عورت نکاح کا اندراج بھی نہیں کر سکتی، بنگلہ دیشی ہائی کورٹ | حالات حاضرہ | DW | 14.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عورت نکاح کا اندراج بھی نہیں کر سکتی، بنگلہ دیشی ہائی کورٹ

بنگلہ دیش کی اعلیٰ عدالت نے اپنے ایک فیصلے کے تحت کسی بھی خاتون کو نکاح کا اندراج کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق کوئی بھی خاتون ماہواری کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتی۔

بنگلہ دیش میں اِس عدالتی فیصلے پر خواتین اور ان کے حقوق کے سرگرم کارکنوں میں غم و غصے کے ساتھ ساتھ بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ بعض حلقے عدالتی توجیہ کو حیران کن بھی قرار دے رہے ہیں۔رات نو بجے کے بعد پکڑے جانے والے لو برڈز کی سزا، فوری نکاح

ہائی کورٹ کا فیصلہ

بنگلہ دیشی ہائی کورٹ نے ایک نکاح رجسڑار خاتون کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ مذہبِ اسلام میں شادی ایک مقدس فریضہ خیال کیا جاتا ہے اور کوئی خاتون نکاح کا اندراج کرنے کی اہل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کو ماہانہ ماہواری کا سامنا ہوتا ہے۔

عدالتی جج نے یہ بھی کہا کہ دورانِ حیض کوئی عورت مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی لہذا وہ اس کام کو کرنے کی بھی اہل نہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ کوئی بھی نوجوان لڑکی یا عورت ماہواری کے ایام میں نماز یا روزہ بھی نہیں رکھ سکتی۔

مسلم ملکوں میں کسی بھی شادی میں نکاح پڑھانے کا فریضہ مرد کے سپرد ہے اور اس کا حکومتی کھاتے میں باضابطہ اندراج ہونا بھی لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔

Dhaka Bangladesch 9 von 19

بنگلہ دیشی ہائی کورٹ کی دارالحکومت ڈھاکا میں عمارت

نکاح خوان صرف مرد ہی ہو سکتا ہے

سن 2014 میں بنگلہ دیشی ضلع دیناج پور میں تین خواتین کو بطور نکاح رجسڑار مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی اس تقرری کو وزارتِ قانون، انصاف اور پارلیمانی امور نے انہی بنیاد پر منسوخ قرار دیا تھا، جو عدالتی فیصلے میں بیان کی گئی ہیں۔ ملکی وزارتِ قانون کے فیصلے کے خلاف اپیل ایک خاتون عائشہ صدیقہ نے دائر کر دی۔ وہ ان تین خواتین میں سے ایک تھیں،جنہیں نکاح خوان کی تقرری کا پروانہ دیا گیا تھا۔ ان کی اپیل انجام کار عدالت نے مسترد کر دی۔

ویڈیو دیکھیے 02:47

جے پور کی خواتین قاضی

یہ ناقابلِ قبول ہے

عدالتی فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عائشہ صدیقہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ  ایک جسمانی معاملے کی بنیاد پر کسی عورت کو نکاح پڑھانے یا اس کا اندراج کرنے  سے محروم کرنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں،'' ایک خاتون ملک کی وزیر اعظم بن کر نظم نسق چلا سکتی ہے، جہاز اڑا سکتی ہے لیکن وہ نکاح کا اندراج نہیں کر سکتی۔ خاتون نے عدالتی فیصلے میں پیش کردہ توجیہ کو ایک حیران کن منطق بھی قرار دیا۔‘‘

Pakistan Islamabad - Muslimische Trauung: Bräutigam unterschreibt Ehevertrag

اسلامی روایت کے مطابق نکاح ایک مرد پڑھانے کا مجاز ہے اور یہی برصغیر پاک و ہند میں مستعمل ہے

عائشہ صدیقہ نے عدالتی عُذر تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دستور کی منافی ہے۔

’فیصلہ دستور کے منافی ہے‘

عائشہ صدیقہ کی وکیل فوزیہ کریم نے بھی عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت ایک مرد یا عورت نکاح کا اندراج کر سکتی ہے اور ایسا ہی طلاق کے لیے بھی ہے اور اس میں مذہب کا بظاہر کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعت جاتیا سماجتانترک دَل نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو دستور کے منافی قرار دیا ہے۔

کرونا وائرس: خاموشی کے ساتھ نکاح کر کے دلہنوں کی رخصتی

جاتیا سماجتانترک دَل کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ریاست کے پاس امتیازی قانون بنانے کا اختیار نہیں۔ اسی طرح مختلف سول سوسائٹی کے اکیس سرگرم کارکنوں نے ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے کیونکہ اس فیصلے نے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ ان کارکنوں نے واضح کیا کہ بنگلہ دیشی دستور مرد اور عورت کے مساوی حقوق کا ضامن ہے۔

زبیر احمد (ع ح،  ع ا)