فلسطینی طیبہ بیئر، مسلمانوں کیلیے بھی اور یہودیوں کے لیے بھی | معاشرہ | DW | 19.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

فلسطینی طیبہ بیئر، مسلمانوں کیلیے بھی اور یہودیوں کے لیے بھی

ویسٹ بینک شاید ایسی واحد جگہ ہے جہاں مسلمانوں کے لیے ’حلال‘ اور یہودیوں کے لیے ’کوشر‘ بیئر تیار کی جاتی ہے۔ بیئر کشید کرنے کا طریقہ البتہ جرمن معیار کے مطابق ہے۔

مغربی کنارے یا غرب اردن کے شہر رملہ کے نواح میں الطیبہ بروری کے مالک ندیم خوری نے ڈی ڈبلیو عربی کے نمائدہ جمال سعد سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی تیار کردہ بیئر''لوگوں کو سیاست سے دور رہ کر خوشی اور سکون حاصل کرنے کا موقع‘‘ فراہم کرتی ہے۔

رملہ سے محض بارہ کلو میٹر دور خوبصورت پہاڑوں کے بیچ واقع طیبہ نامی قصبے کی آبادی قریب پندرہ سو نفوس پر مشتمل ہے۔ ندیم کا تعلق بھی اسی گاؤں سے ہے اور انہوں نے شراب کی فیکٹری بھی زیتون کے درختوں سے بھرے انہیں پہاڑوں کے درمیان شروع کر رکھی ہے۔

ایک خواب جو حقیقت بنا

الطیبہ بیئر کمپنی شروع کرنے والے ندیم خوری شراب کی کشید کے عمل کی خود نگرانی کرتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ندیم نے بتایا کہ بیئر بنانا انہوں نے پچیس برس قبل امریکا میں سیکھا تھا۔ تب سے ان کا خواب تھا کہ وہ اپنے علاقے میں شراب کی فیکٹری شروع کریں۔

ندیم کے مطابق ان کے خاندان کے علاوہ سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ اب وہ اور ان کا خاندان بیئر بنانے کے علاوہ وائن اور زیتون کا تیل بھی تیار کرتے ہیں اور ایک ہوٹل بھی ان کی ملکیت ہے۔

بیئر کی بوتل میں فلسطین کا مزہ!

الطیبہ بیئر فلسطینی نوجوانوں میں مقبول ہونے کے علاوہ مغربی ممالک میں بھی شہرت حاصل کر چکی ہے۔ یہاں چھ مختلف اقسام کی بیئر تیار کی جاتی ہے۔ جرمن معیار اور طریقے کے مطابق گولڈن اور ڈارک بیئر کے علاوہ الکحل کے بغیر بیئر بھی بنائی جاتی ہے۔

ندیم کے مطابق ان کی کمپنی کی تیارہ کردہ ساٹھ فیصد بیئر مغربی کنارے ہی میں فروخت ہوتی ہے جب کہ دس فیصد جرمنی سمیت چودہ ممالک میں برآمد کر دی جاتی ہے۔ باقی تیس فیصد اسرائیل میں فروخت ہوتی ہے۔ ندیم خوری کا کہنا تھا، ’’ہم سن 1994 سے اسرائیل میں بیئر روانہ کر رہے ہیں۔‘‘

ایک جام، امن کے نام

لیونیڈ لیپکین طیبہ قصبے سے 140 کلو میٹر دور اسرائیل کے ساحلی شہر حیفہ میں ایک بار کے مالک ہیں۔ الطیبہ بیئر ان کی بار میں بھی دستیاب ہے۔

 ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’بیئر لوگوں کے مابین گفتگو کا ایک ذریعہ ہے۔‘‘ فلسطینی بیئر فروخت کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا، ’’بیئر ہمیں موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ جانیں۔ پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہماری زندگیاں اور ہمارے مسائل بھی ایک جیسے ہی ہیں۔‘‘

بیئر کی بوتل، جس میں دکھ بھی بھرا ہے

شراب کی تیاری کے لیے پانی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ الطیبہ کمپنی کو پانی طیبہ قصبے سے تین کلو میٹر دور عین سامیة جھیل سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ یہ جھیل اسرائیل کے قبضے میں ہے۔

ندیم خوری کے مطابق انہیں سب سے زیادہ مشکل پانی کے حصول میں ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’نقل و حرکت پر پابندی اور پانی کی سپلائی کی حد مقرر ہونے کے باعث ہمیں کافی مشکلات پیش آتی ہیں۔ کئی مرتبہ تو ہمیں گدھوں پر پانی لاد کر لانا پڑتا ہے۔ لیکن مشکلات کے باوجود ہم بیئر کی پیداوار جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

ایک اور اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ فلسطینی علاقوں میں نہ تو کوئی بندرگاہ ہے اور نہ ہی ہوائی اڈہ۔ دیگر مصنوعات کی طرح ندیم کو بیئر بھی اسرائیل کے ذریعے برآمد کرنا پڑتی ہے۔ ندیم کے مطابق، ’’اسرائیلی بندرگاہوں کے ذریعے بیئر کی برآمد میں طویل وقت لگتا ہے۔ اسرائیلی حکام پہلے تمام سامان کی جانچ پڑتال کرتے ہیں جس میں اکثر اوقات بہت زیادہ وقت صرف ہوتا ہے۔‘‘

ندیم خوری کا بیٹا امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی سے پڑھ کر وطن لوٹا ہے۔ اب اس نے بھی وائن کی فیکٹری شروع کی ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کیا بیئر اور وائن فلسطین اور اسرائیل کے مابین امن کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:17

پیشاب سے بنی بیئر ’پِسنر‘

DW.COM

Audios and videos on the topic