فرانسیسی شہر نِیس نے بھی ’بُرقینی‘ پر پابندی لگا دی | معاشرہ | DW | 19.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فرانسیسی شہر نِیس نے بھی ’بُرقینی‘ پر پابندی لگا دی

مسلمان خواتین کے پیراکی کے لباس ’بُرقینی‘ پر پابندی لگانے والے فرانسیسی شہروں میں اب نِیس بھی شامل ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے جنوب مشرقی فرانس کے 15 شہروں اور قصبوں کے علاوہ مزید کئی شہر بھی ’بُرقینی‘ پر پابندی لگا چکے ہیں۔

اس پابندی کا اعلان کرتے ہوئے حکام نے خصوصاً نِیس شہر میں گزشتہ مہینے فرانس کے قومی دن کے موقع پر ایک ٹرک حملے میں پچاسی افراد کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ اس کے بارہ ہی روز بعد روئن نامی شہر کے ایک چرچ میں ایک کیتھولک پادری کے قتل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

نِیس کی انتظامیہ نے بھی اس پابندی کا اعلان کرتے ہوئےکم و بیش وہی زبان استعمال کی ہے، جو فرانس کے دیگر ساحلی شہروں اور قصبوں نے اپنے ہاں یہ پابندی لگاتے وقت استعمال کی تھی۔ اس اعلان کے مطابق انتظامیہ نے اس لباس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ’یہ ایک ایسے دور میں کھلم کھلا ایک (مخصوص) مذہب کے ساتھ لگاؤ کا اظہار کرتا ہے، جس میں فرانس اور عبادت گاہیں دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بن رہی ہیں‘۔

واضح رہے کہ پیراکی کے لیے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنے والے اس اسلامی لباس پر سیکولر فرانس میں آج کل ایک گرما گرم بحث جاری ہے اور جنوب مشرقی فرانس کے پندرہ شہروں اور قصبوں کے ساتھ مزید کئی شہر بھی ’بُرقینی‘ پر پابندی لگا چکے ہیں۔ ان شہروں میں مشہورِ زمانہ بین الاقوامی فلمی میلے ’کن‘ کا اسی نام کا میزبان شہر بھی شامل ہے، جہاں گزشتہ اختتامِ ہفتہ پر تین خواتین کو ’بُرقینی‘ پہننے پر اڑتیس اڑتیس یورو (تینتالیس ڈالر) کا جرمانہ بھی کیا گیا۔

نِیس کے ڈپٹی میئر کرسٹیان ایسٹروسی نے، جن کا تعلق دائیں بازو کی اعتدال پسند جماعت ری پبلکن پارٹی سے ہے، وزیر اعظم مانوئل والس کو ایک خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’چہرے کو چھُپانا یا پورے جسم کو ڈھانپنے والا لباس پہن کر ساحل پر جانا ہمارے سماجی تعلقات کی تفہیم کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا‘۔

سوشلسٹ وزیر اعظم والس کا بدھ کے روز کا یہ بیان تنقید کی زَد میں آیا تھا کہ ’بُرقینی فرانس اور ری پبلک کی اَقدار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی‘۔ والس نے اس لباس پر پابندی لگانے والے شہروں کے میئرز کے لیے اپنی حمایت کے جواز میں ’جہادی حملوں‘ کے بعد فرانس میں پائی جانے والی کشیدگی کا حوالہ دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ’یہ لباس خواتین کی غلامی کی علامت ہے‘۔

فرانس کے ساحلوں پر خال خال ہی مسلمان خواتین ’بُرقینی‘ میں ملبوس نظر آتی ہیں۔ زیادہ تر مسلم خواتین نے سمندری پانی میں غسل کرتے وقت اپنا معمول کا مکمل لباس پہنا ہوتا ہے اور سر پر اسکارف باندھا ہوتا ہے۔ 2010ء میں فرانس نے پہلے یورپی ملک کے طور پر چہرے کے مکمل نقاب پر پابندی عائد کی تھی۔

DW.COM

اشتہار