فارک باغیوں سے مذاکرات ، بگوٹا حکومت کی تصدیق | حالات حاضرہ | DW | 28.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فارک باغیوں سے مذاکرات ، بگوٹا حکومت کی تصدیق

کولمبیا کے صدر خوان مانوئل سانتوس نے تصدیق کر دی ہے کہ جامع امن عمل کی بنیاد رکھنے کے لیے بگوٹا حکومت ملک کی سب سے بڑی باغی تحریک فارک سے ’ابتدائی بات چیت‘ کر رہی ہے۔

اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے سانتوس نے کہا: ’’ جب سے میں نے اقتدار سنبھالا ہے، میں نے اس آئینی ذمہ داری کا احترام کیا ہے کہ ملک میں قیام امن کی کوشش کی جائے۔ ہم نے فارک باغیوں سے ابتدائی بات چیت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ اس تنازعے کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔‘‘

صدر سانتوس نے البتہ یہ نہیں بتایا کہ امن عمل کا باقاعدہ سلسلہ شروع کرنے کے لیے باغیوں کے ساتھ یہ ابتدائی مذاکرات کہاں ہوئے اور ان میں کن حکومتی اہلکاروں نے حصہ لیا۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ کچھ دنوں میں ان ابتدائی مذاکرات کے نتائج سامنے آ جائیں گے۔

Juan Manuel Santos

کولمبیا کے صدر خوان مانوئل سانتوس

اس سے قبل بگوٹا حکومت نے 2002ء میں ریولوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا FARC کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی تھی۔ اس وقت حکومت نے ان مذاکرات کا سلسلہ یہ کہہ کر ختم کر دیا تھا کہ باغی مختلف علاقوں سے حفاظتی فورسز کے انخلاء کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے طاقت جمع کر رہے ہیں۔

2010ء میں اقتدار سنبھالنے والے صدر سانتوس نے کہا ہے کہ اس مرتبہ باغیوں کے ساتھ رابطوں کے دوران ملک بھر میں تعینات نہ تو سکیورٹی فورسز اپنی کارروائیاں معطل کریں گی اور نہ ہی کسی علاقے سے ان فورسز کو واپس بلوایا جائے گا۔

سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کیے گئے صدر سانتوس کے اس خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک اور باغی گروہ نیشنل لبریشن آرمی ELN نے بھی امن عمل کا حصہ بننے کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پائیدار قیام امن کے لیے بگوٹا حکومت اس گروہ سے بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

سانتوس نے ان مذاکرات کے حوالے سے تین نکات پر زور دیا: ’’ہمیں لازمی طور پر ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے تاکہ وہ دہرائی نہ جائیں، امن مذاکرات کا کوئی بھی سلسلہ تنازعے کے خاتمے کا باعث بننا چاہیے اور یہ کہ نہ تو فوج اپنی کارروائیوں کو روکے گی اور نہ انہیں واپس بیرکوں میں بلایا جائے گا۔‘‘

سانتوس کے خطاب سے قبل ملک کے سابق نائب صدر فرانسیسکو سانتوس نے کہا تھا کہ فریقین امن مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے رضا مند ہو چکے ہیں اور سلسلہ پانچ اکتوبر کو ناورے کے دارالحکومت اوسلو میں شروع ہوگا جبکہ بعدازاں کیوبا کے شہر ہوانا میں اسے جاری رکھا جائے گا۔ کولمبیا کے میڈیا پر بھی ایسی ہی خبریں پیش کی جارہی ہیں۔

ARCHIVBILD Konflikt mit FARC-Rebellen in Kolumbien

مذاکرات کے دوران نہ تو فوج اپنی کارروائیوں کو روکے گی اور نہ انہیں واپس بیرکوں میں بلایا جائے گا، صدر سانتوس

کولمبیا کے سابق کئی حکومتی اہلکاروں نے حکومت اور باغیوں کے مابین مذاکرات کےاس نئے سلسلے کو مثبت انداز میں دیکھا ہے۔ کولمبیا کے سابق صدر ارنیستو سامپئر کے دور میں 1995تا 1998ء تک امن کمشنر کے طور پر کام کرنے والے تجربہ کار سیاستدان ڈینئل گارشیا پِنا نے کہا ہے کہ اگرحکومت باغیوں کے ساتھ رابطے میں ہے تو میں پر امید ہوں، ’’حکومت اور باغیوں دونوں کو علم ہو چکا ہے کہ جنگ جاری رکھنا فضول ہے۔‘‘

فارک تحریک 1964ء میں شروع ہوئی تھی۔ مارکسی نظریات سے متاثر یہ باغی تحریک لاطینی امریکا میں نہ صرف سب سے بڑی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 9 ہزار افراد فارک جنگجو گروپ سے وابستہ ہیں۔ فارک نے رواں برس فروری میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ ان باغیوں نے اپریل میں دس یرغمالیوں کو آزاد کر دیا تھا تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ اب بھی درجنوں افراد ان کی قید میں ہیں۔ ELN سے وابستہ جنگجوؤں کی تعداد ڈھائی ہزار بتائی جاتی ہے۔

ab/ng (AFP)