عرب ریاستیں: پیسہ دینے کے لیے تیار، مہاجرین لینے سے انکار | معاشرہ | DW | 11.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عرب ریاستیں: پیسہ دینے کے لیے تیار، مہاجرین لینے سے انکار

امیر خلیجی عرب ریاستیں شامی مہاجرین کو اپنے ہاں قبول نہ کرنے کی وجہ سے پوری دنیا میں ہدفِ تنقید بن رہی ہیں تاہم ان ریاستوں کا بحران زدہ علاقوں سے جانے والے مہاجرین کو پناہ دینے کا ابھی بھی کوئی پروگرام نہیں ہے۔

Symbolbild Moderne Sklaverei Menschenhandel Golfstaaten

ابوظہبی کی شیخ زید مسجد کا بیرونی منظر، جہاں ایک مہمان کارکن صفائی کر رہا ہے

نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنے ایک تازہ جائزے میں لکھا ہے کہ خلیجی تعاون کونسل کی چھ ریاستوں سعودی عرب، عمان، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور قطر میں سے کسی ایک نے بھی مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے اُس کنونشن پر دستخط نہیں کیے، جس کے تحت دوسری عالمی جنگ کے بعد سیاسی پناہ کا بین الاقوامی قانون وضع کیا گیا تھا۔

تین سالہ شامی بچے ایلان کُردی کی ساحلِ سمندر پر پڑی لاش کی تصویر نے دنیا بھر میں ہمدردی کی ایک لہر پیدا کر دی تھی۔ ایلان کُردی کے والد عبداللہ کُردی نے عرب ملکوں کی مہاجرین کو اپنے ہاں قبول نہ کرنے کی پالیسی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا:’’مَیں یورپی ملکوں سے نہیں بلکہ عرب حکومتوں سے یہ چاہتا ہوں کہ وہ دیکھیں کہ میرے بچوں کے ساتھ کیا ہوا اور اسے سامنے رکھتے ہوئے وہ ہمارے لوگوں کی مدد کریں۔‘‘

عبداللہ کُردی کے مطابق وہ گزشتہ ہفتے سرحد عبور کر کے واپس شام میں داخل ہوا تھا تاکہ چھوٹے ایلان کے ساتھ ساتھ اُس کے بڑے پانچ سالہ بھائی اور اُن کی والدہ کو بھی شامی سرزمین پر سپردِ خاک کر سکے۔

خلیجی عرب ریاستوں کا موقف یہ ہے کہ ایک طرح سے وہ شام میں 2011ء میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے اب تک لاکھوں شامیوں کو اپنے ہاں ’پناہ‘ دی ہے، نصف ملین کو سعودی عرب میں اور ایک لاکھ کو متحدہ عرب امارات میں لیکن مہاجرین کے طور پر نہیں بلکہ مہمان مزدوروں کے طور پر، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں اُن کیا قیام عارضی نوعیت کا ہو گا۔ ساتھ ہی شرط یہ ہے کہ وہاں اُنہیں پہلے سے یا تو کوئی ملازمت ملنے کا امکان ہو یا پھر وہ وہاں پہلے سے موجود اپنے خاندان کے کسی فرد کے ہاں قیام کریں۔

خلیجی عرب ریاستوں کا یہ بھی اصرار ہے کہ وہ کروڑوں ڈالر کی رقوم امداد کے طور پر دیتے ہیں۔ تاہم ترکِ وطن اور ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے پیٹر سدرلینڈ کے مطابق اس طرح پیسہ دے کر خود کو بچا لینا ہرگز اطمینان بخش نہیں ہے۔ اُنہوں نے گزشتہ ہفتے جنیوا میں ایک نیوزکانفرنس میں مزید کہا تھا:’’مہاجرین کو اپنے ہاں قبول کرنا پیسہ دینے سے ایک الگ عمل ہے۔‘‘

Türkei Vater Aylan Kurdi

عبداللہ کُردی:’’مَیں یورپی نہیں عرب حکومتوں سے یہ چاہتا ہوں کہ وہ دیکھیں کہ میرے بچوں کے ساتھ کیا ہوا اور اسے سامنے رکھتے ہوئے وہ ہمارے لوگوں کی مدد کریں۔‘‘

خلیجی عرب ریاستوں کو خدشہ ہے کہ مہاجرین اور خصوصاً عرب مہاجرین کو پناہ دینے سے سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ خصوصاً عرب مہاجرین کے حوالے سے انہیں خدشہ ہے کہ یہ خلیجی ملکوں میں مستقل طور پر آباد ہو جائیں گے اور پھر وسیع تر بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے لگیں گے جبکہ مہمان مزدور کے طور پر اُنہیں ایسےحقوق دیے جانے کی کوئیی توقع ہی نہیں کی جاسکتی۔