فریاد دہلی کے اجڑے دیار سے | دستک | DW | 03.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

فریاد دہلی کے اجڑے دیار سے

سنا ہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی ایک ایسا شہر ہے جو آٹھ بار اجڑا ہے۔ یہ شہر تیمور لنگ، نادر شاہ اور برطانوی افواج کی غارت گری جھیل چکا ہے۔سن 1984میں تو اس شہر کے شہریوں کے خون سے سڑکیں لال ہو گئی تھیں۔

مجھے خواب و خیال میں بھی کبھی ایسا اندیشہ نہ تھا کہ میں خود اس شہر کو ویران ہوتے ہوئے اور اس کے شہریوں کو بے بسی کی موت سے ہمکنار ہوتے ہوئے دیکھوں گی۔ تاریخ کی کتابوں میں پڑھا تھا کہ سن 1665میں جب لندن کو طاعون کی وباء نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، تو رات کی تاریکی میں ایک گاڑی بان نمودار ہوتا تھا، جو گلی گلی گھوم کر آواز یں لگاتا تھا، ”اپنے گھروں کے مردے باہر نکالو”۔ اس کچرا نما گاڑی میں مردوں کو ٹھونس کر ان کے رشتہ دار اپنے پیاروں کو آخری سفر کے لیے رخصت کرتے تھے۔
میں دہلی کے جس رہائشی علاقے میں رہتی ہوں، پچھلے دس روز سے صبح و شام کسی نہ کسی فلیٹ یا بلڈنگ سے رونے دھونے کی آوازیں آنا تو تو معمول بن گیا ہے۔ ابھی یہ آوازیں تھمی نہیں  ہوتیں کہ کسی دوسرے فلیٹ سے ماتم کی آوازیں کلیجہ شق کر دیتی ہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ آپ تعزیت پرسی اور ان کے غم میں شریک ہونے بھی نہیں جاسکتے ہیں۔ کیونکہ افراد خانہ اکثر قرنطینہ میں ہوتے ہیں۔ سچ کہوں، صبح بیدار ہوتے ہی، میں پہلے آپنے آپ کو پھر شوہر اور بیٹے کو جھنجوڑ کر اپنے آپ کو یقین دلاتی ہوں، کہ ہم سب ابھی سانس لے رہے ہیں اور پھر اوپر والے کا شکر ادا کرتی ہوں۔ یہ بلاگ میں انتہائی غمزدہ دل کے ساتھ تحریر کر رہی ہوں اور اسکو لکھتے ہوئے میں کئی بار رو پڑی ہوں۔

کرونا وائرس کے خوفناک بھنور سے نکالنے کی کوشش

 گزشتہ جمعرات کو میری ساس نے شکایت کی کہ وہ کئی روز سے ہلکے بخار میں مبتلا ہے۔ کرونا کا ٹیسٹ کرایا۔ جانچ کی رپورٹ منفی تھی۔ لہذا تشخیص ہوئی کہ یہ معمولی بخار ہے۔ تاہم رات کے آٹھ بجے کے قریب انکو سانس لینے میں تکلیف ہونا شروع ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ انکے جسم میں آکسیجن کی سیچوریشن کا معیار 54 تک گر گیا تھا۔ اگر یہ معیار 90 سے کم پہنچ جائے تو جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ ایمبولینس کسی اسپتال سے منگوانا کارے دارد والا معاملہ تھا۔ اسی لیے وقت ضائع کئے بغیر ہم ان کو اپنی گاڑی میں لٹا کر ہسپتال کی طرف روانہ ہوگئے۔ ہسپتال میں ڈاکٹر تو دور کی بات، کوئی مدد گار بھی موجود نہیں تھا۔ ہم نے ایک اسٹریچر تلاش کرکے مریض کو لٹا کر ایمرجنسی کا راستہ تلاش کرنا شروع کردیا۔ کوئی ڈاکٹر انکے پاس آکر معائنہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسپتال میں بیڈ نہ آکسیجن کا انتظا م تھا۔ایک ہجوم مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہا تھا۔
دہلی میں میرے پچھلے 15سال جرنلزم اور قومی میڈیا میں کام کرنے اور لاتعداد تعلقات کے باوجود کوئی مدد کرنے نہیں آیا۔ بے بسی اور لاچارگی کی حالت میں ہم نے ان کو دوبارہ اپنی کار میں لٹا کر دوسرے اسپتال کا رخ کیا۔ لیکن یہاں بھی وہی منظر تھا۔ وہاں تو گیٹ بھی نہیں کھولا گیا۔

ساس کا سر میری گود تھا او روہ سانس لینے کے لیے بری طرح ہانپ رہی تھی۔ میں بار بار ان کے سینے کو مسل کر ان کو سانس لینے میں مدددینے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر یہ کوششیں کتنی بار آور ہوسکتی تھیں۔ وہ اس دوران بے ہوش ہوگئی۔ اب ہم تیسرے اور پھر چوتھے ہسپتال کے دروازہ پر دستک دینے پہنچ گئے۔ میں مسلسل فون پر اپنے تمام رابطوں کر بروے کار لاکر مدد کی دہائی دے رہی تھی۔ آخر کار کئی گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد گھر سے16 کلومیٹر صفدرجنگ ہسپتال میں ایک ڈاکٹر میری ساس کا معائنہ کرنے پر راضی ہوگیا۔ مگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ شاید میری ساس کو ہماری بھاگ دوڑ، کسمپرسی اور لاچاری دیکھی نہیں گئی۔ کب اس نے گاڑی میں ہی دم توڑ دیا تھا، ہمیں پتہ ہی نہیں چل سکا۔ ڈاکٹر نے بس نبض دیکھ کر بتا یا کہ ان کو اب کسی علاج اور آکسیجن کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک قیامت برپا تھی

اسپتال کے باہر اور اندر ہم نے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی قطاریں دیکھی، جو مدد کے لیے دہائی دے رہے تھے۔پانچوں اسپتالوں میں ہمارے ارد گرد لوگ تڑپ تڑپ کر مر رہے تھے۔ ۔ ایک افسردگی اور شکستگی کا ماحول تھا۔ لگتا تھا کہ عالم برزخ ہے۔ اس ایک ہفتہ کے دوران میں نے اپنے تین عزیزوں کو کھویا۔ یہ صرف میرے کہانی نہیں ہے۔ کورونا وائرس کی اس نئی لہر نے تقریباً پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ الیکشن کے انعقاد اور اتراکھنڈ کے شہر ہری دوار میں کمبھ میلہ نے تو اس وائرس کو پرساد کے روپ میں گھر گھر پہنچا دیا ہے۔ تقریبا ً ہر کسی گھر میں کسی نہ کسی عزیر کی موت یا انفیکشن کا شکار ہو گیا ہے۔

مجھے معلوم ہے کہ بس ایک آکسیجن سیلینڈر کی خاطر کئی خاندانوں کو اپنے زیور اور اثاثہ بیچنے پڑے ہیں۔ جو سیلینڈر چند سو یا ہزار میں دستیاب ہوتا ہے اس کی قیمت 60ہزار سے ایک لاکھ تک ہو گئی ہے اور بس چند گھنٹوں تک ساتھ دیتا ہے۔
قبرستان اور شمشان لاشوں سے اٹے پڑے ہیں۔ ارتھیوں پر برا جماں مردوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔آخری رسوم کے لیے دو یا تین دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ حالات سے پریشان اکثر افراد لاشوں کوشمشان یا قبرستان کے باہرہی چھوڑکر بھاگ رہے ہیں۔مارچ 1739 میں نادر شاہ نے جب دہلی پر حملہ کیا تو بتایا جاتا ہے کہ کئی ہزار افراد کی لاشیں قبرستان کے باہر پھینکی گئیں تھیں اور پھر انہیں باندھ کر جلایا گیا تھا۔دہلی کے فرمانروا محمد شاہ رنگیلا نے شہریوں کی بچانے کے بجائے اپنی جان اور مال کو بچانے پر ترجیح دی۔ یہی حال موجودہ حکمرانوں کا بھی ہے۔ عوام کو کورونا کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے۔آہ و فغان کی آوازیں ساؤتھ بلاک کے دفاتر یا لوک کلیان مارگ کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں۔ لگتا ہے کہ یہ آوازیں سنگین دیوارں کو شگاف کرنے اور حکام کے کانوں تک پہنچے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ کیا کسی ملک کا حاکم اس قدر بے حس، بے مروت اور بے اعتنا ء ہوسکتا ہے؟

ہندوستان کے ہر گاؤں و بستی میں شمشان آباد ہو رہے ہیں

ستم ظریفی دیکھئے،چندسال قبل اتر پردیش میں انتخابی مہم کے دوران ووٹ مانگنے اور ہندو ووٹوں کو لام بند کرنے کیلئے وزیر اعظم نریندر مود ی نے پچھلی حکومتوں پر طنز کیا تھا کہ وہ صرف قبرستانوں پر توجہ دیتے ہیں، گاؤں دیہات میں شمشان نہیں بناتے ہیں۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مودی جی نے تو مندر، کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کرنے پاکستان کو سبق سکھانے اور شہریت قانون کو لاگو کرنے کے لیے ووٹ مانگے تھے اور ان اقدامات کو انہوں نے ایمانداری کے ساتھ نافذ کرادیا۔ انہوں نے صحت عامہ اور عوامی بہبود سے متعلق کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔

آخر اس کو کیا کہیں گے، کہ دنیا میں ویکسین بنانے والے سب سے بڑے ملک بھارت نے جنوری تک کوئی ویکسین ہی بک نہیں کیا تھا۔ جب برطانیہ، امریکہ، یورپی یونین، آسٹریلیا، برازیل، جرمنی اورجاپان ایڈوانس میں پچھلے سال ہی فی کس 50 ملین سے 300 ملین ویکسین ڈوز تک بک کرہے تھے، بھارت نے جنوری میں سیریم انسٹیچوٹ سے 11ملین اور بھارت بائیو ٹیک سے 5.5ملین ڈوز کا پہلاآرڈر دے دیا۔ شاید مودی حکومت کو یقین نہیں تھا کہ ان کے سائنسدان ویکسین بنانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ پھر ویشو گرو یا عالمی پیشوا بننے اور چین کے ساتھ صحت سفارت کار ی میں مقابلہ کرنے کے لیے 95ممالک کو 66ملین ڈوز روانہ کر دیے۔ اور اس دوڑ میں بھارت کا ہی سانس اس قدر پھول گیا ہے کہ دم نکل سکتا ہے۔اس سانس کو بحال کرنے کے لیے اپنی طرم خانی بھلا کر اب ہم دنیا کی طرف مدد کیلئے دیکھ رہے ہیں۔

میر تقی میر اگر آج زندہ ہوتے، تو ایک بار پھر کہتے۔
دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے برباد کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

ملتے جلتے مندرجات