عالمی سطح پر پانچ کروڑ سے زیادہ شہری تنارعات سے متاثر: اقوام متحدہ | حالات حاضرہ | DW | 26.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عالمی سطح پر پانچ کروڑ سے زیادہ شہری تنارعات سے متاثر: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 50 ملین انسانوں کی زندگیاں شہری علاقوں کے تنازعات سے بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ عام لوگ جسمانی معذوریوں اور گہرے ذہنی صدموں کا شکار ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے منگل کو شہری علاقوں میں شہریوں کے تحفظ  کے بارے میں ہونے والے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہری تنازعات کے ضمن میں افغانستان، لیبیا، شام اور یمن جیسے ممالک کی مثال دی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعات میں گھرے علاقوں کے عوام زخمی یا ہلاک ہونے کے خطرات سے دو چار رہتے ہیں اور بسا اوقات عام شہریوں کو جنگجو سمجھ کر ان پر حملے کیے جاتے ہیں۔

دیگر کیسز میں انتہا پسند جنگجو دھماکہ خیز مواد استعمال کرتے وقت بالکل یہ کوشش نہیں کرتے کہ اس سے کم سے کم نقصان پہنچے بلکہ ان کے حملوں کا ہدف پُر ہجوم علاقے ہوتے ہیں اور ان مقامات پر حملے کےنتیجے میں شہریوں کو ایک طویل عرصے کے لیے معذوری یا پھر ہلاکت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ حالات عام شہریوں کی ذہنی صحت کے لیے بہت مُضر ہیں اور اس کے سبب تنازعات کے شکار علاقوں کے شہریوں میں گہرے صدمات اور نفسیاتی مسائل پائے جاتے ہیں۔

بھلا دیے گئے شامی بچوں کے کھلونے فرضی تلوار اور سیاہ بینر

Syrien Zentrum für Binnenflüchtlinge bei Aleppo | Winter & Schnee, Geflüchtete

حلب کے نزدیک مہاجر کیمپ

سب سے زیادہ متاثرہ علاقے

 

انٹونیو گوٹیریش نے شہری علاقوں میں جاری جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے گذشتہ برس غزہ پٹی میں ہونے والی جھڑپوں کی مثال دی جس میں درجنوں اسکولوں اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو شدید نقصان پہنچا اور قریب 8 لاکھ افراد کے لیے پانی کی فراہمی کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے دوسری بڑی مثال ہندو کش کی ریاست افغانستان کی دی جہاں گذشتہ سال مئی میں دارالحکومت کابل کے ایک ہائی اسکول کے باہر ہونے والے دھماکے میں 90 طالب علم ہلاک اور قریب 240 دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والے طالب علموں میں زیادہ تر لڑکیاں شامل تھیں۔

گوٹیریش نے کہا کہ اس قسم کی دہشت گردیوں اور حملوں سے عام شہریوں کو نقصان پہنچنے کے خطرات میں اُس وقت اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے جب جنگجو شہریوں کے اندر گھس کر شہری تنصیبات کے نزدیک عسکری ساز و سامان اور سہولیات نصب کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں کے تنازعات سے پیدا ہونے والے خطرات کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہے۔

زخمی افغانستان کی ادھوری کہانی

Pressefoto 2022 Afghanistan Humanitarian Response Plan

افغان عوام کئی عشروں سے در بدر

محاصرے اور ناکہ بندیاں

 

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ تنازعات کے سبب عام  شہریوں کے لیے مزید مشکلات کھڑی ہوگئی ہیں، جیسے کہ محاصروں اور ناکہ بندیوں کے خطرات۔ ان سے شہریوں کے لیے فاقہ کشی تک کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اس کے شکار کروڑوں انسان اپنے گھر بار چھوڑنے اور مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

 گوٹیریش کے بقول، ’’ایسے شہری اندرون ملک بے گھر ہو کر نقل مکانی کرنے والوں اور تارکین وطن کی ریکارڈ تعداد کا ایک بڑا حصہ ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ ماحولیات کو شدید نقصان پہنچانے کا ذریعہ وہ لاکھوں ٹن ملبہ بن رہا ہے جو ان حالات کے سبب پیدا ہوتا ہے۔

تیرہ برسوں میں غزہ کی چار جنگیں، اثرات کیا اور نقصانات کتنے؟

گوٹیریش کے بقول، ’’عراق میں موصل کے 80 فیصد مکانات کی تباہی کے چار سال بعد بھی اندازوں کے مطابق تین لاکھ شہری بے گھر ہیں۔‘‘ انٹونیو گوٹیریش نے ان اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’شہروں میں جنگ چھڑنے کی جو خوفناک انسانی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، یہ ناگزیر نہیں بلکہ انتخاب ہے۔‘‘

Irak Syrien Konflikt Flüchtlingslager Bardarash

یو این ایچ سی آر کیمپ میں مقیم شامی شہری

  بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام

 

انٹونیو گوٹیریش نے جنگجوؤں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں جس کے تحت عام شہریوں اور بنیادی ڈھانچوں پر حملوں کی سخت ممانعت ہے۔ نیز اندھا دھند حملوں اور شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے پر سخت پابندی لگاتا ہے۔

 گوٹیریش نے جنگجوؤں سے اپیل کی کہ وہ وسیع علاقوں میں دھماکہ خیز ہتھیاروں کے استعمال کو بند کریں اور ایسا کرتے وقت گنجان آبادی والے علاقوں پر اس کے اثرات کو نظر انداز نہ کریں۔ انسانوں اور ان کے رہائشی علاقوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کا طریقہ تلاش کریں۔

اُدھر انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے صدر پیٹر مائیرر نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ شہری علاقوں میں جنگ کے ناقابل قبول نقصانات کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اس صورتحال کا نوٹس لینے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کی بارہا اپیل کی جانے کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا اور شہری علاقوں میں جنگوں اورحملوں کے سبب شہری آبادی پر بہت گہرے منقی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔‘‘

زمینی طاقتوں کی فوجی غلبے کی خواہش، خلا بھی میدان جنگ بن گیا

Irak Mosul Frau IS Nablus

یہ عراقی شہر موصل ہے

انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی کے نائب صدر محمدو باؤمیا کا تعلق گھانا سے ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا، ’’تشدد اور بوکوحرام اور مغرب میں القاعدہ، صومالیہ میں الشباب اور اسلامک اسٹیٹ جیسے انتہا پسند گروپوں کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ان ممالک کے شہریوں کی زندگیوں کے لیے حقیقی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔‘‘

محمدو کا مزید کہنا تھا کہ ریاست کے حمایت یافتہ جنگجوؤں اور مسلح گروہ کو جنگ کے اصولوں کا پابند بنانے کی کوشش کے باوجود افریقہ کے بہت سے شہری علاقوں میں لڑائی جاری ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ متحرب گروپ اپنے جھگڑوں میں شہری آبادی کو قربانی کا بکرا بناتے اور انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

 

 

سلامتی کونسل کے موجودہ صدر ملک کا موقف

سلامتی کونسل کی موجودہ صدارتی ذمہ داری ناروے کر رہا ہے۔ ناروے کے وزیر اعظم جوناس گاہر اسٹور منگل کو ’’شہری علاقوں میں شہریوں کے تحفظ ‘‘ کے موضوع پر ہونے والے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کا تحفظ ایک طویل المدتی ترجیح ہے۔

مسلم دنیا میں پائے جانے والے اختلافات کیسے دور ہو سکتے ہیں؟

دنیا کی کُل آبادی کے 50 فیصد لوگ شہری علاقوں میں آباد ہیں۔ ساتھ ہی  شہری علاقوں میں جنگوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ناروے کے وزیر اعظم نے ان حقائق کی روشنی میں کہا کہ ’’ہمیں ان ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہو گی۔ متحارب گروپوں اور مسلح جھڑپوں کے فریقین کو بین الاقوامی انسانی قانون کا پابند بنانا ہو گا۔ یہ تمام ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔‘‘

 

ک م/  ص ز/ (اے پی ا)