عالمی ادارہ صحت کے سربراہ بھی قرنطینہ میں | حالات حاضرہ | DW | 02.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ بھی قرنطینہ میں

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ اُن کا رابطہ ایک ایسے شخص سے ہوا ہے، جس میں کووڈ انیس کی شناخت ہوئی ہے، اس لیے وہ خود ساختہ قرنطینہ میں جا رہے ہیں۔

ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسیس نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں اتوار کی رات گئے تحریر کیا،''میں خیریت سے اور بغیر کسی علامات کے ہوں تاہم میں جلد ہی احتیاطاً قرنطینہ میں چلا جاؤں گا۔‘‘

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر کورونا کی عالمی وبا سے نمٹنے کی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں تاہم 'کووڈ انیس پوزیٹیو‘ کے حامل کسی شخص کے ساتھ  رابطے میں آنے کے بعد انہوں نے فوری طور سے خود کو الگ تھلگ کر لینے کا اعلان کیا۔

 انہوں نے کہا،''میں بالکل ٹھیک اور کووڈ انیس کی علامات کے بغیر ہوں لیکن میں عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے پروٹوکول پر عملدارآمد کرتے ہوئے گھر سے کام کروں گا۔‘‘

امریکا کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے تصدیق شدہ اعداد و شمار کے مطابق کووڈ انیس کی مہلک بیماری کا سبب بننے والا کورونا وائرس اب تک دنیا بھر میں ساڑھے 46 ملین انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چُکا ہے اور 1.2 ملین انسانوں کی موت کا سبب بن چُکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا ٹویٹ پیغام ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب ڈبلیو ایچ او کے صدر مقام جینیوا میں حکام نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف روک تھام کے سلسلے میں پابندیوں میں مزید سختی کا اعلان کیا ہے۔ جینوا میں ہر پانچ لاکھ کی آبادی میں ہر روز ایک ہزار کورونا انفیکشن کے نئے کیسز رجسٹر کیے جا رہے ہیں۔  

Spanien | Coronavirus | Gedenken an Covid-19-Opfer in Madrid

میڈرڈ میں کوووڈ انیس کے سبب ہلاک ہوتنے والوں کی یاد میں سوگوار تقریب میں ڈبلیو ایچ او کے چیف بھی شریک۔

کورونا کی تازہ ترین صورتحال

صدارتی انتخابات سے ایک روز قبل کورونا کی تاریخی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکا ایک چوراہے پر کھڑا ہے۔ الیکشن کے امیدواروں کے مابین شدید رسہ کشی کے ساتھ ساتھ عوام ایک بہتر انتخاب کے تذبذب کا شکار ہے۔

ٹرمپ کی فتح کی صورت میں اس طرح کی مزید وباؤں کا سامنا متوقع ہے جبکہ جو بائیڈن اگر برسر اقتدار آئے تو وہ سابق امریکی صدر اور ڈیموکریٹک لیڈر باراک اوباما کی 'ہیلتھ پالیسی‘ بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔

میکسیکو میں 31 اکتوبر کو منائے جانے والے ' ہیلووین ڈے‘ کے موقع پر اس سال زیادہ تر لوگوں نے ہڈیوں کے ڈھانچے کی مانند لباس پہن کر )سرجیکل ماسک اور کیپس( لگائے ہوئے تھے۔ یہ ایک علامتی احتجاج تھا اُن بےشمار افراد کی جانوں کے ضیاع کا، جو کووڈ انیس کے سبب ہوئیں۔

بھارت میں کورونا وائرس

بھارت میں کورونا وائرس انفیکشن کی تباہیاں مسلسل جاری ہیں۔ نئے کورونا وائرس کیسز میں مزید 45 ہزار دو سو تیس کے اضافے کی اطلاع ہے۔ پیر کے روز بھارت کی وزارت صحت نے مزید 496 اموات کی طلاع دی ہے، جس کے اضافے کے ساتھ بھارت میں اب تک کورونا وائرس کے سبب ہونے والی کُل ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ بائیس ہزار چھ سو سات ہو گئی ہے۔

Brasilien Coronavirus

برازیل کے بڑے شہر ساؤ پاؤلو کے قبرستان میں کووڈ انیس سے مرنے والوں کی تدفین۔

 امریکا کے بعد کووڈ انیس سے متاثرہ دوسرا بڑا ملک بھارت ہے، جہاں آٹھ عشاریہ دو ملین کیسز اب تک درج ہو چُکے ہیں۔ تاہم بھارتی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ وہاں روزانہ تشخیص ہونے والے کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے جبکہ گزشتہ ہفتے روزانہ ہونے والے کووڈ انیس کے ٹیسٹ کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور وزارت صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے روزانہ ریکارڈ ہونے والے نئے کیسز کی تعداد 50 ہزار سے کچھ کم رہی ہے۔

بھارت کی کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی لائی گئی ہے۔ اقتصادیات کو فروغ دینے کے لیے تجارتی سرگرمیاں بحال کی گئی ہیں اور اسکول وغیرہ کھولے جا رہے ہیں تاہم ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سردیوں کے موسم میں کورونا وائرس پھر سے زور پکڑ سکتا ہے اور انہوں نے موجودہ تہواروں کے موسم سے بھی خبر دار کیا ہے کیونکہ اس دوران لوگ سماجی دوری کو بالکل ترک کر دیتے ہیں۔   

برازیل کی صورتحال

برازیل میں ساڑھے پانچ ملین کورونا کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے اور وہاں قریب ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد اب تک کووڈ انیس کی بیماری کے سبب ہلاک ہو چُکے ہیں۔ اتوار کو برازیل کے دو سب سے بڑے شہروں ساؤ پاؤلو اور ریو ڈی جنیرو میں مظاہرین نے کورونا وائرس ویکسین کے خلاف کسی بھی مینڈیٹ کی مخالفت میں احتجاج کیا۔

ک م/ اا/ (اے پی ای، ای اے پی)

DW.COM