فربہ افراد کیوں کم جیتے ہیں؟ | صحت | DW | 27.03.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

فربہ افراد کیوں کم جیتے ہیں؟

ایک تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موٹے اور فربہ افراد کی عمر دیگر افراد کے مقابلے میں مختصر ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے افراد دوسروں کے مقابلے میں عارضہ قلب جیسی بیماریوں سے زیادہ نبرد آزما رہتے ہیں۔

امریکی محققین کی اس تازہ رپورٹ میں ایک لاکھ نوے ہزار سے زائد بالغ افراد کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکا میں گزشتہ سات دہائیوں میں کی جانے والے دس مختلف تحقیقاتی رپورٹوں کے لیے جمع کردہ ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے۔

موٹاپا اور ذیابیطس بھی سرطان کا سبب بن رہے ہیں

امیر اور غریب ممالک، دونوں میں بچوں میں موٹاپا بڑھتا ہوا

مسلسل بیٹھے رہنا سرطان اور دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے

رپورٹ کے مطابق فربہ اور زیادہ وزن کے حامل افراد اور دل کی بیماریوں کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ اس رپورٹ میں ان افراد کا ڈیٹا شامل کیا گیا ہے، جو مطالعاتی جائزوں کا حصہ بننے سے قبل عارضہ قلب میں مبتلا نہیں تھے۔ بتایا گیا ہے کہ زیادہ وزن کے حامل ستر فیصد مردوں اور ساٹھ فیصد خواتین کو چالیس برس یا اس سے زائد عمر کے بعد دل اور اس طرز کی دیگر بیماریوں میں مبتلا دیکھا گیا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چالیس سے 59 برس کی عمر کے مردوں میں اسٹروک، دل کا دورہ اور دل ناکارہ ہونے یا عارضہ قلب کی وجہ سے انتقال کر جانے والے فربہ افراد کی تعداد نارمل وزن کے حامل افراد سے 21 فیصد زائد دیکھی گئی۔

اس رپورٹ کے مطابق انتہائی زیادہ وزن کے حامل مردوں میں دل کی بیماری کی وجہ سے فوت ہو جانے کی شرح دیگر افراد کے مقابلے میں تین گنا زائد دیکھی گئی ہے، جب کہ انتہائی وزن کی حامل خواتین میں یہ شرح نارمل وزن کی حامل خواتین سے دوگنی ہے۔

شکاگو کی نارتھ ویسٹرن یورنیورسٹی فائن برگ اسکول اور میڈیسن سے وابستہ اس مطالعاتی رپورٹ کی مصنفہ ڈاکٹر سعدیہ خان کے مطابق، ’’ہم نے لوگوں کے وزن اور بیماریوں خصوصاﹰ عارضہ قلب کے درمیان ایک واضح تعلق دیکھا ہے، جو بتا رہا ہے کہ زیادہ وزن کے حامل افراد مختصر جیتے ہیں۔‘‘

DW.COM