1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Deutschland Grenzkontrolle Österreich -Deutschland
ماہرین کے مطابق مستقبل میں ترکی چھوڑنے والے شہریوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گاتصویر: Peter Kneffel/dpa/picture alliance
مہاجرتترکی

فرار ہو کر جرمنی آنے والے ترک باشندوں کی تعداد میں اضافہ

10 نومبر 2022

آزادی اظہار پر پابندیاں، ہوش ربا مہنگائی اور دن بدن بڑھتی ہوئی غربت۔ ترکی میں نہ صرف سیاسی بلکہ اقتصادی صورتحال بھی کشیدہ ہے۔ اس ملک سے فرار ہو کر جرمنی آنے والے افراد کی تعداد میں حیران کن اضافہ ہو رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/4JLRJ

رواں سال کے صرف پہلے نو مہینوں میں جرمن پولیس غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے 5362 ترک شہریوں کو گرفتار کر چکی ہے۔ اس کے برعکس گزشتہ پورے سال میں یہ تعداد2531 تھی جبکہ سن 2020 میں یہ تعداد اس سے بھی کم یعنی 1629 تھی۔

ترک اسمگلروں کی تعداد میں بھی اضافہ

اسی طرح ترک پاسپورٹ رکھنے والے اسمگلروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی پولیس کے مطابق رواں سال کے پہلے نو مہینوں میں ترک شہریت کے حامل  185 اسمگلروں کا پتہ چلایا گیا ہے۔ گزشتہ برس ایسے اسمگلروں کی تعداد فقط 111 تھی جبکہ سن 2020 میں یہ 56 تھے۔

پناہ کے متلاشیوں کے اپنے بیانات کے مطابق وہ بلقان کے راستے جرمنی آتے ہیں۔ اسمگلر فی شخص 6000 سے 8000 یورو کے درمیان رقم وصول کر رہے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ترکی سے کیوں زیادہ سے زیادہ لوگ یہ خطرناک سفر اختیار کرتے ہوئے جرمنی پہنچ رہے ہیں؟

اُمیدوں سے کھیلنے کا کاروبار

ترکی میں گزشتہ ایک سال سے نہ صرف اقتصادی بلکہ سیاسی صورتحال بھی خراب ہو رہی ہے۔ ترک پارلیمان کی اکثریت نے حال ہی میں ایک قانون منظور کیا ہے، جس کے تحت 'جھوٹی یا گمراہ کن‘ معلومات پھیلانے پر تین سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

حکومت کا حامی استغاثہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آیا کوئی پیغام غلط یا گمراہ کن ہے۔ ناقدین کے مطابق نام نہاد 'ڈس انفارمیشن قانون‘ آزادی اظہار اور آزادی صحافت کو کمزور کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ اسی طرح پیشہ ورانہ تنظیمیں، جو حکومت کے ساتھ منسلک نہیں ہیں، ترک عدلیہ کا تیزی سے نشانہ بن رہی ہیں۔

اس کے علاوہ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی ترک شہریوں کا جینا مشکل بنا رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 85.5 فیصد رہی۔ عوام کی قوت خرید کم ہوتی جا رہی ہے اور بہت سے لوگ نوکری ہونے کے باوجود اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

ترکی: استبول کا کوڑا اٹھانے والے مہنگائی سے پریشان

ترک نوجوانوں میں غصہ

ترکی میں خاص طور پر نوجوان مایوسی کا شکار ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 17 سے 30 سال کی عمر کے 71 فیصد سے زیادہ افراد کو ملک میں اپنا مستقبل روشن نظر نہیں آتا۔ ان میں سے تقریباً 82 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ترکی چھوڑنا چاہتے ہیں اور اگر ہو سکے تو بیرون ملک مقیم ہو جائیں گے۔

ترک ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن 'ٹی ٹی بی‘ کا کہنا ہے کہ رواں برس ستمبر تک تقریباﹰ 2000  ڈاکٹروں نے بیرون ملک جانے کے لیے ورک پرمٹ کی درخواست دی تھی۔ جرمنی میں لوئر سیکسنی ریفیوجی کونسل کے وکیل اور بورڈ ممبر دیندار کیلوگلو بھی ترکی سے پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو تسلیم کرتے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ''خاص طور پر نوجوان پناہ گزین ہمیں بتاتے ہیں کہ انہیں اپنے وطن میں روشن مستقبل کا کوئی امکان نظر نہیں آتا اور نہ ہی کوئی امید کی کرن دکھائی دیتی ہے۔‘‘

سیاسی پناہ کی بڑھتی ہوئی درخواستیں

جرمنی میں سیاسی پناہ سے متعلق اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ بڑی تعداد میں ترک شہری جرمنی پہنچ رہے ہیں۔ فیڈرل آفس فار مائیگریشن اینڈ ریفیوجیز (بی اے ایم ایف) کے مطابق رواں برس جنوری سے اکتوبر تک تقریباً 16 ہزار ترک باشندوں نے سیاسی پناہ کے لیے درخواست دی ہے۔ اس طرح تقریباﹰ 175.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستوں کے حوالے سے شام اور افغانستان کے بعد ترکی تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ جرمن پارلیمان میں بائیں بازو کی رکن کلارا بونگر کے لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ ان کی رائے میں یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہاں حکومت کے مخالفین کے لیے سیاسی صورت حال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، ''جبر میں اضافہ ہو رہا ہے اور صورتحال خاص طور پر کردوں کے لیے خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔‘‘

ماہرین کے مطابق مستقبل میں ترکی چھوڑنے والے شہریوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا کیوں کہ نہ تو وہاں سیاسی استحکام پیدا ہو رہا ہے اور نہ ہی بیمار معیشت میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

ایلماس توپچو ( ا ا / ش ح)

ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں

ملتے جلتے موضوعات

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan Ex-Präsident Pervez Musharraf

تاریخ میں پرویز مشرف کو کیسے یاد رکھا جائے گا؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں