فواد عالم کا پراسرار کیس اور سری لنکا کی واپسی | کھیل | DW | 08.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

فواد عالم کا پراسرار کیس اور سری لنکا کی واپسی

دس سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کرنے والی سری لنکن ٹیم کے خلاف پاکستانی اسکواڈ میں فواد عالم کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ چونتیس سالہ فواد عالم بھی گزشتہ دس برسوں سے بین الاقوامی کرکٹ سے غائب تھے۔

پاکستان اور سری لنکا کی قومی کرکٹ ٹیموں کے مابین دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ راولپنڈی میں گیارہ دسمبر سے شروع ہو گا۔ سری لنکا کی ٹیم آج اتوار آٹھ دسمبر کو پاکستان پہنچ رہی ہے۔ مارچ سن دو ہزار نو میں لاہور میں اس ٹیم پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان میں یہ ٹیم پہلا ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔

دوسری طرف فواد عالم نے بھی سن دو ہزار نو میں آخری مرتبہ پاکستان کی قومی ٹیم کی نمائندگی کی تھی، جس کے بعد سے ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے کے باوجود ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے تھے۔

فواد عالم سن دو ہزار نو میں سری لنکا کے خلاف ہی اپنا پہلا میچ کھیلا، جس میں انہوں نے سنچری اسکور کی تھی۔ تاہم صرف تین ٹیسٹ میچوں کے بعد انہیں نظر انداز کر دیا گیا اور پھر وہ بین الاقوامی کرکٹ سے غائب ہی رہے۔ تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے رہے۔

قائد اعظم ٹرافی کے رواں سیزن میں انہوں نے چار سنچریاں اسکور کیں اور مجموعی طور پر سات سو اکاسی رنز بنائے۔ اس سیزن میں ان کی اوسط 56.84 رہی، جو بین الاقوامی ڈومیسٹک کرکٹ میں بائیسویں بلند ترین ایوریج ہے۔

پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ نے انہیں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی ٹیم کا حصہ بناتے ہوئے کہا کہ فواد عالم کی کارکردگی صرف ایک سال پر ہی محیط نہیں بلکہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا کا دورہ کرنے والی پاکستانی کرکٹ اسکواڈ سے افتخار احمد کو باہر کر کے فواد عالم کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

فواد عالم کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی ایک ایسے موڑ پر ہو رہی ہے، جب وہ چونتیس برس کے ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان سے کئی تواقعات وابستہ کی جا رہی ہے۔ فواد عالم کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی پر ان کا موازنہ مصباح الحق سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ سن دو ہزار دس میں جب مصباح الحق کو اچانک پاکستانی ٹیم کا سربراہ بنایا گیا تھا تو ان کی عمر اس وقت چھتیس برس تھی۔ تاہم انہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے پاکستانی ٹیم کو بلندیوں کے عروج پر پہنچا دیا تھا۔

ٹیسٹ میچوں کے لیے سری لنکا کی ٹیم کی پاکستان واپسی کو انتہائی خوشگوار قرار دیا جا رہا ہے۔ سری لنکا اور پاکستان کے مابین دوسرا ٹیسٹ میچ انیس اگست سے کراچی میں شروع ہو گا۔ توقع ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ہزیمت آمیز شکست کے بعد اپنے ہوم گراؤنڈ میں پاکستانی ٹیم بہتر کارکردگی پیش کرے گی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات