’فلم انڈسٹری کا حصہ بننا مردوں کی دنیا میں شامل ہونے کے مترادف ہے‘ | وجود زن | DW | 04.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

وجود زن

’فلم انڈسٹری کا حصہ بننا مردوں کی دنیا میں شامل ہونے کے مترادف ہے‘

بھارتی اداکارہ تانوشری دتا نے بالی وڈ کے نامور اداکار نانا پاٹیکر پر الزام عائد کیا ہے کہ پاٹیکر نے دس برس قبل ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران دتا کو جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

بھارتی اداکارہ تانوشری دتا کے مطابق جب دس برس قبل نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسی کا الزام عائد کیا تو انہیں ڈرایا دھمکایا گیا تھا۔ ایک ہفتہ قبل دتا نے ان سابقہ الزامات کو ایک انٹرویو کے دوران دہرایا تو اس اداکارہ کی حمایت میں کئی شخصیات سامنے آئیں۔

بھارتی فلم انڈسٹری کے انتہائی منجھے ہوئے  اور معتبر اداکار نانا پاٹیکر کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلم ’ ہارن او کے پلیز‘ کی شوٹنگ کے دوران دتا کو ہراساں نہیں کیا۔ تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو اس حوالے سے پاٹیکر کے وکیل نے کوئی بیان تو نہیں دیا تاہم ان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کے خلاف قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

 دتا کو بالی وڈ کے بڑے نام جیسے کہ پر یانکا چوپڑا اور سونم کپور کی جانب سے حمایت ملی ہے۔ اس حوالے سے سونم کپور نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ  ہمیں  متاثرہ افراد کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے نا کہ ان کی نیت پر سوال اٹھانے چاہیں۔

اس کیس سے متعلق بالی وڈ لیجنڈ امیتابھ بچن  سے جب ایک صحافی نے سوال پوچھا تو  انہوں نے اپنے جواب میں کہا کہ نہ تو ان کا نام تانوشری دتا ہے اور نہ ہی نانا پاٹیکر۔ واضح جواب نہ دینے کے باعث لیجنڈری سپر سٹار کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بھارتی فلموں پر اپنے تبصروں کے لیے جانی جانے والی میناکشی شیڈے کا کہنا ہے کہ اب تبدیلی آ رہی ہے، اب خواتین جنسی ہراسی کے خلاف بات کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ شیڈے کا کہنا ہے کہ  بھارتی فلم انڈسٹری کو چند طاقت ور خاندان کنٹرول کر رہے ہیں اور یہ  بہت سے معاملات میں شفافیت کو ترجیح نہیں دیتے۔ شیڈے کی رائے میں پورا نظام مجرموں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

بھارتی اداکارہ زینت امان کو بھی ہراساں کیا گیا

دال میں کچھ کالا ہے یا محض الزام تراشی

دتا کے علاوہ ایک اور اداکارہ سری ریڈی نے بھی جنسی ہراسی سے متعلق کھل کر بات کی ہے۔ ریڈی تامل اور تیلگو زبانوں کی فلموں میں نمایاں اداکارہ کے طور پر  کام کرتی ہیں۔ ریڈی نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا،’’ اب سچ سامنے آ رہا ہے، بہت سی نوجوان لڑکیاں جو فلم انڈسٹری میں اپنا نام بنانا چاہتی ہیں ان کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور انہیں بعض اوقات ایک طوائف سمجھا جاتا ہے۔

اس سال جون میں ملیالم زبان میں بنائی جانی والی فلموں پر مبنی فلم ایسوسی ایشن کی رکن تین اداکاراؤں نے فلم ایسو سی ایشن کو اس لیے چھوڑ دیا کیوں کہ ایک اداکار جس نے ایک اداکارہ کو اغوا اور اس کا ریپ کیا تھا اسے اس ایسوسی ایشن نے اپنا  رکن بنا لیا تھا۔ اس واقع کی وجہ  سے ’ویمن ان سینیما کلیکٹیو‘ کے نام سے ایک تنظیم  تشکیل پائی۔  ملیالم فلموں کی ایک نامور ہدایت کار بینا پال کا کہنا ہے،’’ فلم انڈسٹری میں شامل ہونا مردوں کی دنیا میں شامل ہونے کے مترادف ہے جہاں عورتوں کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔‘‘

بھارت میں وزارت برائے خواتین  اور بچوں نے گزشتہ برس دسمبر میں  تمام بڑے پروڈکشن ہاؤسز کو نوٹس بھیجے تھے کہ وہ کام کی جگہوں پر جنسی ہراسی کے قانون کی پاسداری کریں۔  ’ویمن ان سینیما کلیکٹیو‘ کی رکن ودھو ونسینٹ کا کہنا ہے،’’ ہم اب اس لیے آواز اٹھا رہے ہیں کیوں کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 03:38

بس اب بہت ہو گیا!

DW.COM

Audios and videos on the topic