فلسطینی خواتین کی ویڈیو سوشل میڈیا پر زیر بحث | حالات حاضرہ | DW | 22.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلسطینی خواتین کی ویڈیو سوشل میڈیا پر زیر بحث

گزشتہ روز دو  فلسطینی خواتین کو ایک اسرائیلی فوجی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان خواتین کی ایک ایسی ویڈیو وائرل ہو گئی تھی جس میں ان دونوں خواتین کو اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

43 سالہ ناریمان تمیمی اور 21 سالہ نور ناجی تمیمی کی گرفتاری کے بعد فلسطین اور اسرائیل میں سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔

ان کی ویڈیو مغربی کنارے میں واقع ایک گاوں میں موبائل کیمرے سے فلمائی گئی تھی۔ اس میں نور اور ان کی 17 سالہ  رشتہ دار عہد تمیمی دو اسرائیلی فوجیوں کو دھکے دینے کے ساتھ ساتھ لاتیں برساتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

بھاری اسلحہ سے لیس دونوں فوجیوں نے ان کی اس حرکت پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا کیونکہ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ یہ حملہ صرف ان فوجیوں کو اکسانے یا اشتعال دلانے کے لیے کر رہے ہیں۔ دنوں فوجی اُس وقت پیچھے ہٹ گئے جب احد کی والدہ ناریمان بھی حملہ کرنے والوں میں شامل ہوگئیں۔

اسرائیلی خواتین فلسطینی تنازعے کے حل کی خواہاں

ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوجی ان دونوں رشتہ دارں کے مکان کی سیڑھیوں پر کھڑے ہیں اور دونوں رشتہ دار ان کوواپس جانے کا کہہ رہے ہیں۔

اسرائیلی فوجی عدالت نے ان دونوں خواتین کو پیر کے روز تک حراست میں رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس تناظر میں ایک فوجی ذریعے کا کہنا تھا کہ اُن کی رہائی سے تفتیشی عمل مجروح ہو سکتا تھا۔

 جبکہ عہد تمیمی کو فوجیوں پر مجرمانہ حملے، علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال کو نقصان پہنچانے،اشتعال انگیزی جیسے جرائم کے الزامات کا سامنا ہے۔ وہ بھی پیر تک حراست میں رکھی جائے گی۔

مبینہ طور پر ان حملوں کی ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد اسے اسرائیلی میڈیا کی جانب سے کافی اچھالا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے فوجیوں کو اشتعال دلانے کی کوششیں کی جاتی رہتی ہیں۔  تاہم فلسطینی میڈیا کی جانب سے احد کو رات کے اندھیرے میں گرفتار کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ فوجی کاروائی کے خلاف مزاحمت کرنا عوام کا حق ہے۔

DW.COM

اشتہار