُرد فورسز شمالی شام میں شدت پسند ملیشیا ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف برسرِپیکار تھیں۔

حکومت کے حامی میڈیا کے مطابق دونوں فریقوں کے مابین ابتدائی امن بات چیت بھی ہوئی ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ غالباً حکومت بھی یہ نہیں چاہتی کہ کُردوں کے ساتھ لڑائی میں مزید شدت آئے۔

یہ لڑائی رواں ہفتے کُردوں کے زیر انتظام شہر الحسکہ میں شروع ہوئی، جہاں سرکاری جنگی طیاروں نے کُردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ الحسکہ کُردوں کے زیر انتظام دو بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔ شمال مشرقی شام کے علاقے زیادہ تر کُردوں ہی کے کنٹرول میں ہیں اور وہاں چھوٹے چھوٹے علاقے ایسے بھی ہیں، جو بدستور حکومت کے زیر انتظام ہیں۔

اس علاقے میں لڑائی شدت پسند ملیشیا ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف جاری جنگ کو مزید پیچیدہ بنا دے گی کیوں کہ اس ملیشیا کے خلاف امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) میں کُردوں کا کردار مرکزی نوعیت کا ہے۔

جمعے کو امریکی قیادت میں سرگرم اتحادی افواج کے جنگی طیاروں نے حفظ ماتقدم کے طور پر الحسکہ کے ارد گرد گشتی پروازیں کیں تاکہ شامی جیٹ اُن امریکی خصوصی دستوں کو نشانہ نہ بنا سکیں، جو ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔

Syrien Luftangriff F-18 Anti-IS Koalition

شام کی فضاؤں میں پرواز کرتے امریکی ایف اٹھارہ طیارے، جو داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کے ساتھ ساتھ زمین پر موجود امریکی دستوں کو تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں

بتایا گیا ہے کہ جمعے کو دیر گئے لڑائی میں مزید شدت آ گئی۔ الحسکہ پر شامی طیاروں کے حملے بھی جاری رہے، جن کا کُرد گروپ وائی پی جی کے فائٹرز آگے سے جواب بھی دیتے رہے۔ جمعے کو اس شہر کے بہت سے لوگ شہر چھوڑ گئے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق کم از کم اکتالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ترکی کو کُرد باغیوں کی سرگرمیوں پر یہ تشویش ہے کہ شام نسلی بنیادوں پر تقسیم ہو سکتا ہے اور کُرد ترکی کی جنوبی سرحد کے ساتھ ساتھ اپنے لیے مخصوص ایک الگ خطّہ وجود میں لا سکتے ہیں۔ اسی لیے ترکی نے آئندہ مہینوں میں شام میں زیادہ سرگرم کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اُدھر حلب میں لڑائی بدستور جاری ہے اور امدادی گروپوں کے مطابق حلب کے باسیوں کے پاس موجود خوراک محض اگست کے اواخر تک ہی کے لیے کافی ہو گی۔

اشتہار