طالبان کے ’گڑھ‘ قندھار میں طالبان کے خلاف مظاہرہ | حالات حاضرہ | DW | 14.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان کے ’گڑھ‘ قندھار میں طالبان کے خلاف مظاہرہ

افغانستان میں طالبان کو غلبہ حاصل کیے قریب ایک ماہ ہو گیا ہے۔ مختلف شہروں سے طالبان اقدامات کے خلاف مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ طالبان کے گڑھ سمجھے جانے والے قندھار میں بھی ہزاروں افراد ایک احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوئے۔

جنوبی افغان شہر قندھار میں ہزاروں افراد ایک احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوئے۔ اس مظاہرے کی سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گورنر ہاؤس کے سامنے  کیے جانے والے اس احتجاج میں کمسن بچے بھی شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس موقع پر تین ہزار خاندان احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔

ایک سابق حکومتی اہلکار کے مطابق اس مظاہرے میں وہ افراد شریک تھے، جنہیں طالبان نے  ایک علاقے سے بیدخل کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے افغان طالبان کی ہوائی فائرنگ

بیدخلی کا حکم

طالبان نے ایک سابقہ فوجی کالونی کے مکینوں کو اسے فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس حکم کے تحت تمام رہائشی خاندانوں کو تین دن کے اندر اندر اپنے مکانات خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔

Afghanistan Kabul | Anti-Pakistan Proteste

کابل میں نکالے گئے ایک حالیہ مظاہرے کے شرکا اور ان کے راستے میں کھڑے طالبان

اس حکم میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سابقہ فوجی کالونی کو خالی کروا کر طالبان اسے کس مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ اس سابقہ فوجی کالونی میں قریب تین ہزار خاندان ہی ہیں اور وہ برسوں سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ اس مظاہرے کے وقت ارد گرد کئی سابقہ حکومتی اہلکار اور دوسرے لوگ بھی جمع ہو گئے، جس سے یہ مجمع اور بڑھا دکھائی دینے لگا تھا۔ مقامی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ لوگوں نے گورنر ہاؤس کے سامنے سے گزرنے والی اہم سڑک کو بلاک کر دیا تھا۔

کابل میں مولانا فضل الرحمان کے خلاف مظاہره

سابقہ فوجی کالونی کے مکین

قندھار شہر کی اس کالونی میں زیادہ تر خاندانوں کا تعلق سابقہ فوجی افسران سے ہے۔ ان میں کئی ریٹائرڈ جرنیل بھی شامل ہیں، جو برسوں سے اس علاقے میں مقیم ہیں۔ بقیہ خاندانوں کا تعلق بھی سابقہ افغان سکیورٹی اداروں کے ملازمین سے بتایا گیا ہے۔ کئی خاندان اس علاقے میں گزشتہ تیس برسوں سے رہائش رکھتے ہیں۔ طالبان نے اس صورت حال پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

طالبان مطلوبہ افراد کی گھر گھر تلاشی لے رہے ہیں، اقوام متحدہ

افغانستان میں مظاہرے اور طالبان ریسپونس

افغانستان میں سے امریکی فوج کے انخلا اور سابق صدر اشرف غنی کے فرار کے بعد زوال پذیر ہونے والی حکومت نے طالبان کو سارے ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کی راہ کو ہموار کیا تھا۔ اب سخت گیر مذہبی عقیدے کے حامل طالبان کو سارے ملک پر کنٹرول حاصل کیے قریب ایک ماہ ہو گیا ہے۔

Kabul, Afghanistan | Frauen bei Taliban Veranstaltung

طالبان کی حمایت میں برقعہ پیش خواتین بھی سڑکوں پر نکلی ہیں

اس دوران مختلف مقامات پر مظاہروں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ایسا بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ ان مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے سخت کارروائی بھی کی گئی اور ان میں کئی جگہوں پر ہلاکتیں بھی ہوئیں تھیں لیکن اس بابت مصدقہ اطلاعات دستیاب نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ نے گزشتہ جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بتدریج پرامن مظاہروں کو منتشر کرتے وقت طالبان کا ردعمل متشددانہ ہوتا جا رہا ہے۔

ع ح/ ع ا (روئٹرز)