عراق اور شام میں امریکی اور اتحادی فورسز پر راکٹ حملے | حالات حاضرہ | DW | 08.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عراق اور شام میں امریکی اور اتحادی فورسز پر راکٹ حملے

'اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف جنگ میں مصروف امریکی فوجیوں اور اس کے اتحادی فورسز کو بدھ کے روز عراق اور شام میں راکٹ اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ انٹلیجنس گروپ سائٹ کے مطابق یہ حملے ایران نواز عسکریت پسندوں نے کیے تھے۔

Irak US Botschaft in Bagdad

عراق میں امریکی سفارت خانے کو بھی نشانہ بنایا گیا

عراق کے مغربی صوبے انبار میں امریکی فضائیہ کے اڈے پر تیس راکٹ داغے گئے، جس سے کم از کم دو فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔

عراقی سکیورٹی  فورسز کا کہنا ہے کہ راکٹ لانچر ایک ٹرک میں چھپا کر رکھے گئے تھے جس پر آٹے کی بوریاں لدی ہوئی تھیں۔

امریکا کے فوجی اور سفارتی اہداف پر ماضی میں ہونے والے حملوں کے لیے ایران نواز عسکریت پسندوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

امریکا سے سرگرم انٹلی جنس گروپ سائٹ(SITE) کے مطابق ایک شیعہ عسکریت پسند گروپ انتقام المہندس بریگیڈ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سائٹ کا کہنا ہے کہ اس ایران نواز عسکریت پسند گروپ نے اپنا نام ایک عسکری رہنما ابو مہدی المنہدس کی مناسبت سے رکھا ہے، جو گزشتہ برس امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

Irak Islamischer Staat Drohne

اسلامک اسٹیٹ نے دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون استعمال کرنے شروع کردیے ہیں

عراق میں امریکی سفارت خانے پر حملہ

عراقی دارالحکومت بغداد انتہائی سکیورٹی والے گرین زون علاقے میں واقع امریکی سفارت خانے پر جمعرات کے روز تین ڈرون حملے کیے گئے۔

عراقی فوج نے بتایا کہ امریکی میزائل شکن دفاعی نظام نے دھماکہ خیز مادوں سے لیس ایک ڈرون کو فضامیں ہی ناکارہ بنا دیا جبکہ دیگر دو ڈرون گرین زون کے احاطے کے قریب گرے۔ امریکی حکام کا کہناہے کہ اس حملے میں سفارت خانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے خلاف امریکی حملے

عراق: امریکی فوجی اڈے پر راکٹ حملے

اس سے قبل اربیل کے ہوائی اڈے پر بھی واقع امریکی مرکز کو بھی نشانہ بناکر حملہ کیا گیا تھا۔ گوکہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم حکام کے مطابق کچھ دیر کے لیے فضائی سروس معطل کردی گئی تھی۔

خیال رہے کہ امریکا عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے خلا ف سن 2014 سے ہی 83 ملکوں کے اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔ اس وقت تقریباً ڈھائی ہزار امریکی فوج عراق میں موجود ہے اور رواں برس عسکریت پسند اب تک اسے تقریباً پچاس مرتبہ نشانہ بناچکے ہیں۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں امریکا نے عراق اور شام دونوں ہی ملکوں میں ایران نواز عسکریت پسندوں کے خلاف فضائی حملے کیے تھے۔

شام میں امریکی حمایت یافتہ فوج پر حملے

ادھر سرحد کے دوسری طرف شام میں بھی امریکی فورسز کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

سیریئن ڈیموکریٹک فورسیز (ایس ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے مشرق میں واقع العمر آئل فیلڈ کے قریب واقع فوجی اڈے پر کیے گئے حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہ حالیہ دنوں میں دوسرا حملہ تھا۔

ایس ڈی ایف کی طر ف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے،”اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جنگ میں مصروف ہماری  فورسز اور علاقے میں تعینات اتحادی  فورسز نے العمر آئل فیلڈ پر ہونے والے ڈرون حملوں کو ناکام بنادیا۔ ان حملوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔"

تمام کوششوں کے باوجود ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی وسعت جاری

دس سالہ شامی خانہ جنگی میں ہلاکتوں کی تعداد اب نصف ملین

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نگاہ رکھنے والے ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ ایران نواز عسکریت پسندوں نے یہ حملے غالباً جنوب مغربی  المیدین قصبے کے اطراف میں واقع کسی دیہی علاقے سے کیے تھے۔

آبرزرویٹری نے گزشتہ ہفتے العمر میں کیے گئے حملوں کے لیے بھی ایرانی نواز عسکریت پسندوں کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

 ج ا/ ص ز  (اے ایف پی،روئٹرز)