1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستعراق

عراق میں اینٹی کرپشن مہم: پارلیمانی ارکان، کئی رہنما گرفتار

جاوید اختر (اے ایف پی، ڈی پی اے اور اے پی کے ساتھ)
30 جون 2026

عراق کے سرکاری خبر رساں ادارے عراقی نیوز ایجنسی کے مطابق ملک میں بدعنوانی کے خلاف مہم جاری ہے۔ اس دوران درجنوں سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں اراکین پارلیمان بھی شامل ہیں۔

https://p.dw.com/p/5GJL2
عراقی پارلیمنٹ کی عمارت
رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے منتخب ارکان میں سے کچھ کا تعلق السودانی کے شیعہ سیاسی اتحاد سے ہے، جبکہ دیگر کا تعلق بااثر سنی جماعت عزم الائنس سے بتایا گیا ہےتصویر: Ahmed Saad/REUTERS

رپورٹ کے مطابق یہ گرفتاریاں سابق نائب وزیر تیل عدنان الجمیلی کے ایک بیان کی بنیاد پر عمل میں آئیں، جنہیں گزشتہ ماہ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار شدگان میں ایسے ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہیں، جنہیں حاصل خصوصی پارلیمانی استثنا ختم کر دیا گیا تھا۔

سرکاری میڈیا نے ابتدائی طور پر 47 افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی، جن میں ارکان پارلیمنٹ اور اعلیٰ سرکاری اہلکار بھی شامل تھے، تاہم حکومتی ترجمان حیدر العبودی نے بعد میں واضح کیا کہ گرفتار کیے گئے افراد کی تعداد 21 ہے۔

حکام نے گرفتار ہونے والے 15 افراد کے نام جاری کیے ہیں، جن میں 12 موجودہ ارکان پارلیمنٹ، ایک سابق رکن، سابق وزیر اعظم محمد شیاع السودانی کے ایک سابق مشیر، اور وزارت تیل کے ایک اعلیٰ اہلکار شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے منتخب ارکان میں سے کچھ کا تعلق السودانی کے شیعہ سیاسی اتحاد سے ہے، جبکہ دیگر کا تعلق بااثر سنی جماعت عزم الائنس سے بتایا گیا ہے۔

عراق کی عدلیہ نے پیر کے روز بتایا کہ حکومت کی جانب سے جاری انسداد بدعنوانی مہم کے دوران وزارت تیل کے ایک اعلیٰ اہلکار سے 14 ملین ڈالر سے زائد کی رقم اور دیگر اثاثے ضبط کر لیے گئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں نائب وزیر تیل علی البہادلی کے معاملے میں 11 ملین ڈالر نقد اور 4 ارب عراقی دینار (تقریباً 3 ملین ڈالر) کی رقم برآمد کی گئی۔

عدالت نے مزید بتایا کہ کئی جائیدادیں بھی ضبط کر لی گئی ہیں اور تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اندر کا ایک منظر
حکومتی ترجمان حیدر العبودی نے بتایا کہ انسداد بدعنوانی مہم کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کی تعداد 21 ہےتصویر: Iraqi Parliament Media Office/AP Photo/picture alliance

انسداد بدعنوانی مہم

یہ کارروائی وزیر اعظم علی الزیدی کی شروع کردہ انسداد بدعنوانی مہم کا حصہ ہے، جس کا آغاز اتوار کی صبح ہوا تھا جب عراقی سکیورٹی فورسز نے بغداد کے حساس علاقے گرین زون سمیت مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر متعدد سرکاری اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا۔

وزیر اعظم علی الزیدی نے، جنہوں نے حال ہی میں امریکی حمایت کے بعد اپنا منصب سنبھالا ہے، کہا کہ ریاستی خزانے میں خرد برد کی گئی رقم واپس لائی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ''عوام کا پیسہ اس کے اصل حق داروں کو واپس ملنا چاہیے۔‘‘

وزیر اعظم الزیدی نے کہا ہے کہ عوامی وسائل کی واپسی یقینی بنائی جائے گی اور بدعنوان اہلکاروں کے لیے حکومت میں ''کوئی استثناٰ نہیں ہو گا۔‘‘ ان کے مطابق یہ کارروائیاں صرف پہلا مرحلہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ کارروائیوں کے دوران آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریاں عمل میں آ سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں سابق نائب وزیر تیل عدنان الجمیلی کے خلاف کیس میں 85 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثے ضبط کیے گئے تھے اور موجودہ گرفتاریاں الجمیلی کے اعترافی بیانات کی بنیاد پر عمل میں آئیں۔

اقوامِ متحدہ کے اسلحہ کے خاتمے سے متعلق ماہرین کی گاڑی 2 فروری 2003 کو بغداد سے تقریباً 15 کلومیٹر مغرب میں واقع ابو غریب کے ایک دودھ کے کارخانے پہنچ رہی ہے، جبکہ راستے میں عراقی صدر صدام حسین کی تصویر بھی دکھائی دے رہی ہے
کچھ مبصرین کے مطابق یہ کارروائی 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے عراق میں بدعنوانی کے خلاف سب سے بڑی مہم قرار دی جا رہی ہےتصویر: Ahmad Al-Rubaye/dpa/picture-alliance

بدعنوانی کا مسئلہ برقرار

بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق عراق بدعنوانی کے سنگین مسئلے کا شکار ہے اور اس تنظیم کے تازہ ترین کرپشن پرسیپشن انڈکس میں عراق کُل 182 ممالک میں سے 136 ویں نمبر پر ہے۔

ماہرین کے مطابق عراق کا تیل کا شعبہ خاص طور پر بدعنوانی سے متاثر ہے، جہاں سیاسی اشرافیہ سے جڑا ایک منظم نظام طویل عرصے سے موجود ہے۔

حکام کے مطابق تازہ ترین کارروائیوں کے دوران تقریباً 85 ملین ڈالر کے برابر نقد رقوم کے علاوہ جائیدادیں، گاڑیاں، سونا، اسلحہ اور گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا ہے۔

کچھ مبصرین کے مطابق یہ کارروائی 2003 میں صدام حسینکی حکومت کے خاتمے کے بعد سے عراق میں بدعنوانی کے خلاف سب سے بڑی مہم قرار دی جا رہی ہے۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔