خبریں | DW
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار
اشتہار
اشتہار

اہم عالمی خبریں | 23.08.2019 | 07:00

فرانس کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، ماکروں

فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ مسئلہ کمشیر کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ ماکروں نے نریندر مودی کو بتایا کہ فرانس کشمیر کے دونوں حصوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ بھارت کے ساتھ اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کی وجہ سے فرانس نے ابھی تک کمشیر کے حوالے سے کوئی کھل کر بیان جاری نہیں کیا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین پائی جانے والی کشیدگی کی وجہ سے فرانسیسی صدر آئندہ چند روز میں عمران خان بھی گفتگو کریں گے۔ دوسری جانب جمعرات کو اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

احتجاجی مظاہروں کی کال کے بعد کشمیر میں پابندیاں مزید سخت

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کی کال کے بعد پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں جبکہ سری نگر اور اس کے مضافات میں کرفیو جیسی صورتحال ہے۔ کشمیر کے علیحدگی پسندوں نے جمعے کے نماز کے بعد احتجاجی مظاہرے کی کال دی تھی۔ ابھی تک سرینگر اور اس کے مضافات میں زیادہ تر رات کو ہی مظاہرے ہوئے ہیں اور سکیورٹی فورسز کی طرف سے آنسو گیس اور پیلٹ گنز کے استعمال سے ایک سو باون افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ بھارت نے احتجاجی مظاہروں کے خوف سے کشمیر بھر میں لاکھوں کی تعداد میں فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔

ایمیزون جنگلات میں آگ سے بین الاقوامی سطح پر تناؤ

ایمیزون جنگلات میں لگی آگ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔ برازیل کے انتہائی دائیں بازو کے حکومتی سربراہ جائیر بولسونارو نے کسی بھی ملک کو اس معاملے میں دخل اندازی کرنے سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ماکروں نے ایمیزون جنگلات میں لگی آگ کو ’ایک بین الاقوامی بحران‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’زمین کے پھپپھڑوں‘ کو آگ لگ چکی ہے۔ ایمیزوں جنگلات کو زمینی ماحول کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ ماکروں اس موضوع کو جی سیون ممالک کے اجلاس کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات کا دوبارہ آغاز

امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق گزشتہ روز خصوصی امریکی مذاکرات کار زلمے خلیل زاد اور ملا عبدالغنی برادر کے مابین قطر میں دو بدو ملاقات ہوئی ہے۔ قبل ازیں طالبان اور امریکی حکام کے مابین مذاکرات کا آٹھواں دور بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہو گیا تھا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا امریکا اور طالبان کسی امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی صدر آئندہ برس انتخابات سے پہلے افغانستان میں موجود تیرہ ہزار امریکی فوجیوں میں سے زیادہ تر کو واپس بلا لینا چاہتے ہیں۔

اسرائیل نے عراق میں ہتھیاروں کے ایک ڈپو پر بمباری کی ہے، رپورٹ

امریکی اخبار نیویارک کی رپورٹوں کے مطابق اسرائیل نے عراق میں ہتھیاروں کے ایک ڈپو پر بمباری کی ہے۔ چند روز پہلے الحشد الشعبی پیرا ملٹری فورسز کے تربیتی کیمپ میں متعدد دھماکے ہوئے تھے۔ اس ملیشیا کو عراق میں ایران کی حامی ملیشیا تصور کیا جاتا ہے۔ اسرائیل ماضی میں شام میں بھی متعدد ایرانی ٹھکانوں اور فوجی چوکیوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ دو امریکی عہدیداروں کے مطابق اسرائیل حالیہ دنوں کے دوران عراق میں ایسی متعدد کارروائیاں کر چکا ہے۔ ان فضائی حملوں کے بعد بغداد اور واشنگٹن کے مابین تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

شامی حکومت کی جانب سے عام شہریوں کو ادلب سے انخلا کی پیش کش

خان شیخون پر قبضے کے بعد شامی فورسز نے اس کے مضافاتی اور اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم شہر ادلب سے عام شہریوں کو نکل جانے کی اجازت دے دی ہے۔ شامی وزارت خارجہ کے مطابق ادلب سے عام شہریوں کے انخلا کا فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ادلب اسد مخالف باغیوں کا آخری مضبوط گڑھ ہے اور شامی فورسز اس کے دروازوں تک پہنچ چکی ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ادلب میں موجود عام شہریوں کی تعداد کتنی ہے۔ کارکنوں کے مطابق شہریوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی وہاں سے نکل چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اپریل کے اواخر سے اب تک چار لاکھ سے زائد افراد یہ علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔

جرمن شہری کا قتل: شامی پناہ گزین کو ساڑھے نو سال قید کی سزا

جرمنی کے مشرقی شہر کیمنٹس میں گزشتہ برس ایک جرمن شہری کو قتل کرنے والے ایک شامی پناہ گزین کو عدالت نے جرم ثابت ہونے کے بعد ساڑھے نو سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق گزشتہ برس ڈینئل نامی جرمن شہری کو الاء نے متعدد مرتبہ چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ استغاثہ کی جانب سے جائے وقوعہ کے قریب واقع ایک کباب کی دوکان کے ملازم کی گواہی کی بنیاد پر یہ مقدمہ تیار کیا گیا تھا۔ تاہم عدالت میں شامی پناہ گزین کا مسلسل موقف رہا ہے کہ اس نے یہ قتل نہیں کیا اور وہ بے قصور ہے۔

آڈیو سنیے 04:00
ویڈیو دیکھیے 01:49