عرب لیگ کا نیا سربراہ بھی مصری | حالات حاضرہ | DW | 11.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عرب لیگ کا نیا سربراہ بھی مصری

عرب لیگ نے مصر کے سابق وزیر خارجہ احمد ابوالغیظ کو نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ بحرین کے وزیر خارجہ خال بن احمد الخلیفہ کے مطابق ابو الغیظ جون کے آخر سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ وہ مبارک کے دور میں وزیر خارجہ تھے۔

عرب لیگ کے نو منتخب سربراہ احمد ابوالغیظ نے عرب ممالک میں شروع ہونے والی انقلابی تحریک کے موقع پر کہا تھا،’’مصر تیونس نہیں ہے‘‘۔ یہ وہ وقت تھا جب تیونس میں زین العابدین بن علی کی حکومت ختم ہو چکی تھی اور حسن مبارک کے خلاف بغاوت ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ گیارہ فروری کو حسن مبارک کی جانب سے مستعفی ہونے کے اعلان سے ایک روز قبل بھی الغیظ نے ٹیلی وژن پر آ کر اپنا یہ جملہ دہرایا تھا لیکن ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ مصر کی صورتحال کشیدہ ہے۔

احمد ابوالغیظ انگریزی زبان میں کمال کی تقریر کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ سوٹ پہنتے ہیں۔ حسنی مبارک کی معزولی کے بعد سے 73 سالہ ابوالغیظ ایران کے ایک بڑے ناقد بن چکے ہیں۔ انہوں نے سیاست کو تقریباً خیر باد کہہ دیا ہے اور وہ اپنا زیادہ تر وقت لکھنے لکھانے پر صرف کرتے ہیں۔ ان کی آب بیتی 2013ء میں شائع بھی ہو چکی ہے۔

عرب لیگ کے سابق سربراہ امر موسیٰ کے مقابلے میں اسرائیل کے بارے میں ان کا موقف قدرے نرم ہے۔ 2008ء میں اسرائیل فلسیطن جنگ کی ذمہ داری بھی انہوں نے حماس پر عائد کی تھی۔ ابوالغیظ 1979ء میں اسرائیل اور مصر کے مابین کیمپ ڈیوڈ امن معاہدے پر دستخط کے موقع پر بھی موجود تھے۔

قاہرہ میں پیدا ہونے والے ابوالغیظ 1965ء میں مصری وزارت خارجہ سے منسلک ہوئے تھے۔ اس دوران وہ روم، ماسکو اور نیویارک میں سفارتی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ 1999ء میں انہیں اقوام متحدہ میں مصر کا مستقل سفیر مقرر کیا گیا تاہم 2004ء میں حسن مبارک نے انہیں واپس بلا کر ملکی وزیر خارجہ بنا دیا۔ 1945ء میں وجود میں آنے کے بعد سے بائیس رکنی عرب لیگ پر نمایاں طور پر مصر ہی حاوی دکھائی دیا ہے۔