عراقی ملیشیا کے مظالم، امریکی چشم پوشی کیوں؟ | حالات حاضرہ | DW | 14.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عراقی ملیشیا کے مظالم، امریکی چشم پوشی کیوں؟

امریکا ماضی کی طرح آج بھی عراق میں شیعہ ملیشیا کے مظالم پر دانستہ آنکھ بند رکھے ہوئے ہے۔ ایسا خیال کیا گیا ہے کہ عراق میں استحکام کے حصول کے لیے اکثریتی شیعہ آبادی کا تعاون ضروری ہے۔

عراق میں امریکی فوج کشی کے تقریباً دو سال بعد جب یہ فوجی بغداد کی ایک پولیس اسٹیشن میں داخل ہوئے تو انہیں 168 افراد انتہائی خراب حال میں ملے تھے۔ کئی خوراک کی کمیابی کا شکار تھے تو بعض کے جسموں پر تشدد کے واضح نشانات دکھائی دے رہے تھے۔ امریکی حکام نے اِس خفیہ جیل کی تفتیش کے لیے عراقی سکیورٹی حکام کی معاونت حاصل کی۔ اِس خفیہ جیل کا انتظام ایک عسکری تنظیم بدر کر رہی تھی اور یہ ایران نواز سیاسی تحریک کا حصہ تھی۔ یہی بدر نامی تنظیم آج بھی بغداد حکومت کے ساتھ مل کر ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف حکومتی فوج کے مشنز میں شریک ہے۔

امریکا نے ماضی میں بغداد حکومت پر دباؤ بھی ڈالا کہ خفیہ جیل کی مناسب تفتیش کروائی جائے۔ تفتیشی عمل کے لیے کمیٹی بنائی گئی، اُس کے اجلاس بھی ہوئے لیکن اِس رپورٹ کے مندرجات عام نہیں کیے گئے۔ امریکی حکومت نے اپنی تفتیش بھی کی لیکن واشنگٹن حکومت نے بھی اِس رپورٹ کو عام نہیں کیا کیونکہ وہ صدام کے زوال کے بعد قائم ہونے والی کمزور سیاسی حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرنا چاہتی تھی۔ امریکی سفارت کاروں کا خیال تھا کہ رپورٹ عام کرنے سے حکومت عدم استحکام اور حکومتی مشینری کو شدید بےچینی اور خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔

Irak Tikrit Offensive irakische Armee

عراقی فوج شیعہ ملیشیا پر خاصا تکیہ کرتی ہے

ان دونوں رپورٹوں کو دیکھنے کا موقع نیوز ایجنسی روئٹرز کے نمائندے کو ملا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ یہ تفتیشی رپورٹیں جاری نہیں کی گئیں اور آج بھی یہ خفیہ دستاویزات ہیں۔ اِس رپورٹ میں بظاہر یہ شامل ہے کہ امریکا سنی عسکریت پسندوں کو شکست دے کر شیعہ حکومت کو استحکام دیتے ہوئے عراق کے طول وعرض میں متوازن حکومت کا خواہاں تھا۔ اِس خواہش کی تکمیل میں امریکا نے عراقی حکومت کی چھتری تلے عسکری کارروائیوں میں مصروف شیعہ ملیشیا کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ امر اہم ہے کہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش اور موجودہ صدر اوباما شیعہ عسکری تنظیم بدر اور اُس کے طاقتور سربراہ ہادی الامیری کے ساتھ رابطے رکھے ہوئے ہیں۔ کئی سنی عمائدین الامیری پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہیں۔

عراق میں امریکا کو شیعہ تنظیم کا ساتھ دے کر چند کم مدتی فائدے ضرور حاصل ہوئے لیکن شیعہ ملیشیا کو سُنیوں کے سامنے کھڑا کر کے ایک طرح سے اُس نے شیعہ سنی فرقہ وارریت کو ہوا دی اور آج عراق اِسی فرقہ واریت کی لپیٹ میں ہے۔ عراق میں حکومتی جیلوں کے متوازی اپنی جیلیں چلانے والوں میں عدلیہ کے سربراہ مدحت محمود اور وزیر ٹرانسپورٹ بیان جبران نمایاں ہیں۔ امریکی رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ عراقی اسپیشل انویسٹیگیشن ڈائریکٹوریٹ غیرقانونی طور پر لوگوں کو مقید کرنے کے علاوہ عراقی شہریوں کے قتل میں ملوث ہے اور عراقی حکومت کوئی بھی ایکشن لینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اِس رپورٹ کے حوالے سے البدر کے معین الخدیمی نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ دہشت گردوں کابنیادی پراپیگنڈا ہے اور اُن کی تنظیم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ہرگز ملوث نہیں ہے۔