عالمگیریت اور تاریخ، دنیا میں تاریخ نویسی کیسے بدل رہی ہے؟ | دستک | DW | 08.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

عالمگیریت اور تاریخ، دنیا میں تاریخ نویسی کیسے بدل رہی ہے؟

ہر عہد کی تاریخ نویسی جداگانہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے دور کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کا احاطہ کرتے ہوئے ان کو پیش کرتی ہے۔ تاریخ نویسی کا تعلق سماج کے طاقتور طبقے سے بھی ہوتا ہے۔

عام لوگوں کو وہ تاریخ باہر رکھتی ہے اور ان کے کردار کو فراموش کر دیتی ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب جمہوری روایات نے عوام کو حقوق دیے تو تاریخ نویسی نے بھی اپنا دائرہ وسیع کر کے اس میں نچلے طبقوں کو شامل کر لیا۔ یورپ اور امریکا کے ابتدائی دور میں تعلیمی اداروں میں یونانی اور رومی تاریخ پڑھائی جاتی تھی۔ خاص طور سے رومی سلطنت کی سماجی و سیاسی تاریخ اور لاطینی زبان کا سیکھنا لازمی تھا۔ مقصد یہ تھا کہ نوجوانوں میں لیڈرشپ کے جذبات پیدا ہوں۔ لاطینی زبان کے ادب میں انہیں ورجل، جولیس سیزر اور سائیسیرو کی کتابوں کے اقتباسات پڑھائے جاتے تھے۔ رومی تاریخ اور لاطینی زبان موجودہ زمانے تک نصاب کا حصہ رہی۔

تاریخ نویسی میں اس وقت تبدیلی آئی، جب اسے قوم پرستی کے زیر اثر لکھا جانے لگا۔ امریکا میں خاص طور پر یورپ کی تاریخ کو اہمیت دی جانے لگی۔ جب قومی تاریخ لکھنے کی ابتداء ہوئی تو اس کے لئے ضروری تھا کہ تاریخ کے دائرے کو وسیع کیا جائے۔ لہٰذا کلچرل تاریخ نے تاریخ نویسی کو نئے موضوعات دیے۔

تاریخ نویسی میں فیمینسٹ نقطہ نظر

سن 1970ء کی دہائی میں تحریک نسواں نے تاریخ نویسی میں فیمینسٹ نقطہ نظر کو شامل کیا۔ جان سکاٹ نے 'جینڈر اینڈ ہسٹری‘ لکھ کر تاریخ میں عورتوں کی شمولیت اور ان کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس دور میں لکھی جانے والی دو کتابیں بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں سے ایک پی تھامسن کی 'دا میکنگ آف انگلش ورکنگ کلاس‘ اور دوسری البرٹ ماریس سبول کی ’ساں کلوٹ‘ ہیں۔ یہ دونوں کتابیں مارکسی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہیں لیکن انہوں نے معیشت کے بجائے کلچر کو اہمیت دیتے ہوئے مزدوروں اور عوام کی تاریخ لکھی ہے۔

تاریخ نویسی اور عالمگیریت

تاریخ نویسی میں انقلابی تبدیلی اس وقت آئی، جب اس میں عالمگیریت کے نقطہ نظر کو شامل کیا گیا۔ اگرچہ عالمگیریت کے لفظ کا استعمال 1990ء کی دہائی میں ہوا مگر اس کی مختلف شکلیں ماضی میں پائی جاتی ہیں، جیسے بدھ مت، یہودیت، عیسائیت اور اسلام کی تبلیغ، جس میں مختلف اقوام کو ان مذہبوں میں شامل کر کے ان کو وسعت دی گئی۔ عالمگیریت کو ہم بڑی سلطنتوں کے قیام میں بھی دیکھتے ہیں، جیسے رومی سلطنت، عربوں کی فتوحات، عثمانی خلافت کا عروج اور یورپی سامراجوں کا پھیلاؤ۔ لیکن موجودہ دور میں جب سائنس اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا کی اقوام میں روابط اور رشتے بڑھے تو ان میں افہام و تفہیم پیدا ہوئی۔

کیا انگریزوں نے ہندوستان کو فتح کیا تھا؟

 ان روابط کو بڑھانے میں ٹیلی گراف، ٹیلی فون اور موجودہ زمانے میں انٹرنیٹ اہمیت کے حامل ہیں۔ موجودہ دور میں سفر کی سہولتوں کی وجہ سے لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک جانے لگے۔ مہاجرین کی بھی ایک بڑی تعداد تھی، جو روزگار کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں گئے۔ اس عالمگیریت نے اقوام عالم کو ثقافتی طور پر ایک دوسرے سے متاثر کیا۔

اس لیے یورپ اور امریکا میں اس بات کو محسوس کیا گیا کہ تاریخ کو محض قومی نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اس میں دوسری قوموں کی تاریخ کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ اس نقطہ نظر کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں عالمی تاریخ کے مضمون کو پڑھایا جانے لگا مگر اب تک اس کا دائرہ بڑا محدود تھا۔ اس میں ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کی تاریخ بہت کم شامل تھی۔

تاریخ کے مضمون کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے کہ اس کے ذریعے ملکوں اور قوموں میں جو تنازعات یا جھگڑے ہیں، ان کو دور کر کے کیسے امن و امان کا دور بحال کیا جائے۔ یونیسکو کی جانب سے یہ منصوبہ بنایا گیا کہ خاص طور سے فرانس کی تاریخ کو اس طرح سے بیان کیا جائے کہ جس سے واضح ہو کہ ان کی تہذیب نے دوسری تہذیبوں سے سیکھا ہے۔ اس مقصد کے لئے نصابی کتاب لکھنے کے لئے انکز اسکول کے مورخ لوسیان فیوور اور ایک برطانوی مورخ کو مقرر کیا گیا۔

 لوسیان فیوور نے بڑے جذبے کے ساتھ فرانسیسی کتاب لکھتے ہوئے یہ وضاحت کی کہ فرانسیسی قوم کوئی خالص نہیں ہے بلکہ اس میں کئی دیگر قومیں شامل ہیں، جنہوں نے مل کر اسے ایک قوم بنایا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ فرانسیسی کھانے بھی خالص نہیں کیونکہ کچھ مشرق وسطیٰ سے لئے گئے ہیں اور کچھ امریکا سے، جیسے ٹماٹر، آلو، مکئی اور چاکلیٹ جبکہ کافی ایتھوپیا اور عرب سے لی گئی ہے۔ باغوں میں لگے درخت بھی دوسرے ملکوں سے آئے ہیں۔ لہٰذا تہذیبیں ایک دوسرے سے سیکھتی ہیں، ان کو ایک دائرے میں محدود کر کے نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ اس صورت میں ذہن تنگ نظر ہو جاتا ہے۔

عالمگیریت کا مقابلہ

عالمگیریت کے اس نقطہ نظر کے خلاف ایشیا اور افریقہ کی قوموں میں ردعمل پیدا ہوا کیونکہ عالمگیریت نے امریکا اور یورپ کی بالادستی کو دنیا میں قائم کیا اور اس نے قومیت اور قومی کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کی، جس کا مطلب یہ تھا کہ دوسری قوموں کے کلچر کو ختم کر کے مغربی تہذیب کا تسلط قائم کیا جائے اور ان ملکوں کو منڈیاں بنا کر لوگوں کو صارفین بنا دیا جائے۔

لہٰذا ان قوموں نے عالمگیریت کا مقابلہ کیا اور خاص طور سے ان قوموں نے، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد آزاد ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنا شروع کیا۔ ان کا وہ ماضی، جو کلونیل پیریڈ میں گم ہو گیا تھا، اسے پھر سے دریافت کیا گیا۔ آزادی کی جدوجہد کی تاریخ کو نمایاں حیثیت دی گئی اور جدوجہد میں حصہ لینے والے رہنما ہیرو بن کر ابھرے۔ نصاب کی کتابوں میں خاص طور سے قومی تاریخ کو پڑھایا جانے لگا تاکہ نوجوانوں میں اپنے ملک اور قوم سے لگاؤ پیدا ہو۔

تاریخ نویسی کی دائرے

موجودہ دور میں تاریخ نویسی کے یہ دونوں اسلوب اپنے اپنے دائروں میں کام کر رہے ہیں۔ خاص طور سے عالمگیریت کے خلاف مارکسی مورخ اسے سرمایہ دارانہ نظام کا پھیلاؤ کہتے ہیں، جس نے دنیا کی سیاست اور معیشت کو اپنے تسلط میں لے لیا ہے۔ یہاں تک کہ جمہوریت بھی ان کی اسیر ہے۔ وہ اس پر بھی تنقید کرتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ عالمگیریت نے دنیا میں امن و امان اور خوشحالی کی بجائے اسلحے کی فروخت اور جنگوں کو پیدا کیا ہے۔

جدید دور کی تاریخ نویسی میں اس پر بھی بحث ہے کہ موجودہ سوسائٹی کی تشکیل کیسے ہوئی؟ کیونکہ یورپ میں پہلے تین طبقے تھے۔ امراء، مذہبی عہدیدار اور عوام صنعتی انقلاب کے بعد سوسائٹی کی تشکیل نو ہوئی اور مڈل کلاس کا نیا لفظ سامنے آیا۔ یعنی سوسائٹی میں اب بالادست طبقہ، متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ شامل ہو گئے۔ جمہوریت نے عوام کو ان کے حقوق دے کر انہیں متحرک کر دیا۔

 عوامی تاریخ نویسی

 لہٰذا جدید دور میں ہجوم کی سیاست نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کچھ مورخ ہجوم کی سیاست کو محض جذبات کا نام دے کر اس کی اہمیت سے انکار کرتے ہیں لیکن دوسری جانب وہ مورخ ہیں، جن کا کہنا ہے کہ جب مجمع مظاہرہ کرتا ہے تو اس سے ان کے سیاسی شعور کا پتہ چلتا ہے۔ اس کی مثال فرانسیسی انقلاب میں عورتوں کا وہ مظاہرہ ہے، جو انہوں نے غذائی قلت کے خلاف کیا تھا۔ یہ عورتیں پیرس سے ورسائی تک مارچ کرتی ہوئی گئیں اور وہاں بادشاہ اور ملکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کو روٹی فراہم کریں۔

 ایڈمُنڈ برکے، جس نے فرانسیسی انقلاب پر کتاب لکھی ہے، عوام کے اس مظاہرے کی خبر سن کر حیران ہو گیا کیونکہ وہ قدامت پرست تھا اور بادشاہت کا حامی۔ اس لئے اس عوامی بغاوت نے اسے یہ احساس دلایا کہ پرانہ دور ختم ہونے والا ہے، جس کی وہ حفاظت کرنا چاہتا تھا۔ یورپ کے دوسرے دانشوروں نے اس عوامی بغاوت کو خوش آمدید کہا۔ جدید تاریخ نویسی میں اب عوامی مظاہروں اور بغاوتوں پر تحقیق ہو رہی ہے۔

چونکہ جدید دور میں سوسائٹی کا قدیم ڈھانچہ ٹوٹ گیا ہے اور اس کی جگہ سوسائٹی کی نئی ساخت ہوئی ہے، جس میں نچلے طبقوں کو اہمیت مل رہی ہے۔ اس لئے اب عوامی تاریخ نویسی مقبول ہو رہی ہے، جس میں عام لوگوں کے پیشہ وارانہ کام اور ان کی سیاسی سماجی سرگرمیاں اور ان کی روز مرہ کی زندگی کے بارے میں لکھا جا رہا ہے۔

 اس نے تاریخ کے پھیلاؤ کو جگہ دی ہے اور ساتھ ہی سوسائٹی میں اس کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی نے ایک حد تک تاریخ کو نقصان پہنچایا ہے مگر جب بھی قوم اپنی شناخت کو تلاش کرتی ہے تو اس کو تاریخ کے حوالے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے مزید تفصیل کے لئے ہنٹ لین کی کتاب 'رائٹنگ ہسٹری ان گلوبل ایرا‘ پڑھی جا سکتی ہے۔

جرمن قبائل کی جنگیں اور تاریخ نویسی کے رجحانات