فنڈ روکنے سے افغانستان کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، اقوام متحدہ | حالات حاضرہ | DW | 10.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

فنڈ روکنے سے افغانستان کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، اقوام متحدہ

 اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت افغانستان کی معیشت کو زندہ رکھنا بہت اہم ہے ورنہ لاکھوں افغان مفلسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ادھر چین نے افغان قومی اثاثوں کو منجمد کرنے کے امریکی فیصلے پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی سفیر دیبورا لیونز نے نو ستمبر جمعرات کے روز کہا کہ طالبان کے ہاتھ پیسہ نہ لگنے دینے کے لیے افغانستان کے فنڈز کو روکنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس سے فائدے کے بجائے افغان عوام کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ گرچہ طالبان حکومت کے حوالے سے تشویش لاحق ہے تاہم اس کے باوجود اس وقت ملک کو پیسوں کی سخت ضرورت اور اس کی آمد کو یقینی بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا، ''معیشت کو مزید چند مہینوں تک سانس لینے کی اجازت دینے کی ضرورت ہے، اس سے طالبان کو لچک کا مظاہرہ کرنے اور اس بار چیزوں کو مختلف انداز سے کرنے کا حقیقی موقع بھی فراہم کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر انسانی حقوق، حقوق نسواں اور انسداد دہشت گردی کے نقطہ نظر کے حوالے سے۔''

تباہی سے بچنے کے لیے پیسوں کی ضرورت

دیبورا لیونز نے اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل کو بتایا کہ فنڈز روک دینے سے، ''ایک ایسی شدید معاشی بدحالی کا سلسلہ شروع ہوگا، جو مزید لاکھوں افراد کو افلاس اور بھوک کا شکار بنا سکتی ہے۔ اس سے افغانستان سے پناہ گزینوں کی ایک اور بڑی لہر اٹھ سکتی ہے اور اصل میں اس سے افغانستان نسلوں کے لیے پیچھے جا سکتا ہے۔''

ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر، ''معیشت اور سماجی نظام کو مکمل طور پر تباہی سے بچانے کے لیے'' افغانستان میں پیسے پہنچانے کی سخت ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ امریکا نے افغانستان کی تقریباً نو ارب ڈالر کی رقم کو فی الوقت روک دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

اس میں سے بیشتر رقم نیویارک کی وفاقی بینکوں میں جمع ہے اور بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کو دیکھنا چاہتی ہے کہ آخر وہ کیا کرتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ طالبان کی بیشتر رقم کا حصہ ان کی خود کی قومی بینک میں ہونے کے بجائے باہر ہے اور طالبان کو ابھی عالمی مالیاتی فنڈ تک رسائی بھی نہیں ہے۔

افغانستان یوں بھی اب تک بہت زیادہ بیرونی امداد پر انحصار کرتا رہا ہے اور بیشتر ممالک نے اسے بھی روک دیا ہے۔ لیونز کے مطابق اس وقت حالت یہ ہے کہ حکام سرکاری ملازمین کی تنخواہ بھی دینے سے قاصر ہیں۔

چین کی امریکا پر تنقید

اس دوران نے چین نے بڑی تیزی سے طالبان کے ساتھ ایک سطح تک سفارتی روابط استوار کر لیے ہیں اور گزشتہ روز اس نے افغانستان کے لیے تقریبا ًتیس لاکھ امریکی ڈالر کی امداد کا بھی اعلان کیا تھا۔ چین کا کہنا ہے کہ امریکا افغان مرکزی بینکوں کے اثاثوں کو سودے بازی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جس سے بالآخر افغانستان کے لوگوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں چین کے نائب سفیر جینگ شوانگ کا کہنا تھا، ''یہ اثاثے افغانستان کے ہیں اور ان کو افغانستان کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، دھمکیوں کے لیے نہیں۔''

دریں اثنا اقوام متحدہ نے افغانستان کی امداد کے لیے آئندہ پیر کو ایک کانفرنس طلب کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور اس حوالے سے مستقبل کی حکمت عملی بھی نہیں طے کی جا سکی ہے، اس لیے بیرونی امداد کا فوری امکان کم ہے۔ 

غیر واضح سمت

بہت سے ممالک نے افغانستان کو امداد جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاہم اس کے لیے ایک اہم شرط یہ ہے کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں آخر انسانی حقوق اور حقوق نسواں کے حوالے سے طالبان کا رویہ کیا ہو گا۔ طالبان حکومت کی پالیسیاں بھی ابھی واضح نہیں ہیں اس لیے اکثر ممالک اس بات کے منتظر ہیں کہ آخر طالبان کی سمت کیا ہو گی۔ 

نوبل انعام یافتہ پاکستانی خاتون ملالہ یوسف زئی نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ دنیا کے ممالک کو چاہیے کہ وہ طالبان پر اس بات کے لیے زور ڈالیں کہ بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہے اور طالبات کو اسکول جانے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔

 ان کا کہنا تھا، ''ہمیں لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت کرنی ہو گی کیونکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔''

ص ز/ ج ا (اے ایف پی، اے پی، روئٹرز) 

ویڈیو دیکھیے 01:41

افغانستان ميں اربوں کے معدنی ذخائر، عالمی قوتوں کا اگلا ہدف؟

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات