طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ آخونزادہ زندہ ہیں یا مردہ؟ | حالات حاضرہ | DW | 03.12.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ آخونزادہ زندہ ہیں یا مردہ؟

طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ آخونزادہ کے متعلق اسرار مزید گہرا گیا ہے۔ اب بھی یہ پوری طرح واضح نہیں ہے کہ طالبان کی قیادت کون کر رہا ہے۔ اس دوران ایسی خبریں ہیں کہ "امیرالمونین "نے قندھار میں ایک مدرسے میں خطاب کیا۔

 ہیبت اللہ آخونزادہ

ہیبت اللہ آخونزادہ

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے طالبان کے روپوش سپریم لیڈر ہیبت اللہ آخونزادہ کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میں پتہ لگانے کی بھرپور کوشش کی تاہم کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔

طالبان کے ترجمان کے اس دعوے کے دو ماہ بعد، کہ آخونزادہ زندہ ہیں اور قندھار میں ہیں، 30 اکتوبر کو یہ افواہ پھیل گئی کہ "امیرالمومنین " نے قندھار کے ایک مدرسے میں خطاب کیا۔ طالبان کے عہدیداروں نے بھی حکیمیہ مدرسہ میں ان کی تقریر کی تصدیق کی اور تقریباً دس منٹ کی ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی جاری کی۔

اس آڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ لڑکھڑاتی ہوئی آواز آخونزادہ کی ہے۔ جس میں وہ کہہ رہے ہیں " اللہ افغانستان کے مظلوم عوام کو اجر عظیم عطا کرے جنہوں نے 20 برس تک کافروں اور ظالموں سے مقابلہ کیا۔"

ماضی میں اسلامی تہواروں کے موقع پر ان کے پیغامات بالعموم تحریری شکل میں ہوتے تھے جو پڑھ کر سنائے جاتے تھے۔

30اکتوبر کے بعد سے ہی مدرسہ حکیمیہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ طالبان حامیوں کی بڑی تعداد اس مدرسے میں پہنچ رہی ہے۔ مدرسے کے نیلے اور سفید گیٹ کے باہر طالبان جنگجو محافظ بھی موجود ہیں۔

Taliban-Sprecher Sabiullah Mudschahid

طالبان کے ترجمان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعوی کیا تھا کہ آخونزادہ زندہ ہیں

'ہم انہیں دیکھ رہے تھے اور اشکبار تھے '

مدرسہ کی سیکورٹی کے سربراہ معصوم شکراللہ نے اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا جب "امیرالمومنین" یہاں آئے تو وہ مسلح تھے اور ان کے ساتھ تین سیکورٹی گارڈ بھی موجود تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مدرسے میں اس وقت موبائل فون اور ساونڈ ریکارڈر بھی لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

محمد نامی ایک 19سالہ طالب علم کا کہنا تھا،"ہم سب انہیں دیکھ رہے تھے اور اشکبار تھے۔"

جب محمد پوچھا گیا کہ کیا وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ آخونزادہ ہی تھے تو اس نے کہا وہ اور اس کے ساتھ خوشی کے مارے اتنے پر جوش تھے کہ وہ"ان کا چہرہ غور سے دیکھنا بھول گئے۔"

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغانستان میں امریکی ڈرون حملوں کی وجہ سے طالبان کے بیشتر بڑے رہنما عوامی طورپر بہت کم سامنے آئے۔ امریکا کے اسی طرح کے ایک حملے میں اپنے پیش رو ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد آخونزادہ 2016 میں طالبان کے سپریم لیڈر بنائے گئے۔ انہوں نے جلد ہی القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی حمایت حاصل کرلی، جنہوں نے انہیں "امیرالمومنین "کا لقب دیا۔

طالبان نے گزشتہ پانچ برس کے دوران آخونزادہ کی صرف ایک تصویر جاری کی ہے، جب وہ اس عسکری تنظیم کے سربراہ کا عہدہ سنبھال رہے تھے۔ لیکن طالبان کے مطابق یہ تصویر بھی دو دہائی قبل اتاری گئی تھی۔ اس تصویر میں وہ بھورے بالوں اور سفید پگڑی میں نظر آ رہے ہیں۔

حکیمیہ مدرسہ،جہاں آخونزادہ نے مبینہ طور پر تقریر کی، کے مہتمم مولوی سعید احمد کہتے ہیں کہ "امیرالمومنین" کے منظر عام پر آنے کے بعد ان کی موت کے حوالے سے "افواہیں اور پروپیگنڈہ" ختم ہو چکا ہے۔

محمد موسیٰ نامی ایک 13سالہ طالب علم، جس نے آخونزادہ کو دور سے دیکھا تھا، کہا کہ وہ بالکل ویسے ہی لگ رہے تھے جیسے کہ معروف تصویر میں دکھائی دیتے ہیں۔

Taliban-Propaganda

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ آخونزادہ پاکستان کے کوئٹہ شہر میں ایک خود کش حملے میں اپنے بھائی کے ساتھ مارے گئے تھے

'آخونزادہ بہت پہلے مرچکے ہیں '

افغانستان کی برطرف حکومت کے عہدیداروں اور مغربی ملکو ں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آخونزادہ کی موت کئی برس قبل ہی ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مدرسے کا دورہ ایک بہترین اندازمیں ترتیب دیے گئے ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں۔ وہ اس کی دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ طالبان کے بانی ملا عمر کی موت 2013 میں ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود طالبان انہیں دو برس تک زندہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

سابقہ افغان حکومت کے ایک سیکورٹی اہلکار نے اے ایف پی سے با ت چیت کرتے ہوئے کہا کہ آخونزادہ بھی "بہت پہلے مر چکے ہیں اور کابل پر طالبان کے قبضے میں ان کا کوئی رول نہیں تھا۔"

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ آخونزادہ تقریبا ً تین برس قبل پاکستان کے کوئٹہ شہر میں ایک خود کش حملے میں اپنے بھائی کے ساتھ مارے گئے تھے۔

متعدد غیر ملکی انٹلیجنس ایجنسیاں بھی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اس تھیوری پر یقین کرتی ہیں۔

ایک دیگر سیکورٹی افسر نے اے ایف پی سے کہا، "کوئی بھی شخص آخونزادہ کی موت کی نہ تو تصدیق کرسکتا ہے اور نہ ہی ان کی مبینہ موت کی تردید۔"

دریں اثنا  پینٹاگون اور سی آئی اے نے آخونزادہ کی موت کے حوالے سے تبصرہ کرنے کی اے ایف پی کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

Katar | Taliban Vertreter in Doha

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اعلان کردیا گیا کہ آخونزادہ اب نہیں رہے تو طالبان میں پھوٹ پڑسکتی ہے

'مرکز کشش'

پاکستان میں مقیم طالبان کے ایک رکن نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آخونزادہ "پورے گروپ کو متحد رکھنے کے معاملے میں طالبان کے لیے مرکز کشش ہیں۔"

سپریم لیڈر سے تین مرتبہ ملاقات کرنے کا دعوی کرنے والے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ آخونزادہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کرتے۔ وہ طالبان کے رہنماوں کے ساتھ یا تو لینڈ لائن فون کے ذریعہ یا پھر خطوط کے ذریعہ رابطہ رکھتے ہیں۔

ایک پاکستانی ذرائع کا کہنا تھا کہ کابل پر آخری حملے کی اجازت آخونزادہ نے خود دی تھی اور وہ طالبان کی پیش قدمی پر قندھار سے مسلسل نگاہ رکھے ہوئے تھے۔

طالبان کے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکیوں کے ساتھ جنگ ختم ہوجانے کے باوجود آخونزادہ کو ہلاک کردیے جانے کا خطرہ بہر حال برقرار ہے اس لیے وہ عوام میں سامنے نہیں آتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہیبت اللہ آخونزادہ کی اگر موت ہو بھی چکی ہے تب بھی اس خبر کو اس لیے چھپا کر رکھا گیا ہے کیونکہ ان کی موت کی خبر سے طالبان میں پھوٹ پڑسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، "اگر یہ اعلان کردیا گیا کہ آخونزادہ اب نہیں رہے اور کسی نئے امیر کی تلاش ہو رہی ہے تو طالبان میں پھوٹ پڑسکتی ہے اور داعش (خراسان) اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

 ج ا/ ص ز  (اے ایف پی)

DW.COM