عيد کے بعد بات کريں گے، طالبان کا کابل حکومت کے نام پيغام | حالات حاضرہ | DW | 24.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عيد کے بعد بات کريں گے، طالبان کا کابل حکومت کے نام پيغام

افغان طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ طالبان اور سیاسی حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل کئی ہفتوں سے تعطل کا شکار ہے۔

امریکا کے ساتھ طالبان کی رواں برس انتیس فروری کو طے پانے والی ڈیل کی روشنی میں امکان پیدا ہوا تھا کہ افغانستان میں قیام امن ممکن ہے۔ اس ڈیل کے تحت کابل حکومت اور طالبان کے درمیان کامیاب مذاکراتی عمل شروع ہی نہیں ہو سکا اور تشدد کی فضا بدستور قائم ہے۔ اب امن قائم ہونے کا ایک اور موقع سامنے آیا ہے اور اس میں طالبان کی قیادت کا کابل کی سیاسی حکومت کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: طالبان قابل اعتبار نہیں، امریکی تجزیہ کار

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اختتام جولائی پر منائے جانے والے مسلمانوں کے مقدس تہوار عید الضحیٰ کے بعد مذاکرات شروع کر سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کابل حکومت کے بقیہ قیدیوں کو رہا کر کے حکومتی اہلکاروں کے حوالے کر دیں گے۔

مذاکرات کا اعلان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ شاہین نے   قیدیوں کی رہائی کو مذاکرات کی شروعات کا پہلا قدم کہا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب طالبان تحریک کے اندر حیران کن تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں طاقتور انتظامی کونسل میں کی گئی ہیں۔

دوسری جانب کابل حکومت کی مئی میں قائم کی جانے والے ہائی کونسل برائے قومی مصالحت کا کہنا ہے کہ وہ طالبان قیدیوں کی فہرست کو مرتب کرنے میں مصروف ہے۔ یہ کونسل طالبان کے ساتھ امن و مصالحتی مذاکرات کرنے کے لیے صدر اشرف غنی نے تشکیل دی تھی۔ اس کی سربراہی صدارتی انتخابات میں شریک امیدوار عبداللہ عبداللہ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: افغانستان میں تشدد کم کرنے کی کوشش میں ہیں، خلیل زاد

خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان طالبان کے نمائندہ دفتر نے کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہونے والی بیس رکنی ٹیم کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس ٹیم کے تیرہ ارکان طالبان لیڈرشپ کونسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مذاکراتی ٹیم کو بات چیت کے دوران فیصلہ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔ اس ٹیم کی قیادت طالبان تحریک کے بانیوں میں سے ایک ملا عبد الغنی برادر ہیں، جو آٹھ برس پاکستان میں جیل کاٹ چکے ہیں۔

ہائی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل کا کہنا ہے کہ اس وقت کابل حکومت کی قید میں چھ سو طالبان قیدی ہیں، جو انتہائی سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث ہیں اور ان کو رہائی دینے پر حکومت کو تحفظات ہیں۔ اس کا بھی امکان کم ہے کہ عید الضحیٰ کے موقع پر طالبان قیدیوں کو رہائی ملے گی۔

یہ امر اہم ہے کہ انتیس فروری کی طالبان امریکا ڈیل میں یہ طے پایا تھا کہ کابل حکومت پانچ ہزار شدت پسند قیدیوں اور افغان طالبان ایک ہزار مقید حکومتی اہلکاروں کو رہا کریں گے۔ ڈیل کے مطابق کابل حکومت اور طالبان کے مذاکرات شروع ہونے سے قبل قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا۔ قیدیوں کی رہائی کو اس ڈیل کا سب سے اہم نکتہ قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: ’طالبان قیدیوں کا تبادلہ اہم قدم ہے‘: امریکا

کابل حکومت طالبان کی فراہم کردہ فہرست میں درج قیدیوں کی جگہ دوسرے قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامند ہے۔ حکومت ابھی تک سنگین جرائم میں ملوث طالبان قیدیوں کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہے۔ یہ ایک اہم سوال ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ ہائی کونسل کرتی ہے تو کیا یہ صدر اشرف غنی کی حکومت کو قبول ہو گا، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

ع ح، ع آ  (اے پی)

ویڈیو دیکھیے 03:50

افغانستان میں طالبان کی قیادت میں زندگی کیسی ؟

DW.COM

Audios and videos on the topic