فلپائنی شہر مراوی سے اسلامک اسٹيٹ کا خاتمہ | حالات حاضرہ | DW | 23.10.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلپائنی شہر مراوی سے اسلامک اسٹيٹ کا خاتمہ

فلپائن کی حکومت نے ملک کے جنوبی شہر مراوی پر دہشت گرد نيٹ ورک اسلامک اسٹيٹ کے جنگجوؤں کا قبضہ ختم کرانے کے ليے پانچ ماہ سے جاری عسکری آپريشن کے اختتام کا اعلان کر ديا ہے۔

فلپائن کے وزير دفاع ڈيلفين لورينزانا نے اعلان کيا کہ مراوی ميں فوجی کارروائی اب اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے شمالی شہر کلارک ميں علاقائی وزرائے دفاع کے ايک اجلاس کے موقع پر رپورٹروں کے ساتھ پير کی صبح گفتگو کرتے ہوئے يہ بات بتائی۔ ان کے بقول اب اس شہر ميں ايک بھی جنگجو موجود نہيں۔

اسلامک اسٹيٹ کے سينکڑوں حاميوں نے رواں سال تيئس مئی کو اس شہر پر چڑھائی کر دی تھی۔ جنگجوؤں نے شہريوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے شہر کے مختلف مقامات پر قبضہ کر ليا تھا۔ مراوی کو دہشت گردوں کی گرفت سے نکالنے کے ليے امريکی حمايت کے ساتھ فلپائنی فوج نے باقاعدہ عسکری آپريشن شروع کيا جس ميں 920 جنگجو، 165 فوجی اور 47 سويلين مارے گئے۔ شہر ميں پانچ ماہ تک جاری رہنے والے فضائی حملوں اور زمينی لڑائی کے سبب قريب چار لاکھ شہريوں کو مراوی سے محفوظ مقامات پر منتقل بھی کيا گيا۔

فلپائنی فوج کے سربراہ جنرل ايڈوارڈو آنو نے شہر کی تازہ صورتحال پر بريفنگ ديتے ہوئے آج بتايا کہ داعش کے حامی جنگجو دو عمارات ميں محصور تھے، جنہيں آخری ايام کے آپريشن ميں ہلاک کر ديا گيا۔ ان کے بقول لڑائی ختم ہونے کے بعد بياليس جنگجوؤں کی لاشيں برآمد ہوئيں، جن ميں دو عورتيں اور پانچ غير ملکی بھی شامل تھے۔ يہ امر اہم ہے کہ اس عسکری آپریشن کے دوران انتہائی مطلوب دہشت گرد اِسنیلون ہاپیلون عرف ابو عبداللہ فلپینی اور عمر خیام ماؤتے بھی مارے گئے۔

اکثريتی طور پر مسيحی ملک فلپائن ميں مسلمانوں کی اقليت ملک کے جنوبی حصے کو اپنا قديم آبائی علاقہ مانتی ہے۔ مسلمان باغی آزادی يا خود مختاری کے ليے سن 1970 کی دہائی سے لڑائی جاری رکھے ہوئے ہيں اور اس مسلح تنازعے ميں ايک لاکھ بيس ہزار افراد کی جانيں جا چکی ہيں۔ ملک کے سب سے بڑے باغی مسلمان گروہ ’مورو اسلامک لبريشن فرنٹ‘ کے اہلکار مسلح بغاوت کے خاتمے کے ليے حکومت کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہيں۔ اس تنظيم کے ارکان اسلامک اسٹيٹ کو تنقيد کا نشانہ بناتے رہے ہيں۔ تاہم فلپائن کے اس حصے ميں ديگر ايسے کئی گروہ سرگرم ہيں، جنہيں علاقائی امن ميں کوئی دلچسپی نہيں۔

DW.COM

اشتہار