عالمی منڈيوں ميں تيل کی قيمتوں ميں اضافہ | حالات حاضرہ | DW | 16.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عالمی منڈيوں ميں تيل کی قيمتوں ميں اضافہ

ہفتے کے آغاز پر عالمی منڈيوں ميں خام تيل کی قيمتوں ميں دس فيصد کا اضافہ ديکھا گيا ہے۔ اس اضافے کی وجہ سعودی عرب ميں تيل کی تنصيبات پر حملہ ہے، جس کا الزام امريکا ايران پر عائد کر رہا ہے جبکہ ايران اس الزام کو رد کرتا ہے۔

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پیر کی صبح عالمی منڈی میں تیل کی قیمت دس فیصد بڑھ کر گزشتہ چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ سعودی تنصیبات پر حملے کے بعد تیل کی عالمی رسد میں فوری طور پر پانچ فیصد کمی آئی ہے۔ خیال ہے کہ تیل کی ترسیل پوری طرح بحال ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

سعودی عرب میں تیل کو صاف کرنے والے ان دو پلانٹس پر حملوں کے نتیجے میں ریاض حکومت کی خام تیل کی ترسیل میں یومیہ 5.7 ملین بیرل کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جو سعودی عرب کی تیل کی مجموعی پیدوار کا تقریباً پچاس فیصد بنتی ہے۔ اس پیش رفت سے دنیا میں تیل کی رسد پر نمایاں فرق پڑے گا۔

يمن کے حوثی باغيوں نے سعودی عرب ميں قائم خام تيل پراسيس کرنے والی دو فیکٹریوں پر ہفتے کو ڈرون حملے کيے۔ جن دو پلانٹس پر حملہ کیا گیا ہے ان میں دنيا کی سب سے بڑی تنصيب بھی شامل ہے۔ ہفتے کی رات کيے گئے حملوں کے نتيجے ميں آئل فيلڈز پر آگ بھڑک اٹھی اور تقريباً پچاس فيصد پيداوار بھی رک گئی۔ بعد ازاں سعودی وزير توانائی شہزادہ عبدالعزيز بن سلمان نے بتايا کہ خريس آئل فيلڈ اور ابقيق نامی پراسيسنگ يونٹ پر لگنے والی آگ پر قابو پا ليا گيا۔

امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بذريعہ ٹيلی فون رابطہ کيا اور انہيں اپنے تعاون کی يقين دہانی کرائی۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ان حملوں کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے۔

سعودی عرب میں تیل کی ان تنصیبات پر حملوں کی ذمے داری یمنی جنگ کے ایران نواز فریق یعنی حوثی باغیوں نے قبول کر لی تھی لیکن ان حملوں کے فوری بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ حملوں کے پیچھے تہران حکومت کا ہاتھ ہے۔ ایران نے اس الزام کو سختی سے رد کیا ہے۔ ايرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے اتوار کو اپنے بيان ميں کہا کہ پومپيو کے الزامات بلا جواز اور بے بنياد ہيں اور اسی ليے ان کی کوئی اہميت نہيں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس

اس پس منظر میں وائٹ ہاؤس کی مشیر کون وے نے کہا کہ یہ بات اب بھی خارج از امکان نہیں کہ اسی مہینے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر روحانی کی ملاقات ہو سکتی ہے، تاہم اس ملاقات کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے سعودی عرب کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی تیل کی تنصیبات پر حملوں سے 'کوئی مدد نہیں ملی‘۔

کیلی این کون وے نے امریکی ٹیلی وژن ادارے فوکس نیوز کے پروگرام 'فوکس نیوز سنڈے‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس حقیقی امکان کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے احتراز کیا کہ آیا نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ٹرمپ اور روحانی کی کوئی ملاقات واقعی عمل میں آ سکتی ہے۔ پير کو سامنے آنے والے بيان ميں ايران نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر صدر حسن روحانی کی اپنے امريکی ہم منصب سے ملاقات کا کوئی امکان نہيں۔