طنین بیماری یا علامت مرض ؟ | صحت | DW | 08.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

طنین بیماری یا علامت مرض ؟

Tinnitus کو طنین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اِس کے بارے میں محققین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ سمپٹم یا علامتِ مرض ہے۔ اِس میں مریض کے کان بجتے ہیں

Tinnitus کی کیفیت تکلیف دہ ہوتی ہے

Tinnitus کی کیفیت تکلیف دہ ہوتی ہے

اِس کیفیت میں مبتلا افراد کو جھنکار سنائی دیتی رہتی ہے، جو از خود کانوں میں سنائی دیتی ہے۔ اس کا تعلق بیرونی آوازوں سے نہیں ہوتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثلاً کانوں کے پردے سے ٹکرانے والی بہت تیز آواز ، چاہے وہ کتنے مختصر وقت کے لیے ہی کیوں نہ سنائی دے۔ عموماً یہ آواز چھوٹے وقفوں سے سنائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی وجہ کانوں کے اندر انفیکشن بھی ہو سکتی ہے یا کان میں کسی بیرونی شے کے داخل ہو جانے سے بھی یہ تکلیف پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ Tinnitus یا طنین کی وجہ ناک کی الرجی بھی ہو سکتی ہے، جو سیال یا رقیق کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ یہ کان اور ناک کے درمیان موم کی قسم کا مادہ جم جانے کا سبب بنتی ہے، کان کی خرابی پیدا کر دیتی ہے اور کانوں میں سنسناہٹ اور سیٹیاں سی سنائی دیتی ہیں۔

Symbolbild Kommunikation Gespräch

بہت سے افراد سر گوشی میں بات چیت کرنا پسند کرتے ہیں

Tinnitus یا طنین کی علامت پیدا ہونے کا سبب بننے والے جسمانی میکینزم کے بارے میں ریسرچ جاری ہے۔ اب تک طبی ماہرین یہی کہہ رہے تھے کہ اس کی بنیادی وجہ دوران خون کی خرابی ہے۔ تاہم محققین کا اب یہ ماننا ہے کہ دوران خون کی خرابی ایک جزوی وجہ ہو سکتی ہے۔

اب ماہرین کی تمام تر ریسرچ کا محور کان سے دماغ تک پہنچنے والی نسیں ہیں۔ تازہ ترین مشاہدے کے مطابق یہی وہ راستہ ہے، جو نسوں کو چھوٹے بڑے نقصانات پہنچاتا ہے۔ خاص طور سے شور یا بہت تیز آواز سے کان کے پردے کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس طرح دماغ میں موجود ایک ایسا فلٹر، جو تیز آواز یا شور سے تحفظ فراہم کرتا ہے، اُس کے عمل میں خلل پیدا ہو جاتا ہے۔ اس فلٹر سے پیدا ہونے والے نقص کے سبب ملائم اور سُریلی آواز بھی اذیت ناک سنائی دیتی ہے۔

Ohrstöpsel

شور سے بچنے کا ایک موثر طریقہ

ماہرین نے کہا ہے کہ کانوں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے سماعتی فلٹر کو مضبوط بنانے اور کانوں میں سنائی دینے والے غیر معمولی شور سے بچنے کے لیے چند بنیادی چیزوں کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ ان کی فہرست کچھ یوں ہے:

1۔ خود کو جسمانی اور روحانی سکون میں لانا۔

2۔ خاموش فضا میں رہنے سے گریز کرنا اور کانوں میں سنائی دینے والی سیٹیوں کی طرف سے توجہ ہٹا کر دوسری قسم کی آوازوں پر توجہ مرکوز کرنا۔

3۔ Tinnitus یا طنین کی علامت پر کم سے کم توجہ دینا۔

4۔ دن بھر کے کام اور تھکن کے بعد شام کو کسی دوست کے پاس، سنیما میں یا کسی ریستوران میں کچھ وقت گزارنا

5۔ کافی نیند اور جسمانی حرکت کو ممکن بنانا

6۔ Tinnitus کے بارے میں بہت زیادہ سوچنے اور اس کے سبب اپنی زندگی کو مشکل میں تصور کرنے کے رجحان سے ممکنہ طورپر گریز کرنا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پرندوں کی چہچہاہٹ، بارش کے قطروں کے ٹپکنے کی آواز، پتوں کی سرسراہٹ، موجوں کی آواز یا نہروں کی دھیمی سرسراہٹ، یہ وہ قدرتی آوازیں ہیں، جو Tinnitus کے شکار افراد کو بہت سکون اور فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔ جرمنی میں لاکھوں افراد Tinnitus یا طنین کا شکار ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ / خبر رساں ایجنسی

ادارت: امجد علی