1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
عراق میں فٹبال کے شائقین
عراق سکیورٹی کے عدم تحفظات کے باعث بین الاقوامی فٹبال میچ کی میزبانی کا منتظرتصویر: Liu jialiang/Imaginechina/imago
کھیلعراق

عراق بین الاقوامی فٹبال میچوں کی میزبانی کے لیے ترس رہا ہے

27 مارچ 2022

عراق میں فٹبال کو سب سے مقبول کھیل تصور کیا جاتا ہے۔ اس سے معاشرے کے کئی حصے آپس میں جڑے رہتے ہیں۔ عراقی شائقین کئی دہائیوں کے بعد بین الاقوامی فٹبال کی واپسی کے لیے پرجوش تھے لیکن اب یہ امیدیں بھی دم توڑ چکی ہیں۔

https://www.dw.com/ur/%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D9%82-%D9%81%D9%B9%D8%A8%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%DB%8C%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%AA%D8%B1%D8%B3-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92/a-61260462

سن انیس سو اسی کی دہائی میں ایران-عراق جنگ،  پہلی خلیجی جنگ اور سن 2003 میں امریکی چڑھائی  کی وجہ سے عراق اپنے ملک میں  فٹبال کے بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی  کرنے سے قاصر رہا ہے۔ فیفا نے سکیورٹی کے مسلسل خدشات کے باعث سن 2001  سے عراق کو اپنی ہوم گیمز اردن اور قطر جیسے تیسرے ممالک میں کھیلنے کے کہہ رکھا ہے۔

لیکن حالیہ سالوں میں عراق میں سکیورٹی صورتحال کچھ بہتر ہونے کے بعد ایک خوشی کی خبر تب سامنے آئی، جب عراق فٹبال ایسوسی ایشن   نے اعلان کیا کہ فیفا نے 24 مارچ کو بغداد میں متحدہ عرب امارات کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائر میچ کھیلنے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ تاہم میچ سے پانچ روز قبل یہ گیم سعودی شہر ریاض میں منتقل کرنے کا فیصلہ کر دیا گیا۔ کیونکہ 14 مارچ کو عراق کے شمالی شہر اربیل  میں ایرانی پاسداران انقلاب نے میزائل داغے تھے۔ ایران کا دعویٰ تھا کہ وہ وہاں ایک اسرائیلی ''اسٹریٹجک سینٹر‘‘  کو نشانہ بنا رہے تھے۔

المدینہ فٹبال اسٹیڈیم بغداد عراق
عراق بمقابلہ متحدہ عرب امارات کا میچ ریاض میں کھیلے جانے کے بعد بغداد کا المدینہ اسٹیڈیم ایک مرتبہ پھر خالی ہی رہ گیا۔تصویر: Ahmad Al Rubaye/AFP/Getty Images

مختلف ترجیحات

مشرق وسطیٰ میں فٹبال کی سیاست  کے ماہر جیمز ڈورسی کا کہنا ہے کہ فیفا اور عراق کی ترجیحات میں فرق ہے۔ ان کے بقول، ''عراق فٹبال کی وجوہات کی بنا پر گھر میں میچز کھیلنا چاہتا ہے لیکن  جہاں میزائل داغے جارہے ہوں وہاں بین الاقوامی میچ کے انعقاد کے لیے فیفا شاید بہت زیادہ محتاط رہے گا۔‘‘

عراقی مداحوں نے فیفا کے اس فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شکستہ دلی اور غصے کا اظہار کیا۔ مڈفیلڈر کھلاڑی احمد یاسین نے لکھا، ''پورے ملک میں بغیر کسی مسئلے کے فٹبال کھیلی جارہی ہے۔ اس پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ہمیں مزید کتنا انتظار کرنا ہوگا؟‘‘

ورلڈ کپ کوالیفائرز

 فیفا ورلڈ کپ  کے  لیے کوالیفائنگ مرحلے میں عراق نے ایران اور جنوبی کوریا سے کافی پیچھے رہتے ہوئے اپنے پہلی آٹھ گیمز میں صرف پانچ پوائنٹس حاصل کیے ہیں۔ فٹبال ماہرین کے مطابق اس مایوس کن پرفارمنس  کی بڑی وجہ عراقی کھلاڑیوں کا  اپنی سرزمین پر اپنے ہزاروں مداحوں کے سامنے میچز نہ کھیلنا ہے۔

واضح رہے عراق کی ٹیم آخری مرتبہ سن 1986 میں میکسیکو میں کھیلے گئے عالمی کپ میں کھیلنے کے لیے کوالیفائی کرسکی تھی۔

عراق کے لیے ایک نئی شروعات

عراق میں فٹبال شائقین، کھلاڑی اور حکام کافی عرصے سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ملک میں سکیورٹی صورتحال کافی بہتر ہوچکی ہے۔ ایک عراقی کھلاڑی نے اپنی شناخت نہ ظاہر کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہمیں ماضی کی صورتحال کا اچھی طرح پتہ ہے مگر فیفا موجودہ حالات کے بجائے ماضی کے بنا پر یہ فیصلے کر رہا ہے۔‘‘

انہوں نے اربیل حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رواں برس جنوری میں ابوظہبی پر بھی میزائل داغے گئے تھے، جس میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے، لیکن متحدہ عرب امارات کی ٹیم ابھی تک اپنے گھر پر میچ کھیل رہی ہے۔ ''لہٰذا اس بارے میں بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘

ٹانگوں کے بغیر فٹبال کھیلنے والا مصری نوجوان

حال ہی میں عراق میں چند دوستانہ میچ کھیلے گئے تھے، جیسے کہ زمبیا نے اٹھارہ مارچ کو بغداد میں ایک فرینڈلی میچ  کھیلا تھا۔ عراق نے زمبیا کو ایک کے مقابلے تین گول سے شکست دی تھی۔ لیکن فیفا کے فیصلے سے لگتا ہے کہ عراق میں فٹبال کے بین الاقوامی میچوں کی بھرپور طریقے سے واپسی میں ابھی کافی وقت درکار ہے۔

جان ڈورڈن / ع آ / ا ا

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

USA I Sikhs for Justice

یوم آزادی پر بھارتی پرچم کے بجائے سکھ پرچم لہرانے کی اپیل

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں