طالبان کے نئے مذہبی ضوابط، خواتین فنکاروں کو ٹی وی پر نہ دکھانے کی ہدایات | حالات حاضرہ | DW | 22.11.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان کے نئے مذہبی ضوابط، خواتین فنکاروں کو ٹی وی پر نہ دکھانے کی ہدایات

طالبان حکومت نے ٹی وی چینلوں کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی پروگرام نشر نہ کیا جائے،جس میں خواتین نے اداکاری کی ہو۔ طالبان کا کہنا ہے کہ یہ ہدایت لازمی تو نہیں لیکن 'مذہبی گائیڈ لائن‘  ضرور ہے۔

طالبان حکام نے اتوار کے روز متعدد 'مذہبی ہدایات‘جاری کیں۔ ان میں دیگر کے علاوہ افغانستان کے ٹیلی وژن چینلوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسا کوئی ڈرامہ نشر نہ کریں، جن میں خواتین نے اداکاری کی ہو۔ یہ ہدایت نامہ قدامت پسند طالبان حکومت کی وزارت دعوت و ارشاد امربالمعروف ونہی عن المنکر کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جو ملک میں میڈیا نیٹ ورکس کے لیے اپنی نوعیت کی اولین ہدایات ہیں۔

یہ نئے اصول و ضوابط طالبان کے ان وعدوں کے باوجود جاری کیے گئے ہیں کہ وہ اس مرتبہ اپنے دور اقتدار میں زیادہ اعتدال پسندی کا مظاہرہ کریں گے۔ 20 برس قبل جب وہ اقتدار میں تھے تو انہوں نے خواتین کے حقوق کو بری طرح پامال کیا تھا۔

گائیڈ لائنس میں کیا کہا گیا ہے؟

وزارت نے کہا کہ ایسی فلموں یا ڈراموں پر پابندی عائد کردی جائے گی جو اسلامی یا افغان قدروں کے منافی ہوں گے۔ ان میں وہ پروگرام بھی شامل ہیں جن میں پیغمبر اسلام یا کسی دیگر مقدس مذہبی شخصیت کی نقل کی گئی ہو۔ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ خواتین صحافیوں کو ٹی وی پر خبریں پیش کرتے ہوئے حجاب پہننا ہوگا۔

وزارت نے مزید کہا ہے کہ مردوں کے جسم  کی نمائش کو بھی نامناسب سمجھا جائے گا۔ وزارت کے ترجمان حاکف مہاجر نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،''یہ کوئی حکم نہیں ہیں بلکہ یہ صرف مذہبی ہدایات ہیں۔"

طالبان کے ایک اور ترجمان نے ہسپانوی خبر رساں ایجنسی ای ایف ای سے بات چیت کرتے ہوئے ہدایت نامے جاری کیے جانے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے کہا کہ یہ لازمی نہیں ہیں بلکہ یہ ایک مشورہ ہے۔ ان کے بقول ٹیلی وژن چینلوں کو اپنی نشریات کے دوران ان ہدایات کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

میڈیا کے ساتھ طالبان کے رشتے

امریکا کی قیادت والی فورسز کی جانب سے اقتدار سے ہٹا دیے جانے کے 20 برس بعد طالبان نے اگست میں افغانستان پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔ اپنے سابقہ دور حکومت کے دوران طالبان نے ٹیلی وژن اور فلموں نیز میڈیا کے بیشتر ذرائع پر تقریباً مکمل پابندی عائد کردی تھی۔ اس وقت صرف وائس آف شریعہ ریڈیو کو اجازت حاصل تھی۔ یہی واحد ذریعہ تھا لیکن وہ صرف اسلامی پروگرام نشر کرتا تھا۔

پچھلے دو عشروں کے دوران افغانستان میں ابلاغ کو نسبتاً کافی حد تک آزادی مل گئی تھی۔ کئی ملکی ٹی وی چینل شروع ہوگئے تھے، جو مختلف طرح کے پروگرام نشرکیا کرتے تھے۔ ان میں رقص و موسیقی کے پروگراموں کے علاوہ ترکی اور بھارت سے برآمد کردہ ٹیلی وژن ڈرامے بھی شامل تھے۔

اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے کہا تھا کہ وہ پہلے کے مقابلے کافی بدل چکے ہیں اور اعتدال پسندی کا رویہ اپنائیں گے۔ لیکن یکے بعد دیگر ایسے ضابطے نافذ کیے جارہے ہیں جن سے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی فکر مندیاں بڑھ گئی ہیں۔

 ج ا/     (اے ایف پی، ای ایف ای)

ویڈیو دیکھیے 03:00

’افغان خواتين کو اپنے حقوق کے ليے لڑنا ہو گا‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات